شب خوں سے پہلے

  • سوموار 14 / ستمبر / 2015
  • 5691

ہماری دانست میں یہ کہنا کہ پاکستان بھارت کی محدود یا لامحدود جنگ کو پسپا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، یہ شریفانہ اور مہذبانہ کلام ہے۔ بھارت کو اس وقت ان کی زبان میں جواب دینا مناسب ہو گا۔ کیونکہ بھاررت راج اس وقت کسی موہوم گھمنڈ میں مبتلا ہے۔ بھارتی برآمدی پالیسی بہت مقبول ہے۔ لیکن بھارتی ریشہ دوانیاں اس کے وقار کے نزول کا سبب ہے۔ وہ وقار جو بھارت نے مدتوں میں تعمیر کیا اور جس کا سہرا وزیراعظم من موہن سنگھ کے سر ہے۔

انہوں نے اپنی حکمت عملی سے بھارت کا سر بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن حالیہ حکمت عملی کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم مودی نے تہیہ کر رکھا ہے بھارت کی عالمی سیاست کو جلد از جلد ریزہ ریزہ کرنا ہے۔ ان کی سیاست کسی تعمیری منزل کی طرف گامزن ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ان کی تخریب کاریاں ملک کے اندر اور سرحدوں کے باہر عیاں ہو رہی ہیں۔ سیاست دان آنے والے کا دنوں اور سالوں کا سوچتے ہیں۔ نئی منزلوں کی طرف جانے کا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ ہمنوا تلاش کرتے ہیں۔ ادراک کو بین الاقوامی ذررائع تک پہنچانے کی سعی کرتے ہیں اور اس کے تعمیری اور مثبت اثرات پر تکیہ کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت بھارت میں معاملہ دیگر ہے۔ وزیراعظم مودی کی کوتاہ نظری انہیں قوت کے اظہار کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس عمل کی تکمیل کے لئے انہیں پاکستان کمزور ہمسایہ نظر آتا ہے۔ ان کی دھمکیوں کی بنیاد مسئلہ کشمیر ہے۔ مسئلہ کشمیر مشترکہ ریشہ دوانیوں کا فسانہ ہے جس کی خشت اول برطانوی راج نے رکھی اور جب سے مسئلہ رینگ رہا ہے۔ آج یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کشمیر بھارت کے لئے ایک اور مہابھارتا کا درجہ رکھتا ہے:

تمہیں بھی زعم کہ مہابھارتا لڑی تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں

کشمیر کو مہابھارت بنانے میں بھارت کا دخل ضرورر ہے لیکن اس میں پاکستان کی کوتاہیوں سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان میں سیاست دانوں کا فقدان، ایک کے بعد ایک مارشل لا، حکمرانوں کی خودغرضیاں اور لوٹ کھسوٹ کی ایک طویل فہرست شامل ہے۔ جس سے پاکستان کو ایک کے بعد ایک چرکہ لگ رہا ہے۔ آج مملکت پاکستان کو وجود میں آئے 68 سال ہو چکے ہیں۔ لیکن عوام بدستورناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں۔ خود غرض راہبروں کی یلغار، علی باباﺅں کے اقتدار، چالیس چوروں کی لمبی قطار نے بھارت کو کشمیر کو مہابھارتا بنانے میں مدد دی ہے۔ کیونکہ ہمارے صدر مملکت سے لے کر جناب پٹواری تک سبھی بہتی گنگا میں غوطے لگاتے رہے اور مشرقی سرحدوں پر بیٹھے غنیم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹیل مل کے پاسبان سٹیل مل کھا گئے۔ قومی اڑان کے پاسبان قومی ایئرلائن کو ہڑپ کر گئے۔ ریلوے کے پاسبان ریلوے کو ہضم کر گئے اور ہذا القیاس.....

اس سال یوم شہدا کی تقریب میں ایک نیا ولولہ ایک نئی ترنگ دیکھنے میں آئی جس کی 14اگست کی تقریب سے ابتدا ہوتی ہے۔ عوام کا ولولہ دیدنی تھا اور پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تقریر کی خوب خوب پذیرائی ہوئی۔ انہوں نے درست کہا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ ایک نامکمل ایجنڈا ہے“۔ اشارہ مودی کی جنگ پرستی کی طرف تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کے تحفظ کا امین ہے۔

ہم نے اوپر مودی کی ریشہ دوانیوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان ریشہ دوانیوں میں کون کون اُن کا شریک کار ہے۔ فہرست وقت آنے پر منظر عام پر آئے گی لیکن فوری توجہ افغانستان کی طرف دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بخوبی علم ہے کہ افغانستان میں جنگی صلاحیت نہ تھی نہ ہے۔ افغانستان پر کبھی روس چڑھ دوڑتا ہے اور کبھی امریکہ۔ ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ امریکہ کے مکمل انخلا کے بعد اب افغانستان میں ” افغان وار لارڈز“ کا دور آنے والا ہے۔ لیکن کسی طور افغانستان کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں۔ افغانستان خود نہ سہی لیکن بھارت بڑی آسانی سے حکومت افغانستان کی رضامندی سے افغان ہوائی اڈے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن بھارت کو یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ ہمیں بھی شب خون مارنا آتا ہے:

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلوفر کی رنگ بدلتا ہے کیا