ترکی میں اردو کے سو سال

  • بدھ 07 / اکتوبر / 2015
  • 14082

( ترکی میں اردو تدریس کے سو سال پورے ہونے پر استنبول یونیورسٹی 12 سے 14 اکتوبر تک ایک سہ روزہ کانفرنس کا انعقاد کررہی ہے جس میں دنیا بھر سے اردو کے اساتذہ اور ماہرین شریک ہوں گے۔ اس موقع پر استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے نگران اور اس کانفرنس کے روح رواں ڈاکٹر خلیل طوقار نے ترکی میں اردو کے حوالے سے ایک معلوماتی مقالہ لکھا ہے جو یہاں قارئین کی دلچسپی کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

ترکی اور جنوبی ایشیا یا بر عظیم پاک و ہند کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ مگر ترکی اور بر عظیم پاک و ہند کے تعلقات شروع ہونے سے بہت پہلے اِس خطّۂ زمین سے ترکی النسل لوگوں کی آمد ہوئی۔ محمود غزنوی سے لے کر قطب الدین ایبک ، دکن میں محمود قلی قطب شاہ سے لے کر دہلی میں بابر بادشاہ تک مختلف ترک قبائل ہندوستان میں مختلف ادوار میں داخل ہوئے۔

یہ تو سچ ہے کہ تُرک ہندوستان میں فاتح بن کر آئے تھے لیکن یہاں آکر اُنہوں نے ایک اجنبی طاقت کی حیثیت سے ملک پر حکمرانی نہیں کی اور نہ وہ انگریزوں کی طرح اپنی نسل کو دوسروں سے برتر نسل سمجھے اور نہ ہی اُنھوں نے اپنی قوم اور دوسری قوموں کے درمیان ناقابل تسخیر سیاسی اور سماجی دیواریں کھڑی کرکے اُن سے اپنی ذات اور اقتدار کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی بلکہ اُنہوں نے برصغیر کی ترکیبِ کیمیائی میں خود کو شامل کیا اور اپنے قومی شعور کو برقرار رکھتے ہوئے اِس شعور کو ہندوستانیت کے شعور میں شامل کر دیا اور اِس خطے کا جزلاینفک ہوکر رہ گئے۔ اُنھوں نے اِس کام کو اِس قدر خوش اسلوبی سے کیا ہے کہ محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی تک کی تاریخ میں وہ ایک اجنبی طاقت کی حیثیت سے نہیں بلکہ بذات خود برصغیر کی ہی ایک طاقت کی حیثیت سے یاد کیے جاتے ہیں ۔ ہرچند تُرکوں کا اقتدار خود برصغیر کی مٹی میں مل کر غائب ہوگیا لیکن پھر بھی فن تعمیر سے لے کر تاریخ اور شعر و ادب کے میدان تک مختلف شعبوں میں اُن کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

جس زمانے میں ترکی النسل بادشاہ ہندوستان میں بر سر اقتدار تھے اسی وقت عثمانی بادشاہ حجاز سے لے کر یوکرین اور آذربائجان سے لے کر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا اور افریقہ میں مراکش تک حکمرانی کرتے تھے۔اُن صدیوں میں جبکہ دونوں ملکوں یعنی ہندوستان اور ترکی میں سلطنتیں مضبوط تھیں تو اِن ملکوں کے تعلقات توازن اور برابری کی بنیاد پر قائم تھے ، دوستی اور برادری کی بنیاد پر نہیں۔ مگر زمانہ بدل گیا اور دونوں ملکوں کی سلطنتوں کا تخت اُلٹ گیا۔ پہلے ہندوستان پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور پھر سلطنت عثمانی میں کمزوریاں رونما ہوئیں اور آہستہ آہستہ اور عثمانی سلطنت بھی ٹکڑے ہو کر بٹنے لگی۔

عثمانی ترک مسلمان تو تھے ہی لیکن عثمانی سلاطین کا خلافت کے مقام پر فائز ہونا، ہندوستانی مسلمانوں کی نظر میں اُس کی اہمیت کو دوبالا کرتا تھا۔ لہٰذا خود ایک نوآبادیاتی طاقت یعنی برطانیہ کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنے والے اور محکوم قوم ہونے کی صعوبتیں اور دشواریاں برداشت کرنے والے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے خلافت اور ترکوں پر کئے جانے والا ہر حملہ بذات خود اُن پر حملے کی طرح سمجھا گیا۔ اور اس کے خلاف شدید رد عمل دکھایا گیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ1887 روس اور ترک کی جنگ سے لے کر جنگ طرابلس اور بلقان تک اور پھر پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے ترک بہن بھائیوں کی حفاظت اور اُن کی ہستی کو بچانے کی خاطر ہر ممکن قربانیاں دیں اور مسلسل جد و جہد میں مصروف رہے۔

ہرچند ترکی میں خلافت کو ختم کئے جانے کے بعد کچھ عرصے کے لیے اِن تعلقات میں جمود سا آگیا مگر دوستی اور برادری کے تعلقات جو بھی منفی عوامل سامنے آئیں، پھر بھی کبھی ختم نہیں ہوتے اور کروٹ بدل بدل کر مختلف ادوار اور مختلف صورتوں میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔جو آج کل بر عظیم پاک و ہند اور ترکی کے دوستانہ اور برادرانہ روابط کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہیں۔

یہ تو ہماری کہانی کا ایک پہلو ہے، اِس کہانی کے دوسرے پہلو پر اردو زبان کے خوبصورت نقوش موجود ہیں۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے اردو، بنفس نفیس ترکی زبان کا لفظ ہے اور اردو زبان کے خمیر میں ترکی اور ترکوں کا نمک بھی شامل ہے۔ اِس لیے مَیں اردو زبان کو جتنا برعظیم پاک و ہند کی زبان سمجھتا ہوں اُتنا ہی خود ترکوں کی بھی زبان سمجھتا ہوں۔ ہر چند گزرتے سالوں کے ساتھ ساتھ ترکی میں اردو کی اِس اہمیت بھلادیاگیا ہے۔ لیکن اردو زبان ہم سب کے درمیان ایک مضبوط اور اَٹوٹ زنجیر کی مانند ہے جس کی اہمیت کا بار بار اور ہر پلیٹ فارم پر اظہار کرنا چاہئے۔

یہ اہم زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہے، اُس کے بولنے والے عثمانی سلطنت کے مختلف علاقوں میں بالخصوص حجاز میں آکر آباد ہوئے تھے، لیکن اِس کی درس و تدریس کا آغاز، ۱۹۱۵ء میں یعنی ٹھیک ایک صدی قبل، دارالفنون عثمانی یعنی استنبول یونیورسٹی ادبیات فیکلٹی میں ہندوستانی قوم پرست عبدالجبار خیری کی وساطت سے ہوا تھا۔ اِس لیے اِس مبارک افتتاح کو مدنظر رکھتے ہوئے استنبول یونیورسٹی، شعبۂ اردو نے اِس سال کو ترکی میں اردو صدی یا ترکی میں اردو تعلیم و تدریس کے جشن صد سالہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس ضمن میں مختلف سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ سہ ماہی ارتباط۔استنبول کا ترکی میں اردو صدی کا یہ خصوصی شمارہ بھی اِن سرگرمیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اِس شمارے میں ترکوں کے ہندوستان میں وارد ہونے سے لے کر تحریک خلافت تک کے تاریخی مقالات کے علاوہ ترکی اور برعظیم پاک و ہند کے برادرانہ تعلقات، اردو زبان میں ترکی تصانیف کے تراجم سے لے کر دنیا کے مختلف ملکوں میں اردو زبان و ادب کی صورتحال تک کے بہت وسیع اورگوناگوں موضوعات پر کچھ پرانے اور کچھ نئے مضامین اور تراجم موجود ہیں۔ اُمید ہے اِس سلسلے کی دوسری کاوشوں کی طرح یہ خصوصی شمارہ بھی قارئین کرام کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔

کچھ اور معلومات
یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ترکی اور بر صغیر پاک و ہند کی دوستی اور محبت کی تاریخ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے اوراگر1453 میں سلطان محمد فاتح کی قسطنطنیہ کی فتح کو اِن تعلقات کا آغاز مانیں تو دوستی سے بھر پور ایک پوری تاریخ ہمارے سامنے آئے گی جس کی مثال دنیا میں کم ملے گی۔ترک قوم کے لوگ لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان میں جاکر آباد ہوئے اوراس خطۂ زمین میں مختلف سلطنتیں قائم کیں۔ اِس کے مقابلے میں بالخصوص قسطنطنیہ یعنی استنبول کی فتح اور حجاز کی مقدس سرزمین کے عثمانی سلطنت میں شامل ہونے کے بعد برصغیر سے عثمانی سلطنت کے مختلف حصّوں میں آکر آباد ہونے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ اب بھی استنبول میں ہندوستانیوں کی درگاہیں ہیں جن میں ٹیپو سلطان شہید کے وفد اور بعد میں عبیداللہ سندھی جیسی عظیم شخصیتیں رہی تھیں۔ اب بھی استنبول کے متعدد علاقوں میں ہندوستانی مشائخ، صوفی اور دیگر اصحاب کی قبریں ہیں اور استنبول کی مختلف لائبریریوں میں ہندوستانی اہل قلم کے تحریر کردہ قلمی نسخے موجود ہیں اور عثمانی شعبۂ دستاویزات میں برصغیر سے تعلقات اور عثمانی سلطنت میں آباد ہونے والے کئی افراد کے بارے میں بے شمار دستاویزات ہیں۔

دونوں خطے یعنی برصغیر پاک و ہند اور عثمانی سلطنت کے صدیوں پر پھیلے اِس خوشگوار رابطے کا ایک اور خوشگوار پہلو اردو اور اِس خوبصورت زبان کی ترکی میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی ہے۔میں مسلسل یہ بات دہراتا رہتا ہوں کہ اردو زبان جتنی برصغیر کی زبان ہے اُتنی ہی ترکوں کی اپنی زبان بھی ہے، کیونکہ اردو کے یوم پیدائش سے لے کر کافی عر صے تک ترکی النسل افراد نے اِس زبان کی دلکش تصویر میں اپنے رنگوں کو بھی ملایا ہے اور اپنے سپنوں کو اِسی زبان کے ذریعے سجایا ہے۔ امیر خسرو کو لیجئے یا قلی قطب شاہ، مرزا اسداللہ خاں غالب، بہادر شاہ ظفر یاداغ دہلوی کو ، سبھی اِس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اردو کی رگوں میں ترکوں کا بھی خون شامل ہے اور اِسی وجہ سے میں اردو کو اپنی زبان کی حیثیت سے دیکھتا ہوں اور اردو کے حامی اور خیرخواہوں کی خوشی میں بھی، غم و الم میں بھی برابر کا شریک ہوتا ہوں۔

اب ہم اپنے اصل موضوع، ترکی میں اردو کی تعلیم اور تدریس کے سلسلے کی طرف آئیں گے مگر اِس سے پہلے مجھے یہ کہنا ہوگا کہ میری زندگی میں کبھی کبھار کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کے لیے میں اللہ تعالیٰ کااور بھی زیادہ مشکور ہوتا ہوں۔ ایک ایسا واقعہ پانچ چھ ماہ قبل یہ ہوا ہے کہ عثمانی شعبۂ دستاویزات میں شبلی نعمانی مرحوم کے متعلق تحقیق کے دوران کچھ دستاویزات منگوائے تھے، اللہ کی مہربانی کہئے یا قسمت کی بات اُن سے متعلق دستاویزات کے ساتھ کچھ ایسے دستاویزات بھی آئے ہیں جن کو دیکھ کر میرا دل خوشی سے باغ باغ ہوا۔ یہ دستاویزات مشہور و معروف ہندوستانی آزادی خواہ عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری برادران اور اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں تھے ۔ یہ دیکھ کر مجھے اور تجسس ہوا اور غور سے اِن کا مطالعہ شروع کیا اور جب میں نے اِن میں عبدالجبار خیری مرحوم کے بارے میں ’’دارلفنوندہ اردو لسانی معلمی‘‘ یعنی ’’دارالفنون میں اردو زبان کا پروفیسر‘‘ کی عبارت پڑھی تو اُس وقت جو خوشی مجھے ہوئی اُس کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔ کیونکہ اُن کاغذات کے دیکھنے تک ہم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ترکی میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان دستخط شدہ تہذیبی اور ثقافتی سمجھوتوں کے بعد یعنی ساٹھ یا ستر کی دہائیوں میں انقرہ یونیورسٹی میں شروع ہوئی۔ لیکن یہ دستاویزات بتارہے تھے کہ اردو کی تعلیم کا آغاز اِس سے ننانوے سال قبل، وہ بھی دارالفنون میں یعنی ہماری فیکلٹی ہی میں ہوا۔ دارلفنون ہماری فیکلٹی کا پرانا نام ہے یہ تو سونے پہ سہاگہ تھا اور میری خوشی دوبالا ہوگئی۔ اب ہم سینہ تان کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترکی میں اردو کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ ایک صدی کے طویل عرصے پر پھیلا ہوا ہے اور استنبول یونیورسٹی، ادبیات فیکلٹی ترکی میں اردو تعلیم کی اوّلین اعلیٰ درسگاہ ہے۔

خیری برادران یعنی عبدالستار خیری اور عبدالجبار خیری کی ترکی آمداور اُن کی استنبول کی سرگرمیاں واقعتا کافی دلچسپ ہیں اور آج کل میں اُن کی اِن سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے ایک مضمون لکھ رہا ہوں۔ یہاں اِس سلسلے میں مختصر سی گفتگو ہوگی۔
عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری برادران، ہندوستان کے دو عظیم حریت پرست اور آزادی خواہ، ہندوستان میں برطانیہ کی حکمرانی کے سخت مخالف تھے۔ 1904 میں یہ دونوں بھائی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم تھے مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر اچانک وہاں سے الگ ہوکر پہلے بغداد اور پھر قاہرہ پہنچے اور اُنھوں نے وہاں جامعات الازہر میں داخلہ لیا اور مفتی محمد عبدہ کے حلقۂ درس و تدریس میں شامل ہوئے۔ قاہرہ میں مذہبی تعلیم کے بعد یہ دونوں بھائی جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیروت کے امریکن کالج میں پڑھنے لگے۔ لیکن امریکن کالج میں مسلمان طالبعلموں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی اور منفی سلوک کو دیکھ کر اُنھوں نے 1909 میں وہاں مسلم طالبعلموں کے لیے دارالعلوم کی بھی بنیاد ڈالی۔ جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی اور مقام خلافت کی جانب سے جہادِ مقدس کا اعلان ہوا تو یہ دونوں برادر جہاد میں شامل ہونے کے لیے حجاز چلے گئے۔

پروفیسر سید محمد سلیم کے مطابق وہ حجاز میں فخری پاشا کے پاس پہنچے اور عربوں سے جنگ نہ کرنے کے لیے حجاز چھوڑ کر استنبول آگئے۔ (۱) مگر ہماری تحقیقات کے مطابق اُن دنوں میں حجاز میں ایک ہی فخری یا فخرالدین پاشا تھے اور وہ بھی مدینہ منورہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ملک حسین کے باغی عربوں اور انگریزوں کے مدینۂ منورہ پر حملے سے لے کر جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد بھی وہ اپنے محاذ پر ڈٹے رہے اور عثمانی حکومت کے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرکے ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی وہ مدینہ کی حفاظت پر مصرّ رہے ۔ آخر کار عثمانی بادشاہ واحد الدین کی گزارش پر اُنہوں نے شہر مدینہ کو باغی عربوں کے حوالے کیا اور جنگ میں اُن کی جرأت اور بہادری کی وجہ سے انگریز فخرالدین پاشا کو ’’شیرصحرا‘‘ کے عنوان سے پکارتے تھے۔(۲)

لگتا ہے کہ خیری برادران فخرالدین پاشا کے ساتھ نہیں بلکہ حجاز میں عربوں کی بغاوت سے بہت پہلے 1914 کے اواخر یا 1915 کی شروعات میں استنبول آئے تھے۔ استنبول میں اِن دونوں برادران نے مختلف سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ بالخصوص عبدالجبار خیری عثمانی خفیہ ایجنسی ’’تشکیلاتِ مخصوصہ‘‘ کے ایک سرگرم کارکن تھے اور باقاعدہ رپورٹوں سے عثمانی اہلِ حکومت اور فوج کو انگریزوں اور انگریزوں کے لیے کام کرنے والے ہندوستانی جاسوسوں کے بارے میں اطلاع فراہم کرتے رہے تھے۔ اُن کی رپورٹوں میں خفیہ معلومات کے علاوہ ہندی اردو تنازعہ، اردو کی اہمیت اور عثمانی سلطنت میں اُس کی تعلیم کی ضرورت، جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے ہندوستانی فوجیوں کی خاطر اردو جاننے والے مترجموں کی فراہمی کے لیے کوشش جیسے اردو زبان سے متعلق اہم موضوعات بھی شامل تھے۔مثال کے طور پر اُن کی ایک رپورٹ ملاحظہ ہو:
’’ہندوستان، جس میں آٹھ کروڑ مسلمان ہیں، اِس میں آباد مسلمانوں نے شروع شروع میں کانگریس پارٹی سے مل کر تحریک چلانے کی کوشش کی مگر مختصر سے عرصے کے بعد جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ کانگریس والے اُن کے ساتھ خلوص و اخلاص کے ساتھ پیش نہیں آتے ہیں تو اُنہوں نے مجبور ہوکر آل انڈیا مسلم لیگ کو قائم کیا۔مسلمانان ہند اِس لیے کانگریس سے الگ ہوئے ہیں کہ ہندو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کرتے تھے۔ در اصل کانگریس کی چلائی ہوئی تحریک کُل ہندوستانیوں کی نہیں محض ہندوؤں کی مذہبی تحریک ہے۔
ہندوؤں نے تقریباً کُل ہندوستان کی مشترکہ زبان اردو پر حملہ کرکے اپنی پرانی زبان کی احیاء کی خواہش کی ہے اور آج کل عربی رسم الخط سے لکھی جانے والی اردو میں بہت سارے عربی، فارسی اور ترکی الفاظ پائے جاتے ہیں۔
ہندوؤں کو اپنی پرانی اور مردہ زبان کو نئے سرے سے زندہ کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی لیکن اُنہوں نے جو اردو رسم الخط کو سنسکرت میں تبدیل کرکے تمام عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ کو اپنی زبان سے نکال کر اُن کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھنے کی کوشش کی ہے، وہ اِس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔
در حقیقت اُنہوں نے شاطرانہ انداز میں دنیا کو ہندوستانی قومی تحریک کے نام کی جس تحریک سے روشناس کرایاہے ، وہ بالکل گم راہ کن ہے اور یہ ہندو مذہبی تحریک ہے۔ اِسی لئے تمام ہندودھوکہ باز ہیں۔‘‘ (۳)
اُن کی اردو سے محبت اور ہندی اور ہندو دشمنی اوپر دی گئی عبارتوں سے ظاہر ہے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنی مختلف رپورٹوں میں ہندو۔مسلم اختلافات اور اِن اختلافات کے ترکی میں موجود ہندوستانیوں کی آزادی کی تحریک پر اثرات پر تفصیل سے معلومات پیش کیں۔ اُن کے ہدف میں ہندو تحریک کے معروف سربراہ ہر دیال ہیں جو اُنہیں دنوں میں استنبول اور جرمنی میں سرگرمِ عمل تھے۔
اِسی طرح عبدالجبار خیری کی رپورٹوں میں جنگ کے دوران گرفتارہندوستانی فوجی جو عثمانی کیمپوں میں گرفتا ر تھے، اُن کے مسائل سے بھی گہری دلچسپی کا اظہار موجودہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اردو زبان جو ہندوستان میں بیس کروڑ آبادی کی مشترکہ زبان ہے ، عثمانی فوج میں اِس زبان کے واقف ترجمان کا ہونا بھی لازمی ہے۔ کیونکہ جو ہندوستانی فوجی مختلف کیمپوں میں گرفتار ہیں اُن کے اپنے خاندانوں سے خط و کتابت کا راستہ بالکل منقطع ہوگیاہے اور وہ لوگ اِسی سبب بہت مایوس اوربے حد پریشان ہیں۔(۴)

اُن کی سیاسی سرگرمیاں بے شک تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہیں مگر اِ ن کے علاوہ اُن کا ایک بڑا اور ناقابل فراموش کارنامہ ترکی میں یونیورسٹی کی سطح پر اردو زبان کی تعلیم کا افتتاح ہے۔اُنہوں نے دارالفنون میں کس تاریخ میں اردو کی تعلیم شروع کرائی اِس کے بارے میں ہمارے پاس قطعی معلومات موجود نہیں لیکن اگر اُن کی استنبول آمد کو 1914 کے اواخر اور 1915 کی شروعات ٹھہرائیں (کیونکہ انہوں نے اگست1915 میں ’’ہند اخوت اسلام انجمنی مرکز عمومیسی‘‘ (انجمن ہند اخوت اسلام کا مرکزی ادارہ) کے قیام میں حصہ لیا اور 1915 میں اخوت نامی اخبار کی اشاعت میں اول اول تھے)(۵) اور دارلفنون کی حیثیت سے ایک کمیشن میں اُن کی پیش کردہ تجویز کی تاریخ جو کہ فروری 1917 ہے(۶)، کو دیکھیں گے تو ہم بلاجھجک یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُن کا دارالفنون میں اردو کے پروفیسر کی حیثیت سے تقرر فروری 1917 سے پہلے 1915 میں یا1916 میں ہوا ہوگا ۔ لیکن یونیورسٹی کی مجلسوں میں شرکت کرکے تجاویز دینے اور اُن تجاویز کو منوانے کی حد تک دارافنون کے اراکن پر اُن کا اثر و رسوخ کو دیکھیں گے(کیونکہ بالخصوص یونیورسٹی کے اساتذہ پر اثر و رسوخ مرتب کرنے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے) تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ استنبول یونیورسٹی میں اردو کے درس و تدریس کا سلسلہ1916 سے بھی پہلے 1915 میں شروع ہواتھا۔

یہ ترکی میں اردو زبان کی تاریخ کا ایک پہلو ہے، اِسی طرح ترکی میں اردو کے کچھ اورخوبصورت پہلو بھی ہیں۔ میرے خیال میں یہاں اُن میں سے ایک اور کا ذکر کرنا سامعین کرام کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ استنبول میں یعنی عثمانی سلطنت کے دارالخلافہ میں اردو اور ہندوستانی صحافت کی جھلکیاں دیکھنا ممکن ہے۔ ہندوستان میں صحافت کا بڑھتا اثر و رسوخ اور پہلی جنگ عظیم کی طرف دوڑتی دنیا میں ہندوستان کی سیاسی اور عسکری اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے باہر بھی اردو اخبارات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور سلطنت عثمانیہ کے دارالخلافہ استنبول میں بھی اردو صحافت کی طاقت سے فائدہ اُٹھاکر ہندوستانی قارئین تک پہنچنے اور ترکی کے حق میں مثبت رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں بھی ہونے لگیں۔

استنبول میں نکلنے والے اردو اخبارات کے سلسلے میں ہمارا تین ناموں سے سابقہ پڑتا ہے: ’’پیک اسلام‘‘، جہان اسلام‘‘ اور ’’الدستور‘‘ ۔ علاوہ برین اِن اخباروں میں ’’اُخوّت‘‘ کے نام کا بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے جو فارسی زبان میں شائع ہونے کے باوجود خیری برادران کی جانب سے نکلنے کے اعتبار سے قابل ذکر ہے۔ ہماری تحقیقات کے دوران یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ استنبول کی لائبریریوں میں اِن چاروں میں سے صرف تین اخبارات کے نسخے موجود ہیں اور وہ اخبارات ہیں: ’’جہانِ اسلام‘‘، ’’الدستور‘‘ اور ’’اُخوّت‘‘۔ لیکن اب تک ’’پیک اسلام‘‘ کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔
اردو اخبارات میں پہلے نمبر پر ہونے کا شرف پیکِ اسلام کو حاصل ہے۔ 1880 میں نکلنے والے اِس اخبار کے ساتھ استنبول میں اردو صحافت کا آغاز ہوتا ہے۔ ’’پیک اسلام‘‘ اردو اور ترکی دونوں زبانوں میں شائع ہورہا تھا۔ اِس کے مدیر مسؤل نصرت علی خاں تھے جو انگریزوں کے خلاف سرگرمیوں میں شرکت کرنے کی وجہ سے ہندوستان سے جلاوطن کردئیے گئے تھے۔ مئی1880 میں ’’ پیکِ اسلام‘‘ کا اوّلین شمارہ منظر عام آیا۔

’’پیکِ اسلام‘‘ کے بعد ہمارے سامنے جو اخبار آتا ہے وہ ’’الدستور‘‘ ہے۔ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں شائع ہونے والے اس روزنامہ اخبار کے صاحبِ امتیاز احمد پاشا الزہر اور رئیس تحریر ذکی بیگ تھے۔ 1327ھ بمطابق1909 میں شائع ہونے والا ’’الدستور‘‘ مطبع عثمانی میں چھپ رہا تھا اور اسے جمعیت اتحاد و ترقی کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی جس نے عبدالحمید ثانی کو معطل کرکے لگام حکومت سنبھال لی تھی۔ ’’الدستور‘‘ بھی چند نمبروں کی اشاعت کے بعد بند ہوا تھا۔ (۷)

’’اخوّت‘‘ کے عنوان والے اخبار کی اشاعت، 13 ستمبر1915/ میں قائم ہونے والی ’’انجمنِ ہند اخوّتِ اسلام‘‘ کی نگرانی میں شروع ہوئی اور ’’تشکیلاتِ مخصوصہ‘‘کی مالی امداد سے اُس کا پہلا شمارہ تشرین اوّل 1331ھ بمطابق اکتوبر۔نومبر1915 میں نکلا۔
اِس اخبار کی اشاعتی زندگی تین سال تک باقاعدہ طور پر جاری رہی اور اِس کی ہمراہی میں ’’Brotherhood‘‘ کے عنوان سے انگریزی اخبار کا آغاز کیا گیا اور بالخصوص اِس کو یورپ میں بانٹا گیا۔

’’مطبوعات مدیریتِ عالیہ سی‘‘ (مطبوعات کا محکمۂ عالیٰ) کی خدمت میں پیش کی گئی درخواست کے مطابق انگریزی زبان میں ’’Brotherhood‘‘ کے نام سے اخبار کی اجازت طلب کی گئی اور اِس کے صاحبِ امتیاز اور ایڈیٹر محمد عبدالجبّار خیری تھے۔ ’’اخوّت‘‘ کی اشاعتی پالیسی اور موضوعات کے بارے میں کچھ عرصہ بعد ہندوؤں کا ردِ عمل ظاہر ہونے لگا کیونکہ اسلامی مطمعِ نظر اور اتحادِ اسلامی کے خیالات تشکیلاتِ مخصوصہ کے ساتھ کام کرنے والے ہندو مذہب کے اصحاب کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ اِس چپقلش کے باوجود یہ اخبار بھی جنگِ عظیم کے اختتام تک جاری رہا۔ (۸)

اِن اخباروں کے بعد ’’جہان اسلام‘‘ کا نام آتا ہے ۔ اِس اخبار کی اشاعت ’’جمعیت خیریۂ اسلامیہ‘‘ نامی تنظیم کی امداد سے عمل میں آئی تھی۔ ’’جہانِ اسلام‘‘ کا پہلا شمارہ13 جمادی الاولیٰ1332ھ بمطابق 19 اپریل 1914 کو اور آخری شمارہ1333ھ/1915ء کو نکلا۔(۹)
دارالفنون یعنی استنبول یونیورسٹی، ادبیات فیکلٹی میں اردو اعلیٰ تعلیم کے آغاز کی طرح استنبول سے شائع ہونے والے اردو اخبارات بھی اِس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ عثمانی سلطنت میں اردو اور ہندوستانی مسلمانوں کی اہمیت کتنی زیادہ تھی اور اُن کو سرکاری اورغیر سرکاری طور پر ہر طرح کی اولیت اور سہولت دی جاتی تھی۔ اب یہ دیکھئے کہ ترکی کے مشرقی اناطولیہ کے شہر عرض روم میں ایک گاؤں ہے جس کا پرانا نام ’’ہندللر کوئے‘‘ یعنی ’’ہندوستانیوں کا گاؤں‘‘ ہے۔ اِس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمانیوں کے دور کی آخری صدی میں برصغیر کے لوگ ترکی کے ہر حصّے میں موجود تھے۔

پھر ہوا یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں عثمانی سلطنت ہار گئی اور ترکی کے مختلف علاقے دشمنوں کے قبضے میں آگئے اور ترکی میں جنگ آزادی شروع ہوئی۔ اِس دوران عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری براداران جیسے لوگ جوکہ اکثر انگریز مخالف افراد تھے، ترکی سے چل گئے اور ترکی میں اردو کا اوّلین دَور ختم ہوگیا۔