مسائل حج و عمرہ
- سوموار 14 / ستمبر / 2015
- 11658
حج کرنے کے تین طریقے ہیں ۔ نمبر 1۔ صرف حج کے ارادے سے جائے اور احرام صرف حج کی نیت کا کر کے باندھے اسے حج افراد کہتے ہیں۔ دوسری قسم ہے کہ عمرہ اور حج دو نوں کی نیت کر کے جائے اور احرام باندھتے وقت عمرہ اور حج کا اکٹھے احرام باندھ لے۔ اس کو حج قران کہتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں آدمی جب احرام باندھ لے گا تو اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک حج مکمل نہیں ہو جاتا ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ارادہ تو حج اور عمرہ دونوں کا ہی ہے مگر جب احرام با ندھنے لگے تو صرف عمرہ کی نیت کر کے احرام باندھے ۔ دل میں یہ بات اچھی طرح رکھ لے کہ آج میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں۔ انشاء اللہ العزیز حرمین شریفین پہنچ کر آٹھ ذوالحج سے حج کا احرام باندھوں گا اس کو حج تمتع کہتے ہیں عموما حجاج کرام حج تمتع ہی کرتے ہیں۔
عمرہ کی تیاری :۔ یاد رکھیں کہ عمرہ میں دوچیزیں فرض ہیں نمبر 1۔ احرام باندھنا نمبر 2۔طواف کرنا ۔ دوچیزیں واجب ہیں نمبر 1۔صفا اور مروا کے درمیان سعی کرنا نمبر2۔ سر کے بال منڈوانا یا کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا ترشوانا ۔ عمرہ کااحرام باندھنے سے پہلے بال تراشنے کی ضرور ت ہو توکرالیں ،
احرام باندھنے کاطریقہ :۔ احرام میں دو چادریں سفید بغیر سلی ہوئی استعمال کی جاتی ہیں۔سب سے پہلے غسل کریں اگروقت نہ ہواوراپنے ہر طرح سے پاک ہونے کا یقین بھی ہو تو صرف وضوکرلیں۔ایک چادرناف تک نچلے دھڑپرباندھ لیں اورایک چادراوپرکے دھڑ پرلپیٹ لیں۔سر ڈھانپ کر عمرہ کے نفلوں کی نیت کر کے دو رکعت نماز نفل پڑھیں۔ جب سلام پھیریں اسی وقت سر کو ننگا کر لیں۔ اور بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں۔ لَبَّیک اَلّٰھُمَّ لَبَّیک لَبَّیک لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِ یکَ لَکَ۔ اس تلبیہ کو سفر عمرہ کے دوران بار بار پڑھتے رہنا ہے ۔جب طواف شروع کرنے لگے توپڑھنا بندکردے۔
احرام باندھنے کے بعد پابندیاں۔ احرام باندھنے کے بعدزبان سے کسی قسم کی فسق و فجورکی بات، گالی گلو چ نہیں کر سکتا ۔جنگ وجدل نہیں کرسکتا۔کسی جانورکاشکارنہیں کرسکتا ۔مکھی مچھر چیونٹی یا کسی بھی جاندار کو نہیں مار سکتا ۔سر کا ننگا رکھنا ضروری ہے۔ اور پاؤں میں ہوائی چپل پہنے یاایساجوتاجوصرف انگلیوں کوڈھانپے ابھرتی ہوئی ہڈی ننگی رہے۔ ہرقسم کی خوشبو لگا نا منع ہے۔ جسم کے کسی بھی حصے سے بال نا خن کٹانا اکھاڑنا منع ہے۔ غلطی سے بال ترشوانے یا نا خن کاٹنے سے دم دینا ہوگا یعنی بکرا یا دنبہ صدقہ کرنا پڑے گا۔
طواف کا طریقہ :۔بیت اللہ شریف اورسا تھ چھٹی ہوئی خالی جگہ حطیم کواندرلے کراردگردسات چکرلگانے کو ایک طواف کہتے ہیں۔ طواف کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آسانی سے ممکن ہو تو حجر اسود کے پاس جا کر دونوں ہا تھ حجر اسود پر رکھ کر دونوں ہونٹوں سے حجر اسود کو بوسہ دے ۔ اگر دھکم پیل کا خطرہ ہو تو قطعا ایسا نہ کرے ۔حجر اسود چومنے کے لئے دھینگا مشتی کرنا سخت گناہ ہے۔بس حجر اسود کا رخ کر کے کھڑے ہو کر تلبیہ پڑھنا بند کر دے ۔ مرد حضرات احرام والی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیں۔ اس کو اضطباع کہتے ہیں۔ یعنی دائیں کندھے کو ننگا رکھنا ۔ اب رخ حجر اسود کی طرف کر کے یعنی سینہ اور منہ حجر اسود کی طرف موڑ کر حجر اسود کا استقبال کریں ۔ اور یہ دعا مناسب اونچی آواز سے پڑھیں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ
اَ اللّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد یہ کہتے ہوئے دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھا کرنیچے کرے پھر حجر اسود کا استلام کرے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کی طرف دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیاں کر کے اسے چوم لے اوردائیں طرف رخ بدل کر طواف شروع کر دے ۔ پہلے تین چکروں میں مردوں کو رمل کرنا ضروری ہے۔کہ سینہ نکال کر اکڑتے ہوئے دونوں شانوں کو ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم بھرتے ہوئے طواف کرے۔ یہ رمل صرف پہلے تین چکروں میں کیا جاتا ہے۔ بعد کے چار چکر عام طریقے سے چل پورے کئے جاتے ہیں۔ جب بیت اللہ شریف کا ایک چکر پورا ہو جائے اور دوبارہ حجر اسود سامنے آ جائے تو سینہ اور منہ پھر حجر اسود کی طرف کریں ۔ اور استلام کریں اب ہا تھ کانوں تک نہ لے جائیں بلکہ صرف ہتیھلیاں حجر اسود کی طرف کر کے انہیں چوم لیں اور پھر دائیں طرف مڑ کر دوسرا چکر شروع کر دے ۔اس طرح جب سات چکر پورے ہو جائیں تو آخری بار استلام کر کے گویا کہ ایک طواف میں استلام آٹھ دفعہ ہو جاے گا ۔اب حج اسود کے سامنے سے ہٹ کر دو نوں کندھوں کو دوبارہ ڈھانپ لیں۔اور ملتزم پرآکر یہ حجر اسود اور دروازہ بیت اللہ شریف کی درمیانی دیوار کو کہتے ہیں۔ یہاں خشوع خضوع سے دعا مانگے پھر پیچھے ہٹ کر جگہ مل جائے تو مقام ابراھیم کے پاس دو رکعت نماز نفل واجب الطواف پڑھیں۔
مقام ابراھیم کے پاس جگہ نہ ہو تو مسجد الحرام میں حہاں جگہ ملے وہیں پڑھ لیں۔ نوافل سے فارغ ہو کر حسب ضرورت آب زم زم جو پورے حرم پاک میں ہر جگہ دستیاب ہے، پئیں۔ اب دوسرے اہم عمل سعی صفاء مروہ کی تیاری کرے اور صفاء پہا ڑی پر آ جائیں۔ اتنے بلند ضرور ہوں کہ بیت اللہ شریف صاف نظر آ جائے ۔ اب قبلہ رو ہو کر دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھانے کی بجائے ایسے اٹھائیں جیسے دعا میں اٹھائے جاتے ہیں۔ پھر بلند آواز سے تین مرتبہ پڑھیں اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد۔ اور تیسرا کلمہ و چوتھا کلمہ و درود شریف پڑھ کر دعا مانگیں۔ اور مروہ کی طرف چل پڑیں ۔سعی کے دوران چوتھا کلمہ جو نماز کی کتابوں میں عام لکھا ہوا ہے، پڑھتے رہیں۔ جب صفاء سے چلیں گے تو تھوڑی دور سبز ستون آ جائیں گے وہاں بتیاں بھی سبز ہیں وہاں سے تیز چلنا شروع کردیں دوڑنا نہیں ہے مگر دوڑنے کے قریب تیز چلیں اور پڑھیں رَ بِّ ا غْفِرْ وَ ارْ حَمْ اِ نَّکَ اَنْتَ الْاَ عَزُّ الْاَ کْرَمُ۔ جب سبز بتیاں ختم ہو جائیں تو تیز چلنا بندکردیں۔ مروہ پر پہنچ کر ایک چکر پورا ہوگیا پھر صفاء کی طرف آ ئیں ۔ صفاء پر دوسرا چکر پورا ہو گیا ۔ اس طرح ساتواں چکر مروہ پرختم ہوجائے گا ۔ سعی سے فارغ ہو کر مسجد حرام میں دو رکعت نفل ادا کریں۔ اس کے بعد حجام کے پاس جائیں اور سر پر استرا پھروا دیں۔یا موٹی مشین سے بال منڈھوا دیں۔یادرکھیں کہ بالوں کو منڈھوانے کا کتروانے کی نسبت بہت زیادہ ثواب ہے۔ بعض لوگ غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ صرف ایک چھوٹی سی لٹ قینچی سے کاٹ لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایسا کرنے سے آدمی احرام سے نہیں نکلتا۔ کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا کٹوانا واجب ہے۔ سر منڈھوانے کے بعد عمرہ مکمل ہو گیا ۔ عورتیں تمام بالوں کو اکٹھے کرکے آخر سے انگلی کے پور کے برابر کاٹ لیں اس کے بعد غسل کریں اور عام کپڑے پہن لیں۔
حج کے پانچ دن اور ادائیگی حج کا آسان طریقہ:۔ حج میں تین چیزیں فرض ہیں جن کو ترتیب وار اداکرنا اور اس کے مخصوص مقام اور وقت پر ادا کرنا فرض ہے اگر ان میں سے کوئی فرض بھی چھوٹ گیاتوحج نہ ہوگا۔ اسکابدل کوئی چیزنہیں بن سکتی نمبر1۔حج کی نیت سے احرام باندھنا نمبر 2۔وقوف عرفات: نوذو الحج کوزوال آفتاب کے بعد صبح صادق تک عرفات میں ٹھہرنے کاوقت ہے۔اس دوران عرفات میں تھوڑاسا وقت بھی ٹھہرگیا تویہ فرض ادا ہوجائے گا ۔نمبر 3 ۔ طواف زیارت جس کا وقت 10 ذوالحج کی صبح سے 12ذوالحج کوغروب آفتاب تک ہے ۔اور یہ طواف قربانی اور سرمڈھوانے کے بعد کیا جاتا ہے ۔
حج کے واجبات چھ ہیں اگر کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کا ازالہ قربانی یا صدقہ سے ہوجاتا ہے۔واجبات یہ ہیں نمبر 1۔ وقوف مزدلفہ نمبر2۔سعی صفا مروا نمبر 3۔ رمی جمار یعنی کنکریاں مار نا نمبر 4۔ قربانی کرنا نمبر 5۔ حلق یا قصر کرنا یعنی بال منڈوانانمبر6۔طواف وداع کرنا ۔
حج کی سنتیں :۔ سنت کا مطلب ہوتا ہے کہ جس پر عمل کا بڑا ثواب ہے اور بلا وجہ ترک کرنا بری بات ہے۔ فرق صرف یہ ہے اگر سنت حج چھوٹ جائے تو کسی قسم کی جزا لازم نہیں آتی۔سنتیں یہ ہیں ۔طوقف قدوم کرنا یعنی منیٰ جانے سے پہلے طواف کرنا ۔سات ذوالحج کو بعد نماز فجر منیٰ کی طرف چلنا وہاں پانچ نمازیں پڑھنا ۔عرفہ کی رات منیٰ میں قیام کرنا ۔عرفہ کے دن طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے عرفات جانا۔ منیٰ سے مکہ واپس آتے ہوئے تھوڑی دیر محصب میں ٹھہرنا۔ امام کا خطبہ پڑھنا اور اسے سننا ۔ گیارہ تاریخ کو مسجد نمرہ میں جانا۔
یوم حج:۔آٹھ ذوالحج کی صبح کو اپنی قیام گاہ میں نہا دھوکر صاف ستھرے ہوکر صاف چادروں کا احرام باندھ لیں ۔وقت ملے تو ایک طواف بھی کرلے اور منیٰ کی طرف روانہ ہوجائیں۔ وہاں ظہر عصر مغرب عشاء اور رات کے قیام کے بعد نماز فجر ادا کرکے عرفات چلے جائیں مسجد نمرہ کے قریب کوشش کریں کہ قیام ہوجائے ۔اذان نماز ظہر کے بعد امام صاحب دوخطبے دیں گے ۔ پھر اقامت ہوگی ظہراور عصر دونوں نمازیں ملا کر ظہر کے وقت میں ادا کریں۔ ہر نماز کی اقامت جدا جدا ہوگی۔ عرفات کے قیام کے دوران تلبیہ پڑھتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اور پھر جو جو دل چاہے مانگ لیں۔ دل میں آئندہ کے لے تمام گناہوں سے توبہ کرلیں ۔غروب آفتاب کے بعدمزدلفہ آجائیں اورجبل قزح کے پاس قیام کریں۔ نماز عشاء کے وقت میں اذان اوراقامت کے بعدمغرب اورعشاء ملا کرپڑھیں۔یہ رات شب قدرسے بھی افضل ہے 10۔ذوالحج کونماز فجرمزدلفہ میں اداکرکے سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کی طرف چل پڑیں۔ ایک جمرے کی جسے جمرہ عقبہ اورعام زبان میں بڑاشیطان کہتے ہیں اسکی رمی کریں۔ یعنی سات کنکریاں اسے ماریں۔ بہترہے کہ زوال آفتاب سے پہلے رمی جمرہ عقبہ کردیں۔ واپس اپنے خیمہ میں آکر خود قربانی کرنا ہوتوقربان گاہ جاکراپنے ہاتھ سے قربانی کردے۔ اگربینک میں پیسے جمع کرائے ہیں تو جو و قت قربانی کا دیا گیاہے، اس کاانتظارکریں۔پھرسرکے بال منڈوالیں عورتیں سارے بال اکھٹے کرکے انگلی کے پور کے برابرکاٹ لیں۔اسکے بعدمکہ مکرمہ آکرطواف زیارت کریں اورسعی صفامروہ کریں۔اور واپس منیٰ چلے جائیں۔ وہاں گیارہ اوربارہ تاریخ کوتینوں جمرات کی رمی زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کریں۔سب سے پہلے جمرہ اولیٰ کی پھرجمرہ وسطہ کی پھرجمرہ عقبہ کی رمی کی جاتی ہے۔ اگربارہ ذوالحج کوغروب آفتاب سے پہلے منیٰ سے چلا آیاتودرست ہے اگرتیرہ ذوالحج کووہاں ٹھہرارہا تو پھر جمرات کی رمی کرنا پڑے گی۔ بارہ تاریخ کو واپس مکہ مکرمہ آجائے اور طواف وداع کی نیت کرکے طواف کر لے۔ الحمدللہ حاجی کا حج مکمل ہوگیا ۔
نابالغ بچوں کا حج :۔ جو بچے بڑے ہوں مگر ابھی با لغ نہیں ہوئے اور تمام ارکان ادا کرنے کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں تو والدین ان سے تمام ارکان حج اسی طرح اپنے سا تھ کراتے رہیں۔ جو بچے با لکل چھوٹے ہیں مگر دوڑتے پھرتے ہیں ان کو چا ہیے کہ دو چھو ٹی چھو ٹی چادریں احرام کی بندھوا دی جائیں۔ بچے کی جنایات یعنی ممنوعات احرام یا ممنوعات ارکان حج میں سے کوئی بھی چیز بلا عذر سرزد ہو گئی تو اس کی جزا یا کفارہ لا زم ہوگا۔ اگر کسی جانور کا شکار کیا تو اس کے بدلے میں اسی طر ح کا جانور وہاں خیرات کرنا پڑے گا ۔ مثلا ہرن شکار کیا تو بکرا یا دنبہ۔ نیل گائے شکار کی تو اس کے بدلے میں گائے ذبح کرنی پڑے گی۔ جوں ٹڈی مچھر مکھی مار دی تو ایک دو ریال صدقہ کر دے ۔ اگر سر کے بال داڑھی کے بال منڈھوا دیے یا ہاتھ پیروں کے نا خن کٹوا دئے یا سلہ ہوا کپڑا تمام دن پہنے رکھا ان حالتوں میں ایک بکرا یا دنبہ ذبح کرنا پڑے گا ۔ اگر خوشبو کا استعمال کیا پھر بھی یہ ہی جزا ہو گی اگر خوشبو بھی لگائی اور احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے تو دو جانور ذبح کرنے پڑیں گے۔