سول ملٹری تعلقات کا جائزہ
- منگل 08 / ستمبر / 2015
- 4534
پاکستان میں سویلین حکمرانوں اور فوج کے باہمی تعلقات کی نوعیت ہمیشہ سے حساس اور پیچیدہ رہی ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہونے والا فوجی اثرورسوخ ہنوز جاری ہے ۔ پاکستان کی68 سالہ تاریخ میں عوامی بالادستی کا دور صرف بھٹو حکومت کے6 سالوں 1971-1977)) تک محدود ہے۔ باقی ماندہ عرصے میں کبھی فوج براہ راست اقتدار کے مسند پر فائز رہی تو کبھی بالواسطہ طریقے سے اقتدار فوجی صدور کی ذات کے گرد طواف کرتا رہا۔ کبھی پارلیمانی حکومت کے تحت غیرپارلیمانی طاقتوں(سول بیوروکریسی) کی حکمرانی رہی تو کبھی سول حکومت میں فوج کے غیر رسمی مگر مؤثرکردار کی باز گشت واضح سنائی دیتی رہی ہے۔
2013ء سے اب تک سول ملٹری تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اب تک کئی نشیب و فراز آچکے ہیں۔ نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بنتے ہی انڈیا سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے وہ دونوں محازوں پر کامیاب نہ ہو سکے۔ پرویز مشرف کوآرٹیکل 6 کے تحت سزا دلوانے کی کوشش اور حامد میر ایشو پر اسٹیبلشمنٹ کے مؤقف کی حمایت نہ کرنے پرفوجی حلقوں میں نواز حکومت کے خلاف ناپسندیدگی پیدا ہوئی۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو ایکسٹینشن نہ ملنے پرمقتدر حلقوں کی جانب سے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کو سپورٹ کیا گیا۔ اگرچہ دھرنوں سے نواز حکومت کو گھر تو نہ بھیجا جا سکا لیکن اسٹیبلشمنٹ دھرنوں کی آڑ میں نواز شریف کی مضبوط ترین سیاسی حکومت کو کمزور ترین کرتے ہوئے تمام اہم معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب رہی۔ سانحہ پشاور کے بعد فوجی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد سول حکومت کی معاملات پر گرفت مزید کمزور ہوگئی۔
بلوچستان میں تو خیر ایک عرصے سے تمام اہم معاملات ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ لیکن اب سندھ کے معاملات میں بھی صوبائی حکومت بے بس نظر آ رہی ہے۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کوپنجاب میں بھی انتہا پسند مذہبی گروہوں اور ان کے پشت پناہی کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ پنجاب میں نیب اور ایف آئی اے بھی متحرک ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کیخلاف کاروائی کے بعد وزیراعلی پنجاب کے دانش سکولز سے متعلقہ ریکارڈ کی چھان بین بھی شروع ہوگئی ہے۔ پنجاب میں مذہبی انتہاپسندوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیوں سے سیکورٹی ادارے اور وفاقی ایجنسیاں یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں کہ وہ دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف پورے ملک میں بلا امتیاز کاروائیاں کر رہی ہیں۔
کراچی آپریشن سمیت نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والی کاروائیاں سول حکومت کی منظوری سے ہو رہی ہیں لیکن تعریف و تحسین صرف راحیل شریف کے حصے میں آرہی ہے۔ جبکہ طعن و تشنیع کا نشانہ نواز شریف بن رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں ملنی والی کامیابیاں ہوں یا بلوچستان میں فراریوں کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ، کراچی میں جرائم پیشہ افراد کی پکڑ دھکڑ کا معاملہ ہو یا سیاسی جماعتوں کے عسکری گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد کو زیرحراست لینے کی شروعات، ملک اسحاق کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کا معاملہ ہو یا نیب اور ایف آئی اے کے تحت پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کے خلاف کرپشن کیسز ، ہرمعاملے کا سہرا راحیل شریف کے سر سجا کر" شکریہ راحیل شریف " کی صدائیں بلند ہو نے لگتی ہیں۔
بظاہر آئیڈیل نظر آنے والے سول ملٹری تعلقات کا پہلا بڑا امتحان نومبر 2016میں ہوگا۔ یاد رہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تین سالہ آئینی مدت نومبر2016کو ختم ہو رہی ہے۔ نواز شریف جیسے تیسے کرکے راحیل شریف کی بقیہ ایک سالہ مدت پوری ہونے کے انتظار میں ہیں۔ راحیل شریف ضرب عضب کے ساتھ ساتھ کراچی اور بلوچستان میں جاری آپریشنز کو جس کامیابی سے ہینڈل کر رہے ہیں، اس کو سامنے رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے حواری حلقوں کی جانب سے انکی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ سامنے آنے کے واضح امکانات ہیں۔ نواز حکومت کا سب سے بڑا کڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ ایک سال بعد آرمی چیف کی متوقع ایکسٹینشن کے معاملے کو کس خوش اسلوبی سے ہینڈل کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے اپنے دور میں مفاہمت کے نام پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ضرورتوں اورمطالبات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کو خوش رکھ کرپانچ سال پورے کئے۔ اگرچہ نواز شریف نے شروع میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو کم کرنے کے لئے کافی کوششیں کیں لیکن آج وہ بھی فوجی جنتا کو راضی رکھنے کے لیے زرداری کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں ۔
اس وقت ملک کے تمام اہم معاملات ملٹری اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے جبکہ سول حکومت کا دائرہ کار وقت کے ساتھ ساتھ محدود ہوتا جا رہا ہے۔2013ء کے نواز شریف اور آج کے نواز شریف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ 2013ء کا نواز شریف مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سزا دلوا کر فوج کی سیاسی مداخلت کا باب ختم کرنے کے بارے پرعزم تھا۔ لیکن آج کا نواز شریف کیلنڈر پر نظریں جمائے راحیل شریف کی آئینی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔