اسلام فوبیا ۔۔۔ نسل پرستی کی ایک شکل

  • جمعہ 02 / اکتوبر / 2015
  • 5001

یورپ اور امریکہ میں نسل پرستی مختلف اقسام اور شکلوں میں اپنا اظہار کرتی رہی ہے۔ یہودی اور جپسی عوام کو نسل اورعقیدے کی بنیاد پر منافرت، امتیازی برتاؤ اور پرتشدد بد سلوکی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انکی نسل کشی یورپین ممالک کی تاریخ پر بد نما دھبہ ہے جو مٹایا نہیں جا سکتا۔ 

ایشیا، افریقہ اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے امیگرینٹس کے خلاف رنگ، نسل اور عقیدہ کی بنیاد پرنسل پرستانہ منافرت اور امتیازی سلوک کی اپنی تاریخ ہے۔ اب مسلمان اس نسل پرستانہ متعصبانہ یلغار کی زد میں ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، بدسلوکی اور تشدد کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ خواتین کے سروں سے زبردستی حجاب کا اتارا جانا، مسلمانوں پر تھوکنے اور تمام مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے کئی واقعات تواخبارات میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

مغربی ممالک میں انسانی حقوق سے متعلق تنظیمیں، محققین، مصنفین اور صحافی مسلمانوں کے خلاف تعصب کو گذشتہ صدی میں یورپ میں یہودیوں کے خلاف نسل اورعقیدہ کی بنیاد پر روا رکھے گئی بد سلوکی سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم فوبیا دراصل ایشیائی اور افریقی اقوام کے امیگرینٹس کے خلاف نسل پرستی کا ہی ایک تسلسل کہا جا سکتا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نسل پرستانہ مسلم فوبیا کا واضع نشانہ عربی، ایشیائی یا افریقی پس منظر رکھنے والے بظاہر مسلمان نظر آنے والی خواتین یا مرد ہوتے ہیں۔ یہ سفید فام نسل پرستی کی وہ شکل ہے جسے “ انیٹی مسلم نسل پرستی “ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان کسی ایک نسل کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے خلاف منافرت اور امتیازی سلوک کو نسل پرستی نہیں کیا جا سکتا۔  یہاں یہ بات پوچھی جا سکتی ہے کہ کیا نسل پرستی اور مسلم فوبیا میں مماثلت ڈھونڈنا کوئی مشکل کام ہے۔ کیا تعصب، امتیازی برتاؤ اور منافرت ان میں مشترکہ اجزا نہیں ہیں۔                   

نارویجین سکالر اور محقق کورا الیکسا دوونگ لکھتی ہیں کہ 1970 کی دہائی سے نسل پرستی کے اظہار میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ میں یہاں واضع کرتا چلوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب ایشیا، افریقہ اور دیگر غیر سفید فام اقوام کے امیگرینٹس یورپ میں بڑی تعداد میں آنا شروع ہوئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ کو تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے افرادی قوت کی اشد ضرورت تھی، جس کے بغیر یورپین ممالک اتنی تیزی سے ترقی نہ کر پاتے جیسی ترقی اس وقت نظرآرہی ہے۔ کورا لکھتی ہیں کہ اپنے کلچر اور مذہب کو اعلیٰ اور برتر سمجھنا اور دوسرے کے کلچر اور مذہب کو کمتر کہنا بھی نسل پرستوں کا ایک وتیرہ ہے۔ جسے وہ بغیر نسل کے نسل پرستی کہتی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ نسل پرستی اور اسلام فوبیا کے اظہار کی اشکال میں یگانگت پائی جاتی ہے۔ کورا کا کہنا ہے کہ نسل پرستی اور اسلام فوبیا میں موجود مشترکہ اجزا کو مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت کا اظہار کہا جا سکتا ہے۔

مصنف متھیاس گادیل لکھتا ہے کہ اسلام فوبیا کو مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ سماجی رویوں کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس کو مسلمانوں کے خلاف ایسی سوچ اور کاروائی کہتا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو سماجی عمل سے خارج رکھنا اور انہیں امتیازی بد سلوکی کا نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ نسلی امتیاز کے خلاف یورپین کمشن کی ایک رپورٹ میں اسلام فوبیا کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تعصب اور نسل پرستی کی ایک قسم ہی کہا گیا ہے۔

میرے نزدیک یہ اہم نہیں کہ نسل پرستی اور مسلم فوبیا کی تھیوری میں کیا تعریف کی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نسل پرستی اور مسلم فوبیا کے عملی اظہار میں مماثلت پائی جاتی ہے یا نہیں۔ بے شک ان دونوں کے عملی اظہار یا انطباق میں بہت کم فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ دونوں کا طریقہ واردات ایک جیسا ہے۔ دونوں میں نفرت، تعصب، امتیازی رویہ اور تشدد کے مشترک اجزائے ترکیبی پائے جاتے ہیں۔ دونوں کسی انسانی گروہ کو نسل، رنگ، ثقافت یا عقیدہ کی بنیاد پر اپنی کاروایئوں کا نشانہ بناتے ہیں۔

ان ممالک میں رونما ہونے والے سینکڑوں واقعات میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تاکہ آپکو اندازہ ہو سکے کہ مسلم فوبیا کو نسل پرستی کی ایک قسم یا شکل کیوں کہہ رہا ہوں۔

1۔ چودہ سالہ احمد نے گھر میں ایک گھڑی بنائی جسے وہ اپنے ٹیچر کو دکھانے سکول لایا۔ مگر کلاس ٹیچر نے اسے دہشت گرد سمجھتے ہوئے سکول میں پولیس طلب کر کے اسے گرفتار کرا دیا۔ تفتیش کے بعد پولیس کو اسے رہا کرنا پڑا۔ احمد نہ صرف مسلمان ہے بلکہ افریقی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر گھر میں گھڑی بنانے کا کارنامہ کسی جانسن نام کے سفید فام طالب علم نے کیا ہوتا تو کیا کلاس ٹیچراسے بھی دہشت گرد سمجھ کر پولیس بلا تی اور کیا پولیس اسے بھی گرفتار کرتی۔ اس کا جواب ایک یقینی نہ میں ہی ہو سکتا ہے۔ بلکہ جانسن کو سکول انتظامیہ کی جانب سے انعام کا حق دار سمجھا جاتا۔ احمد کے ساتھ یہ واقعہ اس سال ستمبر میں ٹیکساس امریکہ میں پیش آیا۔

2۔ اس سال اگست میں اوسلو میٹرو پر ایک نارویجین عورت نے “ عائشہ “ پر اچانک گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ عائشہ پر چیخنے چلانے کا منظر کسی شخص نے موبائل فون پر فلمبند کر لیا۔ جسے سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ وہ عورت عائشہ پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتی رہی اور آخر میں بئر کا ڈبہ عائشہ کے سر پر پھینک کر اگلے میٹرو سٹیشن پر اتر گئی۔ کیا وہ عورت عائشہ پر تب بھی حملہ آور ہوتی اگر اس نے حجاب نہ پہنا ہوتا اور اسکا ظاہری حلیہ مسلمانوں جیسا نہ ہوتا۔

3۔ اس سال اگست میں اوسلو کے علاقے گروند لاند میں ایک نارویجین شخص “ آمنہ “ پر مکّوں سے حملہ کرنے والا تھا کہ لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

4۔ لندن میں ایک سفید فام نے “ عبدل “ پر تھوکا کیونکہ وہ اپنے ظاہری حلیے سے مسلمان لگتا تھا یعنی داڑھی والا عرب، پاکستانی یا ترکی وغیرہ ۔

5۔ اوسلو میں “ ثمینہ “ پر ایک نارویجین آدمی نے تھوکتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمانوں کو ذبح کر دیناچاہیے۔ اس شخص کو اس سال مارچ میں اوسلو سٹی کورٹ نے اس الزام کے تحت قید اور جرمانہ کی سزا سنائی

6۔ اس سال اوسلو میں دو نارویجین اور ایک انگریز پر ایک مسلمان کے خلاف نسل پرستی اور اس پر جسمانی تشدد کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں اس جرم میں سزا سنائی گئی۔ اس مقدمے میں نارویجین سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ مسلم شخص پر تشد د نسل پرستانہ کاروائی تھی اور یہ کہ مجرموں میں سے ایک کا تعلق نیو نازی گروہ سے ثابت ہو چکا ہے۔ 

ان سے ملتے چلتے سینکڑوں واقعات امریکہ اور یورپین ممالک میں رونما ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی ختم ہوتا نظر نیہں آتا۔ کیا ایسے واقعات  نسل پرستانہ منافرت اور تشدد کے زمرہ میں نہیں آتے۔ ہمیں نسل پرستی کا شکار لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ انکا کھل کر ساتھ دینا ہے اور نسل پرستی کا مداوا کرنے کی راہیں تلاش کرنی ہیں۔ 

محقیقن کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ کو غیر مغربی امیگرینٹس کے خلاف نسل پرستانہ امتیازی سلوک سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ اس پر متفق ہیں کہ مسلم فوبیا نسل پرستی ہی کی ایک شکل ہے جسے اینٹی مسلم نسل پرستی کہنا درست ہو گا۔ ان کی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب اکثر لوگوں کا تعلق نسل پرست اور نازی گروہوں سے ہوتا ہے۔

یہاں یہ نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ  9-11 فضائی خود کش حملوں سے قبل امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں سے نفرت یعنی مسلم فوبیا کا ذکر نہیں سنا گیا تھا۔ 9 -11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیازی برتاؤ اور تشدد کے واقعات وبا کے طرح امریکہ اور یورپی ممالک میں پھیل گئے۔ ناروے میں 1980 کی دہائی نسل پرستی میں بھی مسلم فوبیا نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ اس وقت ناروے میں نسل پرستوں کا واضع نشانہ ایشیائی، افریقی اور غیر مغربی امیگرینٹس سے نفرت اور برا سلوک تھا۔

9- 11 کے بعد امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام کام کرنے والی تنظیموں کی بھرمارہو گئی جن کا نشانہ ان ممالک میں رہنے والے عام مسلمان بن چکے ہیں۔  اس پس منظر میں میرے خیال میں 9-11 کے بعد مسلم فوبیا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ سیاسی ہے نہ کہ مذہبی۔  

یہ اس بحث کا موضوع نہیں کہ یہ جانچا جائے کہ امریکہ، اس کے مغربی اتحادیوں، سعودی وہابی سلطنت اور پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے کیسے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں نام نہاد “ اسلامی جہاد “ کا آغازکیا۔ جس کا مقصد سویت یونین کو شکست سے دوچار کرنا تھا۔ اس نام نہاد “ اسلامی جہاد “ میں مذہب اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے کیسے استعمال کیا گیا، یہ کوئی راز نہیں ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مسلح دہشت گرد گروہوں کو امریکہ، مغربی یورپی ممالک اور سعودی عرب کی مالی پشت پناہی سے منظم کیا گیا تھا۔ ان دہشت گرد گروہوں کو مالی معاونت کے علاوہ مسلح تربیت اور جدید اسلحہ سے بھی لیس کیا گیا۔

آج کے دہشت گرد اور دہشت گرد گروہ اس نام نہاد “ اسلامی جہادیوں “ کا تسلسل اور باقیات ہیں۔ کل ک دوست آج کے دشمن بن چکے ہیں۔ یعنی دہشت گرد اور انکے سابق مربی یعنی امریکہ، مغربی یورپی ممالک، سعودی عرب اور پاکستان ہتھیار بند آمنے سامنے جبکہ مسلم ممالک کے نہتے عوام خون میں نہلائے جا رہے ہیں۔  کئی مسلم ممالک کے لاکھوں عوام نہ ختم ہونے والی جنگوں اور خانہ جنگیوں کا شکار ہو چکے ہیں اور ابھی تک یہ خونخوار سلسلہ جاری ہے۔

امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے افغانستان، عراق اور لیبیا پر قبضہ کے دوران اور اسکے نتیجہ میں خانہ جنگیوں میں لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن بن کر رسوائیوں اورمصائب کا شکار ہیں۔

یہاں یہ یاد کرانا چاہتا ہوں کہ سوویت یونین کے خلاف نام نہاد “ اسلامی جہاد “ سے قبل پاکستان، افغانستان یا دیگر مسلم ممالک دہشت گردی اور ایسے دہشت گروہوں کے وجود سے آشنا نہ تھے۔ کیا آپ نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے عراق اور لیبیا پر حملوں سے قبل، اور شام میں نام نہاد “ اسلامی جہاد “ شروع کرنے سے قبل مشعرق وسطی میں نام نہاد “ اسلامی دہشت گردی “ کا نام سنا تھا۔ برطانیہ لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کوربین نے اپنے حالیہ بیان میں مشرق وسطی میں دہشت کی علامت داعش کو امریکہ اور اس مغربی اتحادیوں کی تخلیق قرار دیا ہے۔

مختصر بات یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں مسلمان نسل پرستانہ تشدد، نفرت اوربد سلوکی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان ممالک میں نسل پرست تمام مسلمانوں کو دہشت گرد اورغیرمہذب قرار دیتے ہیں۔ وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک میں 19  جہازی خودکش مسلم دہشت گردوں کی دہشت گردی کے نتیجہ میں تقریبا تین ہزار امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

9 - 11 کے بعد سے اب تک مختلف حیلوں بہانوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی مسلح افواج کے ہاتھوں افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا اور یہ سلسلہ مستقبل قریب میں تھمتا ہؤا نظر نیہں آرہا۔

آخر میں یہ نشاندہی کرتا چلوں کہ ناروے میں بھی مسلم فوبیا یعنی اینٹی مسلم نسل پرستی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں مذہبی انتہاپسندی بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔ ایسے رجحان اس ملک میں سماجی یکجہتی، اتحاد اورامگرینٹس کے اس معاشرہ کا مؤثر حصہ بننے کے راہ میں بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

بہر حال مسلم فوبیا یعنی اینٹی مسلم نسل پرستی اور مسلمانوں میں مذہبی انتہاپسندی کی وجوہات کیا ہیں یہ اس بات میں رکاوٹ نیہں ہونی چاہیے کہ ہمیں ان انسان دشمن نظریات اور کاروایئوں کے خلاف یکجا ہو کر آواز بلند کرنی ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔