آنسوﺅں کی لکیر

  • منگل 22 / ستمبر / 2015
  • 4699

شہنشاہیت آواز حق کے خلاف گلوٹین تصور کی جاتی ہے۔ جہاں انسانی حقوق یا انسانی آزادی موت کا پیغام گردانی جاتی ہے۔ حرف حق نہیں حرفِ شہنشاہ وقت کا قانون اور صحیفہ خداوندی تصور کیا جاتاہے۔

شام کے راندہ درگاہ انسانوں کا جم غفیر دیکھ کر، انسانی عظمت کو تار تار دیکھ کر، اس وقت اقوام عالم دہائی دے رہے ہیں۔ یہ  وہ لوگ ہیں کہ آج جن کا کوئی وطن نہیں۔ جن کی کوئی پہچان نہیں۔ جن کا کوئی کل نہیں۔ یہ لوگ بے پیراہن ہیں۔ یہ لوگ نانِ جویں کے محتاج ہیں، جن سے ان کا سائبان روٹھ گیا ہے۔ لیکن وہ زندہ ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے لخت جگر ان کی بانہوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ کچھ صحراﺅں کی نذر ہو گئے۔ جو بچ نکلے سمندروں نے انہیں نگل لیا۔ لیکن وہ آنسوﺅں کی لکیر بناتے جا رہے ہیں۔ زمین ان پر تنگ ہو گئی۔ ہنگری کی حکومت نے ان پر سارے دروازے بند کر دیئے۔ وہ کھلے آسمانوں تلے بسیرا کرنے پر مجبور ہو گئے۔

یہ شام کے باشندے ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کے باسی ہیں۔ یہ شہنشاہیت کی دوزخ کے مسافر ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کے باسی ہیں جس کی فضائیں اذان سے گونج رہی تھیں اور جس کی سرزمین پر پیغمبروں کے نقش قدم ثبت ہیں۔ وہ تاریخ کے سنہرے زمانوں کی یادگار ہیں۔ وہ عظمت رفتہ کے علم بردار ہیں۔ ان کی رگوں میں اب بھی فاتحین اور نمازیوں کا خون گردش کر رہا ہے:

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

اور آج وہ لوگ دربدرر ہیں جن کی گرفت سے آج اور کل دونوں چھوٹ چکے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کے درخشاں سورج کے باسی ہیں اور اب وہ موت کے اندھیروں کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ان پر مسلط کی گئی جنگ پیچھے رہ گئی ہے لیکن ان کی مصیبتوں کا اختتام ابھی دور ہے۔ جوں توں کر کے وہ یونان کے جزیرے لسبوس (Lesbos) پہنچے تو قسمت بدستور ان کے ہمراہ نہ تھی۔ یونانی پولیس نے سترہ ہزار پناہ گزینوں کو رجسٹر کر لیا لیکن بیس ہزار بدستور کھلے آسمان تلے انتظار کی اذیت میں سسک رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کے انخلا کیلئے یونانی حکومت نے مزید بحری جہازوں کا بندوبست کیا۔ جرمنی، آسٹریا اور سویڈن نے پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے اعلانات کئے ہیں۔ امریکہ کے کلیساﺅں نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کیلئے کپڑے، بوٹ، جرابیں اور کوٹ مہیا کریں۔ جن کی ترسیل یورپین ممالک کی طرف سے شروع ہو چکی ہے۔ ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ بعض یورپین ممالک اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہیں لیکن حتی المقدور اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ امریکہ نے دس ہزار پناہ گزینوں کو دعوت دے دی ہے۔

اب ہم مشرق وسطیٰ کی طرف ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں جس کو ہم نے ” آنسوﺅں کی لکیر“ کا نام دیا ہے اس کی ابتدا شام کے آگ کے شعلوں سے ہوتی ہے اور اب یہ ” آنسوﺅں کی لکیر“ ڈنمارک سے بھی آگے نکل گئی ہے۔

ہم بعد تاسف مشرق وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک اور آنسوﺅں کی لکیر نظر آنے لگتی ہے۔ ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ترکی، یونان، ہنگری، جرمنی، آسٹریا اور سویڈن نے پناہ گزینوں کے لئے اپنے در وَا کر دیئے ہیں اور حتی المقدور پناہ گزینوں کو جگہ دیں گے۔ لیکن دوسری طرف ہم مشرق وسطیٰ پر نظر دوڑاتے ہیں تو بار بار ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ سوائے ترکی کے مشرق وسطیٰ کو سانپ سونگھ گیا؟

وہ جبہ و دستار میں ملبوس ایران کہاں گیا۔ مسند نشین شاہان سعود کہاں ہیں؟ یمن، اومان، متحدہ عرب امارات اور قطر کہاں ہیں؟ عظیم انسانوں کی سلطنت مصر کہاں ہے؟ ہم تو یہ عرض کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ اگر یہ ممالک یعنی مسلمان ممالک ان بے گھر بے دَر شامی مسلمانوں کو گلے نہیں لگانا چاہتے تو کم از کم آواز بلند کریں، دنیا کو جھنجھوڑیں جس طرح برسلز میں 28 یورپین ممالک کی یونین نے آواز بلند کی۔

کیا ہم اسلام کے نام لیوا اب صرف تیل کے نام لیوا ہو کر رہ گئے ہیں اور شاہان مشرق وسطیٰ نے باہر سے آنے والے ہر صدا پر پہلے لگا دیئے ہیں:

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہر جاناں میں اب باصفا کون ہے
دستِ قاتل کے شایاں رہا کو ن ہے
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو