اقوام متحدہ میں ایک مغربی جنگجو

  • جمعرات 17 / ستمبر / 2015
  • 4016

منگل کے روز سے ڈنمارک کے سوشل ڈیموکریٹ سابق پارلیمانی اسپیکر ماؤنس لکیٹافٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھال رہے ہیں ۔  عالمی اقوام کی خدمت کے لئے، اسے دنیا بھر میں ایک عظیم المرتب عہدہ قرار دیا جاتا ہے ۔

اِس تقرری کے حوالے سے ماؤنس لکیٹافٹ یہ کہہ چکے ہوئے ہیں کہ وہ عالمی پیشرفت پر بطور خاص توجہ مرکوز رکھیں گے اور اِس ضمن میں ’’ دانشمندانہ پیشرفت کا  2030 تک کے لئے مجوزہ ایجنڈے‘‘ کو ہر حال میں سامنے رکھتے ہوئے اِس پر عمل کے لیے اقدامات کریں گے۔  لکیٹافٹ عالمی ماحولیات کے متعلق، دسمبر میں پیریس میں ہونے والی کانفرنس کے دوران  ایک جرأت مندانہ عالمی معاہدے کے لئے  بھی جدوجہد کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خانہ جنگی سے متاثرہ شام کے لوگوں کے لئے بطور خاص اقدامات لینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے ۔

ماؤنس لکیٹافٹے کے ان دعوؤں کے برعکس  بائیں بازو کے ڈینش میڈیا میں اُن کی بڑی بھیانک تصویر کشی کی جارہی ہے۔ بائیں بازوکے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ ماؤنس لکیٹافٹے کی صورت میں ایک ’’ مغربی جنگجو ‘‘ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا عہدہ سنبھال رہا ہے کیونکہ  ماؤنس لکیٹافٹے نے 2013 میں ڈنمارک کو  جنگ میں جھونک دینے کے لئے کردار ادا کیا تھا ۔ اُن کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی اور وہ خود بلقان کی جنگ میں ملوث رہے ہیں۔  سوشل ڈیموکریٹ نے افغانستان کی جنگ کی حمایت کی تھی۔ پھر لیبیا میں بمباری کے لئے ماؤنس لکیٹافٹے اور ان کی پارٹی سب سے آگے رہی ہیں۔

شام میں  بیرونی جارحانہ مداخلت کرنے میں بھی اُن کی پارٹی اب تک ہر طرح کا ساتھ دے رہی ہے۔  جس کی وجہ سے اب شام  قتل و غارتگری کی ایسی صورت حال سے دوچار ہے کہ وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے یورپ تک پہنچنے شروع ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے بشمول ڈنمارک یورپی یونین کے سارے ملک ایک شدید بحران کا شکار ہو رہے ہیں ۔  حال میں ماؤنس لکیٹافٹے نے عراق میں  “ تجدید جنگ “ کی ڈینش عسکری حکمت عملی کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کئے گئے  اقوام متحدہ کے ادارے کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنا اور جنگ و جدل اور لڑائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لینا تھا ۔  اقوام متحدہ اپنے قائم ہونے کے ستر سال پورے کر چکی ہے ۔ اِس سارے عرصہ میں صرف چند ایک ایسی فتوحات میں  جن پر اقوام متحدہ کسی حد تک فخر کر سکتی ہے ۔ لیکن تنازعہ کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر اقوام متحدہ اب تک بری طرح ناکام و بے بس ہے ۔  اس کے ساتھ ہی   جنگیں، خانہ جنگیاں،  مسلح تنازعات،  بے گھر افراد اور  دنیا بھر  میں جوہری ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اقوام متحدہ کے لئے سنگین چیلنج رکھتے ہیں۔  

اقوام متحدہ دنیا میں طاقت کے توازن اور  تعلقات و روابط استوار کرنے کی علامت ہے۔ تاہم 1990 میں سوشلسٹ بلاک  غائب ہونے کے بعد سے  مغربی عسکری و استعماری قوتیں، امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو سب مل کر اپنی ایک “ عالمی بالا دستی “ قائم کر چکی ہیں۔  اسے مستحکم  رکھنے کے لئے امریکہ  و نیٹو کی سربراہی میں یہ قوتیں “ عالمی توانائی کے ذخائر اور خام مال “  پر قبضہ کے لئے  نئی راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں ۔

یہ بالکل منطقی امر ہے کہ  بظاہر ایک انسانی چہرہ رکھنے والے “ جنگجو “ ماؤنس لکیٹافٹے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےسکریٹری جنرل کے عہدے کی لئے منتخب کر لیا گیا ہے ۔ اِس سے پہلے ہم نے یہی ہتھکنڈے نیٹو کے سکریٹری جنرل کے انتخاب کے موقع پر اس وقت دیکھے تھے جب  ناروے کے سوشل ڈیموکریٹ ینس ستولنبرگ کو  اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ 

ہم بائیں بازو کے ڈینش اخبار سے اتفاق کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نئے صدر، ڈنمارک کے سوشل ڈیموکریٹ سابق پارلیمانی اسپیکر کو  اقوام متحدہ کے چارٹر کے تعارفی الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ : “ اقوام متحدہ کے لوگ اس پر متفق میں کہ آنے والی نسلوں کو جنگ و بربریت  کی لعنت سے نجات دلانے کے لئے کام کیا جائے گا “۔ 

ہم امید رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے اہم عہدے پر فائز ہونے کے بعد  ماؤنس لکیٹافٹےاپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئےاقوام متحدہ کے چارٹر کے اِس  نکتے کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے ۔  

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)