جان دار سولہ منٹ

  • منگل 06 / اکتوبر / 2015
  • 3981

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے وزیر اعظم نواز شریف نے یقیناًاپنے مخالفین کو بھی تعریف پر کسی حد تک مجبور ضرور کر دیا ہے۔ گزشتہ سال پاکستانی لیڈرکے ہوٹل والڈ روف میں ٹھہرنے اور سفارتی ناکامی پر مجھ سمیت بہت سے لکھنے والوں نے اس دورے کو ایک ناکام دورہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ہال کی 50فیصد کرسیاں خالی ہونا اس دورے اور تقریر کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسمبلی ہال کی کرسیاں اس دفعہ بھی بھری ہوئی نہیں تھیں۔ نہ ہی کوئی اہم سربراہ مملکت میاں نواز شریف کی تقریر کے دوران وہاں موجود تھا۔ اس کے باوجود وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے 15سے16 منٹ کی تقریر کے دوران مدلل اندازِ گفتگو اختیار کیا۔ اس بات پر الجھن ضرو ر رہی کہ جب متعدد ملکوں کے سربراہان اپنی زبان کو ذریعہ اظہار بنا سکتے ہیں تو پھر آخر ہم کیوں اردو کو اتنا کمتر سمجھتے ہیں کہ عالمی فورم پر اس کو استعمال کرنا گوارا نہیں کرتے۔ لیکن فی الحال بات صرف تقریر کی کرتے ہیں۔ہال کی کرسیاں بے شک خالی تھیں لیکن ہال سے باہر اس تقریر نے ایک جاندار تاثر چھوڑا ہے۔

تقریر سے پہلے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ وزیر اعظم مسلہء کشمیر کا ذکر دھیمے انداز میں کریں گے، وہ تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ کیوں کہ اس اپنی تقریر میں 50فیصد سے زیادہ جگہ مسلہء کشمیر کو دی گئی۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کو بطور ایک ادارہ یہ بھی باور کرا دیا گیا کہ نصف صدی سے زائد کے اس متنازعہ قصے میں ناکامی اقوام متحدہ کی ناکامی ہے، جو اپنی ہی قراردادوں پر آج تک عمل درآمد نہیں کروا سکا۔ تقریر سے پہلے ایک معروف اینکر واشگاف الفاظ میں یہ کہتے سنے گئے تھے کہ تقریر میں کچھ نیا پن نہیں ہو گا تو سوچا پھر سننے کا کیا فائدہ ۔ لیکن تقریر سننے کے بعد دل کچھ مطمئن ضرور ہوا کہ وقت ضائع نہیں ہوا۔

چند منٹوں میں ہی جس طرح مسلہ کشمیر کو جس طرح اجاگر کیا گیا ، اس کا اندازہ انڈین ڈیسک پر بیٹھے نمائندوں کی بڑبڑاہٹ سے بخوبی ہو رہا تھا۔ نہ صرف مسلہ کشمیر بلکہ بلا اشتعال سرحدی خلاف ورزیاں بھی موضوع بحث بنیں۔ امن کی دعوت دے کر نواز شریف نے یقیناًمودی سرکار کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ چار نکاتی فارمولہ پیش کر کے بال انڈیا کے کورٹ میں پھینک دی گئی ہے۔ ایک اور حیران کن حقیقت یہ آشکار ہوئی کہ وزیر اعظم نے اپنے حریف پرویز مشرف کے 2003 کے فارمولے پر دوبارہ سے عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی انڈیا کی طرف ہاتھ بڑھا یا ہے۔ جس انداز میں چار نکاتی فارمولہ پیش کیا گیا ہے ، وہ یقیناًنوز شریف کی کامیابی تصور کیا جا نا چاہیے۔ کشمیر کے مسلے کا سب سے اہم فریق کشمیریوں کو کہہ کر یقیناًحریت قیادت کو خوش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انڈیا کے ساتھ تعلقات اور کشمیر پر نرم موقف کے حوالے سے حریت قیادت نوز حکومت سے ناراض تھی۔ اس تقریر کے بعد منظر نامہ یقینی طور پر کچھ نہ کچھ تبدیل ہو گیا ہے ۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حریت قیادت نے تقریر کو نہایت مثبت اور خوش آئند قرار دیا ہے۔ اگر واقعی بھارت اس حقیقت کا ادراک کر لے کہ ہمسائے کے بجائے غربت خطے کی سب سے بڑی دشمن ہے تو پورا خطہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔

چند منٹ میں نوز شریف نے نہ صرف پاک چین اقتصادی راہدراری پر بات کی بلکہ مشرق وسطیٰ، داعش،پاک بھارت تعلقات، ذمہ دار ایٹمی قوت اور امن مشن میں پاکستان کی خدمات جیسے حساس موضوعات کا بھی احاطہ کیا۔ضرب عضب کو موضوع بحث بنا کر دنیا کی توجہ اس امر کی طرف منتقل کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی گئی کہ یہ آپریشن صرف پاکستان نہیں بلکہ باقی دنیا کی سلامتی کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ سلامتی کونسل میں اصطلاحات کے حوالے سے پاکستان کا موقف مضبوط انداز میں دنیا تک پہنچایا گیا۔اور بھارت کے سلامتی کونسل میں شامل ہونے کی راہ میں یقیناًاب آسان نہیں ہوگی۔

پوری تقریر میں پاکستان اور چین کے تعلقات کے علاوہ روس کا ذکر بھی تھا۔ اب یہ پالیسی شفٹ ہے یا کچھ اور لیکن یہ بات عیاں نظر آئی ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی خارجہ پالیسی کی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ پوری تقریر میں امریکہ کا ذکر نہیں تھا۔ اب یہ بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے یا کچھ اور ۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نواز شریف نے پندرہ سولہ منٹوں میں پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا ہے ۔

کامیاب تقریر کے باوجود کچھ خامیاں یقیناًباقی ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے۔ اب شاید وقت کا تقاضا ہے کہ خارجہ کا قلمدان وزیر اعظم اپنے پاس رکھنے کے بجائے کسی قابل ساتھی کے سپرد کر دیں۔ کیوں کہ دورہء امریکہ کے دوران طارق فاطمی اور سرتاج عزیز ناکام مشیر ثابت ہوئے ہیں۔ اس تجربہ کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ کل وقتی وزیر خارجہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کل وقتی وزیر خزانہ یا وزیر داخلہ ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ملک کی خارجہ پالیسی کا روشن چہرہ دنیا پر واضح کرنے کے لئے وزیر خارجہ کا تقرر نہایت ہی اہم ہے۔ کیوں کہ دورہء امریکہ میں وزیر خارجہ کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔ مشیر حضرات کسی بھی طرح سے تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ تو میڈیا کے نمائندوں کو باقاعدہ بریفنگ دے پائے اور نہ ہی غیر ملکی مندوبین کے ساتھ ملاقاتیں توقعات کے مطابق ہو سکیں۔ مُدلل الفاظ تبھی دنیا پر دھاک بٹھا سکتے ہیں جب ان الفاظ کے دفاع میں ہر طرح کے سوالات کے جوابات دینے کیلئے ایک کل وقتی وزیر خارجہ موجود ہو۔

تنقید اپنی جگہ لیکن اگر کچھ اچھا کریں گے تو تنقید کرنے والے ہی توصیف بھی کریں گے۔ شرط یہ ہے کہ کارکردگی میں تسلسل لائیں۔ اور جیسی مضبوط تقریر اقوام عالم کے سامنے کی ہے ویسے ہی بڑے دل اور اچھی سوچ کے ساتھ ملک بھی واپس آئیں اور تمام حلیفوں اور حریفوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ اس سے نہ صرف آپ کا اپنا سیاسی قد بڑا ہوا گا بلکہ ملکی ترقی میں بھی آپ کا یہ کردار اہم کردار ادا کرے گا۔