کلچر بدوش

  • سوموار 28 / ستمبر / 2015
  • 6725

یہ امر مسلمہ ہے کہ جب تارکین وطن اپنا وطن چھوڑ کر نئی زندگی کی تلاش میں نئے دیسوں کی راہ لیتے ہیں تو ان کا تخیل مختلف ہوتا ہے۔ وہ نئے دیس میں قدم جماتے ہیں، نئی زندگی کی ابتدا کرتے ہیں۔ ان کے چاروں طرف بکھری ہوئی دنیا انہیں مختلف نظر آتی ہے۔ اچانک ہی احساس جاگ اٹھتا ہے کہ وہ اس دیس میں اجنبی ہیں۔ وہ رفتہ رفتہ اپنے ہم وطنوں کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ وہ ایک ہی علاقے میں مکان لیتے ہیں اور دوسروں کو مکان حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہمیں یورپ، امریکہ اور افریقہ میں ایسی بستیاں دیکھنے کا اتفاق ہؤا جو دیار غیر کے دامن میں پیوند کا جلوہ دکھا رہی تھیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ نیویارک اور سان فرانسسکو جیسے جل تھل شہروں میں چائنا ٹاﺅن سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتاہے۔ اسی طرح امریکہ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی ایسے ہی پیوند جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ شکاگو کا لٹل اٹلی، یونان شہر، چائنا ٹاﺅن، اسی طرح کیوبا کے تارکین وطن نے فلوریڈا کے سفید ساحلوں پر جگہ جگہ لٹل ” ہوانا “ آباد کر رکھے ہیں۔ لاس اینجلس میں میکسیکو کے تارکین وطن کا تو پورے کا پورا شہر آباد ہے۔ ان کے اپنے بازار ہیں اور طعام گاہیں ہیں۔  برصغیر کے تارکین وطن نے بھی جگمگاتے بازار سجا رکھے ہیں جن میں گلاب جامن سے لے کر بنارسی ساڑھیاں تک دستیاب ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جب تارکین وطن اپنا وطن چھوڑتے ہیں تو اپنا کلچر ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل درست ہے۔ دانستہ یا نادانستہ، چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے، ان کی روایت ان کے کندھوں پر سوار ان کے ہم رکاب رہتی ہے۔ ان کے گھروں میں اپنے اپنے شہروں کی تزئین بولتی ہے۔ ان کے باوررچی خانوں سے روایتی مہک سرگرداں رہتی ہے۔ ان کی لائبریریوں میں مذہبی، تاریخی اور اپنے روایتی ادبی کتابوں کا ذخیرہ ہے۔ یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ میں چھوٹے بڑے شہروں میں مساجد، مندر، گوردوارے، سینی گاگ، مختلف ٹیمپل سرگرم عمل ہیں۔ یہ عبادت گاہیں عبادت کے علاوہ مختلف کلچرل تہواروں کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ شہر کے سماجی اڈے اور سوشل مراکز بھی ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ اگرچہ تارکین وطن اپنے کلچر سے دور ہو جاتے ہیں لیکن ان کا کلچر ان سے منہ نہیں موڑتا بلکہ پل پل ان کے ہمراہ رہتا ہے:

فقیہہ شہر کی مجلس نہیں کہ دور رہو
یہ بزم پیرمغاں ہے قریب آ جاﺅ

تارکین وطن میں کچھ زیادہ اور کچھ کم روایتی ہیں۔ لیکن روایت کی رمق سب میں پائی جاتی ہے اور چونکہ ہمارا تعلق پشاورسے ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی روایت پرست مخلوق ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے دوست ڈاکٹر امجد حسین کے فرزند کی شادی میں سارے کا سارا ماحول اپنا تھا۔ موسیقی، رقص، سج دھج لیکن جس چیز نے ہمیں متاثر کیا وہ بوفے کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں طعام شیریں کا بندوبست تھا۔ اس چھوٹے سے کمرے کے دروازے پر اردو میں لکھا بورڈ آویزاں تھا جس پر تحریر تھا ” حلوائی کی دکان “۔ اس دکان میں روایتی اشیا کے علاوہ گرم گرم جلیبیاں بھی تلی جا رہی تھیں۔ ایک اور شادی کا ذکر ہے کہ محفل کا ہال دوسو سے اوپر مہمانوں سے زرق برق نما، دولہا اسٹیج پر براجمان تھا لیکن دلہن نہ تھی۔

اچانک جھنکار کے ساتھ بینڈ ہال میں داخل ہؤا اور اس کے پیچھے زرق برق شیروانیوں میں ملبوس جوان بھائی بیٹے دلہن کی ڈولی اٹھائے ہال میں آئے تو  سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

ہال ہی میں ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر اشرف جاوید کے فرزند احمد کی شادی ہوورپول (انگلینڈ) میں ہوئی (جس میں ہمارے میزبان دوست ڈاکٹر امجد حسین اوہائیو (امریکہ) سے لیورپول سہرا پڑھنے کیلئے موجود تھے) وہاں بھی سارا ماحول اپنا ہی تھا ۔ اور تو اور وہاں گانے والوں کی ” ویل “ کا بھی بندوبست تھا۔ باقاعدہ روایت سنبھالنے کیلئے ” گانے والے ویل “ وصول کر کے باآواز بلند کہتے: ” چاچے شفقت دی ڈیڑھ پونڈ دی ویل “۔ ظاہر ہے سارا ماحول وطنی روایت سے جگمگا رہا تھا۔ پشاور بذات خود موجود تھا۔  ولیمہ کے ہال میں منفرد اہتمام دو سو سے اوپر مہمانوں کی میزوں پر پشاور کے اہم مقامات، گلیوں، محلوں کے نام اسٹینڈ میں سجائے گئے تھے۔ مثال کے طور پر ” شہباز دا کھو، مینابازار، بالاحصار چوک، یادگار، بازار کلاں“۔

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک