کرپشن کے خلاف جنگ
- ہفتہ 19 / ستمبر / 2015
- 4061
جب گدھا سنبھالا نہیں جا رہا تھا تو کسی عقل مند نے مشورہ دیا کہ کچھ بھی نہ کرو بس روزانہ اس کے سامنے جا کر ہاتھوں کو ایسے حرکت دو کہ زمین سے رسی اٹھا رہے ہو۔ اور خیالی طریقے سے ہی وہ رسی گدھے کے گلے میں ڈالو۔ اور حیران کن طریقے سے گدھا خیالی رسی کو قبول کر بیٹھا اور مالک کو تنگ کر نا چھوڑ دیا۔
پاکستانی قوم اور اس گدھے میں بہت کم فرق ہے( غصہ ہرگز نہ کیجئے گا کیوں کہ میں خود گدھوں کی اس قوم کا حصہ ہوں) ۔ جیسے گدھے کے لئے خیالی رسی ہی کافی ہوتی ہے ویسے ہی ہمارے لیے بحیثیت قوم خیالی دعوے، کھوکھلے نعرے ، اور شخصیت پرستی اور اب مردہ پرستی ہی کافی ہے۔ وطن عزیز میں شیدا قصائی اگر گوشت کے فی کلو دام 50 روپے زیادہ مانگ لے تو بات تھانے تک پہنچ جاتی ہے پورا محلہ اسے لعن طعن کر رہا ہے ہوتا ہے۔ جب کہ اس ملک کے راہنما اربوں لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں بھجوا دیں تو ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ بد عنوانی کے لئے تاویلیں دی جاتی ہیں۔ کرپشن کو " حلال" ثابت کرنے کے لئے دن رات ایک کر دئے جاتے ہیں۔
کیا کبھی ہمارے محترم " شاہ جی" کو کبھی معصوم بچوں سے زیادتی پر بھی جنگ کی سوجھی؟ کیا کبھی کوئی ایسا موقع بھی آیا کہ ہمارے کسی سیاستدان نے کہا ہو کہ بند توڑ کر غریبوں کو سیلاب میں بہا دینے والے کے خلاف بھی اب جنگ ہو گی؟ کیا کبھی آپ نے یہ دھمکی بھی سنی کہ ہمارے معزز سیاستدانوں میں سے کسی نے بھی کسی ماں کے حالات سے تنگ آ کر خو د کشی پراشرافیہ سے اینٹ سے اینٹ بجانے کا واویلا کیا ہو؟ کیا کبھی ہمیں جنگ کی پکار اس وقت سننے کو ملی جب معصوم بچوں کی عصمت دری کر کے لاشیں لٹکا دی جاتی ہیں؟ کیا کبھی اس وقت بر سر پیکار ہونے کا اعلان کیا گیا جب کسی مزدورصرف دیہاڑی نہ لگنے پہ اپنی سانسیں ختم کر لیں؟ کیا جنگ کے لئے زبانیں اس وقت تیز کی گئیں جب کبھی اقلیتوں کو خون میں نہلا یا گیا؟ کیا یہ جنگی ترانے اس وقت گائے گئے جب لوگ وطن عزیز کی سالمیت پر وار کرتے ہیں؟
ایسے مواقع پر ایسے نعرے اور دعوے سنائی نہیں دیتے۔ اگر ملتان کے مرشدوں پر ہاتھ پڑنے سے جنگ چھڑ سکتی ہے تو پھر توقیر صادق کے معاملہ پر کیوں توپوں کے دہانے خاموش ہو جاتے ہیں جو میڈیا پر آ کے کہہ رہے ہیں کہ 54ارب کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ صرف بات نہ ماننے کی سزا دی جا رہی ہے۔ کل کو اگر NICLسکینڈل میں ایاز خان کو سزا دی گئی تو شاید شاہ صاحب سمیت کوئی بھی جنگ کا اعلان نہیں کرے گا لیکن اگر اسی NICL سکینڈل میں سابق نائب وزیر اعظم کے سپوت کو بھی دھر لیا جائے تو پھر یہ انتقامی کاروائی ہو جائے گی ۔ اور یقیناًمعصوم شاہ 300 کروڑ کی کرپشن کرنے کے بعد معصومیت کی سند پانے کے قابل نہیں رہے لیکن ان کی پکڑ پر کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگے گی۔ لیکن اگر ان صاحب کی گردن کے گرد پھندا کسا جائے، جس کے یہ معصوم شاہ معاون خصوصی تھے تو شاید پورے ملک میں جانبداری کا شور بلند ہو ۔
اور ایم سی بی کی نجکاری کی طرف تو کبھی بھی کسی کا دھیان ہی نہیں جائے گا کیوں کہ یہ بھی انتقامی کاروائی ہو گی۔ اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ نواب اسلم رئیسانی پر ہاتھ پڑا تو جنگ چھڑنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا اسی لئے تو 100 ملین روپے سے زیادہ کے کیس پردھول بٹھانے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ ایسے موقع پر کوئی نہیں کہتا کہ کہ کرپشن تو کرپشن ہوتی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی دیکھیں کہ ایک خاتون سینیٹر پاکستان انٹرنیشل سکول جدہ کے فنڈز میں بھی خرد برد سے باز نہ آئیں۔ کل کلاں کو ان کے خلاف کاروائی ہوئی تو جنگ کا واویلا ضرور سننے کو ملے گا۔ صنفی امتیاز کا راگ بھی اپنی جگہ ہو گا۔
ملک کی تمام اسٹاک مارکیٹس کو ضم کرنے کا کارنامہ سر انجام دینے والے ڈار صاحب ایک اور حوالے سے بھی اہم ہیں۔ یہ واحد اہم شخصیت ہیں جن کے خلاف دائر کیس میں غیر ملکی کرنسی کا بھی عمل دخل ہے ۔ باقی تمام کرپشن کاروائی صرف پاکستانی روپوں میں ہے۔ " منظور کاکا " اور" چنوں ماموں " اس لحاظ سے بد قسمت رہے کہ ان کے خلاف کاروائی پر جنگ کی تیاری نہیں ہوئی۔ پاکستان کے ہر باشعور شہری کو اپنے علم میں اضافے کے لیے نیب کی سپریم کورٹ میں پیش کر دہ فہرست ضرور پڑھنی چاہیے۔ اور جنگ میں سیاستدانوں کا ہر اول دستہ بننے والے سیاسی کارکن بالخصوص اس کا مطالعہ کریں۔ افا قہ ہو گا۔
شیدا قصائی، مودا ڈینٹر، بالا موچی ، فرید تکے والا۔۔۔۔ ان تمام صاحبان کے لئے عرض ہے کہ آپ ہرگز اپنے خلاف ہونے والی کاروائی پر جنگ کا اعلان نہ کیجیے گا ۔ کیوں آپ لوگوں نے چند سو کی کرپشن کی ہو گی۔ اور اس ملک میں جتنی بڑی کرپشن ہو گی اتنی ہی بڑی سہولت ملے گی۔ اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں لگا لیجیے گا۔ جب گدھوں کی سی صفات رکھنے والی قوم(گدھوں اور دوسرے شریف جانوروں کا گوشت کھا کھا کر)، احتجاج میں اک زرداری سب پہ بھاری کے نعرے لگا رہی ہو گی ۔ اور کچھ بعید نہیں کہ پنجاب میں بھی احتجاج میں شیر آیا شیر آیا کے نعرے بلند ہو رہے ہوں ۔ جنگ کا اعلان یہاں بھی ضرور ہو گا کیوں کہ خبری کہتا ہے کہ " آہنی ہاتھ" کا دائرہ تو پھیلتا جا رہا ہے۔