اسرائیلی عدالتوں کا قابل قدر انصاف
- منگل 15 / ستمبر / 2015
- 4260
کاش کہ ہم ایسے فیصلے کرنے کے قابل ہو جائیں۔ یہاں دو فیصلے ایسے بیان کروں گا جو انصاف پر مبنی اور حقیقی عدل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مگر یہ عدل و انصاف ہمارے ملک سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہے، جو ہمارا حقیقی دشمن ہے مگر اچھی چیز اور بات اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہعنا چاہیئے ۔ ایسی مثالیں قوموں کی ترقی اور اصلاح کا سبب بنتی ہیں۔
مغربی میڈیا ذرائع کے مطابق 2014 میں اسرائیل کی عدالت نے ملک کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرت کو رشوت لینے کے جرم میں چھ سال قید اور ایک لاکھ اکہتر ہزار سٹرلنگ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جج نے سابق وزیر اعظم کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم ستمبر کو جیل میں حاضر ہوں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان کے وکیل کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی مہلت بھی دی ہے۔ وہ کسی اسرائیلی حکومت کے پہلے سربراہ ہیں جنہیں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اڑسٹھ سالہ اولمرت کو ایک تعمیراتی منصوبے میں رشوت لینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ یروشلم کے تل ابیب ڈسٹرکٹ میں ’ہولی لینڈ ‘ کے نام سے اپارٹمنٹ بنانے کا تھا اور ایہود اولمرٹ پر، جو اس وقت یروشلم کے مےئر تھے ، الزام تھا کہ انہوں نے اس منصوبے کے سلسلہ میں پانچ لاکھ شیکل یا 86 ہزار پاؤنڈ لی تھی۔ اس طرح علاقہ کی درجہ بندی کے قانون تبدیل کر کے متنازع اپارٹمنٹ تعمیر کرنے کی راہ ہموار کی ۔ اسی منصوبے کی مد میں انہوں نے مزید 60 ہزار شیکل بھی وصول کئے۔ اس منصوبے میں بدعنوانی کے الزام میں دیگر دس افراد کو بھی سزائیں دی گئی ہیں ۔ ان لوگوں میں سرکاری اہلکار اور کچھ کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔ ان میں سے چھ کو تین سے سات سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔
جج ڈیوڈ روزن نے فیصلے میں کہا ہے کہ رشوت ایک ایسا جرم ہے جو سارے پبلک شعبے کو آلودہ کرتا اور حکومتی ڈھانچے کے انہدام کا سبب بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ رشوت لیتے ہیں وہ لوگوں میں تنفر اور سرکاری اداروں کے بارے میں بد اعتمادی اور مایوسی پیدا کرتے ہیں۔ راشی ایسے غدار ہوتے ہیں جو اس اعتماد کو مجروح کرتے ہیں جو لوگ ان پر کرتے ہیں۔ جب کہ اس اعتماد کے بغیر سرکاری شعبے کو چلایا ہی نہیں جا سکتا ۔جج کا کہنا تھا کہ ایہود اولمرت نے ملک کے لئے بڑی خدمات انجام دی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس معاملے میں ’ تہری اخلاقی گراوٹ‘ کے مرتکب ہوئے ہیں اور اسرائیلی قانون کے مطابق وہ سزا کاٹنے کے بعد سات سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے اہل نہیں ہوں گے ۔
اطلاعات کے مطابق جب فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو اولمرت تمام وقت سر جھکائے خاموش کھڑے رہے۔ تاہم ان کے وکیل نے فیصلے کے بعد حراست میں نہ لئے جانے کی درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔ ایہود اولمرت2006 سے 2009 تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہے۔ ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کا ایسا طوفان تھا کہ انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جب وہ صنعت و تجارت کے وزیر تھے تو انہوں نے ایسے اقدام کئے جن سے ان کے ساتھیوں کے مؤکلوں کو فوائد حاصل ہوئے۔
اسرائیل کے مشہور راہب یوشی یا ہو پینٹوکو نیشنل فراڈ اسکواڈ کے سربراہ کو رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر دو لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ راہب پینٹو نے اپنے ایک خیراتی ادارے کے بارے میں کی جانے والی پولیس کی تحقیقات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے عوض فراڈ سکواڈ کے سربراہ کو رشوت کی پیشکش کی تھی۔ان کا شمار اسرائیل کے امیر ترین راہبوں میں ہوتا ہے اور ان کے پیرو کاروں میں امریکی مشہور شخصیات اور کاروباری لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔ واضح رہے کہ یوشی یاہو پینٹو مراکش کے مشہور راہب ’اسرائیل ابو چاٹزا‘ جو بابا سالی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے کے پڑپوتے ہیں ۔ تل ابیب کی ایک عدالت میں راہب پینٹو نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور ایک اعلیٰ پولیس افسر جن کو وہ ماضی میں رشوت دے چکے ہیں کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے بھی تیار ہو گئے ہیں۔
کیا کبھی اس طرح بھی ہمارے ملک کے مولوی کو سزا دی گئی ہے؟ نہیں چونکہ ہم ڈرتے ہیں ۔ مقدمہ کی سماعت جیل میں جا کر کرتے ہیں۔ فیصلہ کے بعد جج کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کا فیصلہ سلمان تاثیر قتل کے ملزم ممتاز قادری کے کیس میں ہؤا۔ جو قومیں بلا امتیاز فیصلہ کرتی ہیں وہی ترقی پاتی ہیں۔ ہمارے بھی ملک کے کئی وزیر اعظموں اور صدور کے خلاف کرپشن کے الزامات احتساب عدالتوں اور کورٹس میں موجود ہیں جن میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت موجود ہیں۔ کیا ان کو بھی اسرائیلی عدالتوں کی طرح انصاف پر مبنی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔
ضرب عضب آپریشن کے ذریعہ سارے ملک میں جو عمل شروع ہے اور جواحتسابی عمل دیکھنے کو مل رہا ہے اور گرفتاریوں کا جو سلسلہ جاری ہے جس میں بڑے بڑے میگا اسکینڈل منظر عام پر آ رہے ہیں ۔ یہ معاملہ کہاں تک جائے گا اور عدلیہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ دیتی ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس کے لئے کسی نے اور کہیں سے تو شروعات کرنی تھی۔ الحمد للہ اب یہ کام شروع ہو گیا ہے ۔ اللہ کرے ہمارے با اختیار ادارے اور ججز بھی انصاف پر مبنی فیصلی کرنے کا کام شروع کردیں۔
اس سے قبل سال ہا سال عدالتوں میں کیسز چلنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے ضروری کہ اب بلا تفریق انصاف کا سلسلہ شروع ہو۔ وگرنہ پھر ہم اندھیروں، عداوتوں اور مایوسیوں کا شکار ہو جائیں گے ۔ یہ ایک امید کی کرن ہے، اسے روشن رہنا چاہئے۔ اگر ایسے عدل و انصاف کے فیصلے ہماری عدالتیں بھی دینا شروع کر دیں تو ہمارے کسی کرپٹ سیاستدان اور حکمران کو جرأت نہیں ہو گی کہ وہ گھناؤنے و مکروہ فعل میں ملوث ہوں۔
عدالتیں فیصلے کرتے وقت قرآن کریم اور سنت رسول کو پیش نظر رکھیں۔ بہر صورت عدل کا قیام نہایت ضروری ہے۔