انسانی زندگی کا احترام
- جمعہ 11 / ستمبر / 2015
- 4713
انسانی تمدن کی بنیاد جن قوانین پر قائم ہے اس میں اولین جان کو احترام دیا گیا ہے۔ یعنی انسان کے تمدنی حق میں پہلا حق زندہ رہنے کو حاصل ہے۔ اس کے تمدنی فرائض میں بھی اول فرض زندہ رہنے دیے جانے کا فرض ہی ہے ۔ آپ اس بات سے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی شریعتیں اور مہذب قانون موجود ہیں ان میں احترام زندگی کا قانون ضرور موجود ہے۔
البتہ جن قوانین یا مذاہب میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا وہ عقیدہ انسانوں کا قانون تو بن سکتا ہے لیکن اس کے ماتحت رہ کر کوئی انسان یا انسانی گروہ پرامن زندگی نہیں گذار سکتا ہے ۔ یہ بات ہر عاقل و باشعور شخص سمجھ سکتا ہے کہ جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ ہو ، اس کا کوئی احترام نہ ہو اور نہ ہی حفاظت یعنی امان کا بندوبست نہ ہو، وہاں کیسے چند افراد مل کر رہ سکتے ہیں۔ ان میں باہم کاروبار یا دیگر معاملات بحسن و خوبی انجام نہیں پاسکتے ۔ ہر شحص کو تجارت، صنعت کا ری ، گھر داری ، سیر وتفریح اور متمدن زندگی گذارنے کی ضروت ہوتی ہے ۔
اگر ضروریات زندگی سے قطع نظر خالص انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس لحاظ سے بھی کسی ذاتی فائدے کی خاطر یا کسی ذاتی عداوت کے لئے کسی دوسرے انسان کو قتل کرنا بدترین سنگدلی ہے ۔ دنیا کے سیاسی قوانین تو احترام حیات انسانی کو صرف سزا اور قوت کے زور سے قائم کرتے ہیں لیکن ایک سچے اور حقیقی مذہب کاکام تو دلوں میں اس کی درست قدر و قیمت کا پیدا کرنا ہے۔ انسانی زندگی کے احترام کی موثر اور جامع تعلیم اسلام ہی میں دی گئی ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ انسانی جان کے احترام کی مختلف پیرائیوں میں نہایت دلنشین انداز میں تعلیم دی گئی ہے ۔ سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے دوبیٹوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا :
“ اسی بنیاد پر ہم نے بنی اسرائیل کو یہ لکھ دیا کہ جو کوئی کسی کی جان لے بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا زمین میں فساد کیا ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا۔ اور جس نے کسی کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی ۔ ان لوگوں کے پاس ہمارے رسول کھلی ہدایت لے کر آئے مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو زمین میں حد سے زیادہ تجاوز کرجاتے ہیں “۔
سورۃ الفرقان میں خدائے بزرگ و برتر نے اپنے نیک بندوں کی صفات اس طرح بیان کی ہیں کہ :
“وہ اس جان کو جسے اللہ نے محترم قرار دیا ہے ناحق ہلاک نہیں کرتے ۔اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ کئے کی سزا پائے گا “۔
اسی طرح سورۃ الانعام میں ارشاد ہؤا کہ:
“ اے محمد ﷺ ! کہو کہ آؤ میں تم کو بتاؤں اللہ نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ تم پر واجب ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، والدین سے نیک سلوک کرو، اپنی اولاد کو مفلسی اور تنگ دستی کے باعث قتل نہ کرو ، ہم جہا ں تم کو رزق دیتے ہیں ان کو بھی دیں گے۔ بدکاریوں کے قریب نہ بھٹکو خواہ چھپی ہو یا کھلی، کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے محترم قرار دیا ہو ہلاک نہ کرو سو ائے اس صورت میں کہ ایسا کرنا حق کا تقاضہ ہو ۔ اللہ نے ان باتوں کی تمہیں تاکید کی ہے ۔ شاید تم کو کچھ عقل آئے“۔
ان آیات میں وہ لوگ خاص طور سے مخاطب ہیں جن کے نزدیک انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور جواپنے ذاتی فائدے کی خاطر اولاد جیسی نعمت کو بھی قتل کردیتے ہیں ۔ احادیث مبارکہ میں کثرت سے اس قسم کے ارشادات پائے جاتے ہیں جن میں بے گناہوں کا خون بہانا بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے ۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور قتل نفس ، والدین کی نافرمانی اور جھوٹ بولنا “۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ بنی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : “ مومن اپنے دین کی وسعت میں اس وقت تک برابر رہتا ہے جب تک وہ کسی حرام خون کو نہیں بہا تا “۔
سنن نسائی میں حدیث ہے کہ: “ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب ہوگا وہ نمازہے اور پہلی چیز جس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان کیا جائے گا وہ خون کے دعوے ہونگے“ ۔
ایک مرتبہ ایک شخص بنی آخرالزمان کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کی کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو کسی کو اللہ کی نظیر و مثیل قرار دے ۔ اس نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے ۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اپنے بچے کو قتل کردے اس خیال سے کہ وہ تیرے کھانے میں شریک ہوگا۔ اس نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا گناہ ہے ۔ آپ نے فرمایا ۔ یہ کہ اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے ۔
حرمت نفس کی یہ تعلیم کسی فلسفی یا معلم اخلاق کی فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ در حقیقت رب کائنات اور نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات ہیں جن کا ہر لفظ کسی بھی صاحب ایمان کا جزوایمانی ہے اور جس کی تعمیل ، تلقین اور نفاذہر اس شخص پر فرض ہے جو کلمہ ء حق کا قائل ہے ۔
نبی ﷺ کی بعثت سے قبل عرب کے خونخوار ماحول میں انسانیت کا احترام اور امن پسندی کا نظام تباہ ہوچکا تھا۔ رحمت العالمین ﷺ کی نگرانی میں مہذب معاشرہ تشکیل پایا جس کا اثر چہار سو پھیل گیا اور اسلامی تعلیمات نے انسان کی بے شمار غلط کاریوں اور دیگر گمراہیوں کے ساتھ ساتھ انسانی جان کی بے قدری کا بھی خاتمہ کردیا۔ آج دنیاکے مہذب قوانین میں حرمت نفس کو وہ درجہ ملا ہے جو کسی بھی لحاظ سے کسی انقلا ب سے کم نہیں ہے ۔ قیدیوں اور غلاموں کو درندگی سے محفوظ کردیا ورنہ جاہلانہ عرب معاشرے میں قیدیوں اور غلاموں کو بھڑوا دیا جاتا تھا۔ یا اہل عرب انہیں جانوروں کی طرح ذبح کردیتے یا پھر ان کے جلنے کا تماشا برپا کرتے۔ گویا مختلف انداز میں ان لوگوں کو عذاب سے دوچار کیا جاتا تھا ۔
افسوس یہ ہے کاب ایک بار پھر وہی جاہلانہ کیفیت دکھائی دے رہی ہے ۔ دنیا بھر میں لوگ بغیر کسی وجہ اور اپنی ذاتی خواہشات کے لئے کشت وخون کا بازار گرم کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن مجید میں واضح فرمایا دیا گیا ہے کہ : “ انسانی جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اس کو قتل نہ کرو مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے “۔
یعنی صاف صاف بتادیا گیا ہے کہ انسانی جان کی حرمت اسی وقت تک ہے جب تک اس پر حق قائم نہ ہوجائے ۔ ہر شخص کواس وقت تک زندہ رہنے دیا جائے جب تک وہ معاشرے میں فتنہ و فساد یا انتشار پھیلانے میں اپنا حصہ نہ ادا کرے۔ یعنی اسے اس وقت تک امان حاصل ہے جب تک وہ کسی دوسرے کی جان پر ناحق حملہ نہ کردے ۔ اگر کسی بھی صورت میں ایسا ہوجائے تو گویا اس نے حرمت نفس کی نفی کی ہے ۔ اب اسے قتل کردینے کا حکم ہے ۔ اجتماعی تاریخ کا کوئی قانون و انصاف پسند معاشرہ اس سے انکار نہیں کرتا کہ دنیا کے اخلاقی قوانین میں انسانی جان کی حرمت قائم کرنے کا فخر جتنا اسلام کو حاصل ہے اتنا کسی اور مذہب کو حاصل نہیں ۔
ہم جب بھی کسی معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کی بات کرتے ہیں تو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہر شخص دوسرے کے حقوق کا ذمہ دار ہے ، چاہے وہ امیر ہو یا غریب ، صاحب ثروت ہو یا ایک عام آدمی۔ ہر ایک کے حقوق یکساں ہیں اور ان کا احترام کرنا دوسرے کیلئے فرض عین ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم مال و متاع اور جاہ و حشم کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ قانون کی عمل داری صرف غریب اور مفلس و محکوم افراد پر لاگو کی جاتی ہے ۔ حالانکہ عدل و انصاف کے پیمانوں میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ۔ ایک بار نبی کریم ﷺ کی خدمت میں فاطمہ نامی عورت کا مقدمہ پیش ہؤا۔ کئی معتبرین نے اس کے معاملہ میں سفارش کی مگر نبی محترم ﷺ نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اگر اس کی جگہ فاطمہؓ بنت محمد ﷺ بھی ہوتی تو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ۔
پاکستان پر گزشتہ دودہائی سے ایک پرائی جنگ مسلط ہے ۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث ملک تباہی کے دہانے پرآ کھڑا ہؤا ہے۔ تاہم نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے باعث امن و امان کی ملک گیر صورتحال بہتر ہورہی ہے ۔ معاشرے کو بدی سے بچانے کے لئے شر پسند قوتوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ اسلام اور عقیدے کے نام پر قتل و غارتگری کا پیغام عام کرتے ہیں، وہ خود ہی اس عقیدے کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔