کیا کھویا

  • جمعہ 09 / اکتوبر / 2015
  • 5739

جب لکھاری ” کیا کھویا “ لکھتا ہے تو اس میں ” کیا پایا “ کا بھی اضافہ کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس سطح مرتفع پر نہیں ہیں کہ ’پایا‘ پر روشنی ڈال سکیں۔ پاکستان نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے سرکاری بجٹ طیارے میں 70 کے قریب لوگوں کو بٹھا کر پہلے لندن اور پھر نیویارک یو این او کی کانفرنس کیلئے بجھوایا اور پھر واپسی پر دوبارہ لندن میں قیام کا بندوبست کیا۔ اگرچہ لندن میں قیام دنیا کے مہنگے ترین ہوٹل سے کم تھا۔ لیکن ہوش رُبا ضرور تھا۔ ہمارے وزیراعظم اس کانفرنس کی خاطر 70لوگوں کے ہمراہ گئے۔ اور غریب پاکستان کے شاہانہ ٹھاٹ کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے میڈیا نے وزیراعظم کے سفر کی بامروت پذیرائی بھی کی اور اس بات کو سراہا کہ اب کی بار وزیراعظم  نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور سرحدوں پر بھارت کی ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کیا۔

یہ مسائل اس وقت پاکستان کے اہم ترین مسائل ہیں جن کا تذکرہ بالآخر یو این او میں دہرایا گیا اور غربت زدہ بھارتی جنتا کے پردھان منتری مودی مورکھ نے دل کھول کر دونوں ہاتھوں سے دولت، مقبولیت حاصل کرنے اور پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے اڑائی۔ وہ کہاں تک کامیاب ہوئے یہ جلد ہی منظر عام پر آ جائے گا۔

اب ہمارے وزیراعظم واپس وطن پہنچ چکے ہیں۔ ان کو مطلع کیا گیا کہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ قومی ایئرلائن PIA مفلوج ہو چکی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی غذائی ضرورت ’آٹا‘ کی تھیلی پر ایک ماہ میں دو بار قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بجلی کی صورت حال میں فرق نہیں آیا اور نندی پور کا نام ملک کے ہر شہری کی زبان پر ہے۔ جو نیم مردہ قوم کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔

پاکستان کے دن بدن بڑھتے ہوئے معاشی، سیاسی، معاشرتی مسائل نے قوم کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اور ادھر وزیراعظم نے کمال فراست سے مسئلہ کشمیر اور چار نکاتی ایجنڈا یو این او کے سامنے رکھ کر کوئی کمال نہیں کیا۔ بلکہ وزیراعظم  نے چار نکاتی ایجنڈا پیش کر کے قومی اور عالمی فریضہ اداکر دیا۔

جیسا کہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک نامکمل مسئلہ ہے۔ پاکستان نے نہ جانے کتنی بار اپنی طرف سے ہی مسئلہ پر اظہار خیال کیا ہے اور آج ہم 68 سال بعد وہی راگ الاپ رہے ہیں۔ ہم گزشتہ 68 سال سے اقوام متحدہ کو وہ فرسودہ رک رک کر چلنے والا Scratchy record   سنا رہے ہیں جس کی آواز بھی اب خراب ہو چکی ہے۔

پورا سرکاری جیٹ طیارہ متعلقہ اور غیر متعلقہ احباب سے بھر کر لندن کی سیر اور یو این او کی میٹنگ کیلئے بھجوایا گیا اور سب نے دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کیا۔ واپسی پر ایک بار پھر لندن غیر سرکاری کاموں کیلئے ٹھہرے۔

ہم بدستور یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ آج تک یو این او نے کون سے مثبت اقدام کئے ہیں؟ یو این او نے کون سا عالمی مسئلہ حل کیا ہے؟ یو این او کی تخلیق بطور trouble shooter کی گئی تھی لیکن وہ اس معیار پر پوری نہیں اتری۔ بلکہ ہم یو این او کے بارے میں وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نشستم و گفتم و برخاستم سے آگے نہیں بڑ ھ سکی۔

لیکن کسی کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ کہیں ” میرے ملک کے دوستو! اب یو این او کا بسترہ گول کرنے کا وقت آ گیا ہے ہم نے اپنے تخلیق کئے ہوئے sherif کی عالمی کارکردگی دیکھ لی۔ یہ ’شیرف‘ (Sherif) ہمارے بوجھ ہلکا کرنے کا اہل نہیں بلکہ ہم پر (اقوام عالم) پر بوجھ بن چکا ہے۔

یادآرہا ہے اور یاد کریں وزیر خارجہ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی یو این او میں کشمیر پر دھؤاں دھار تقریر جس نے اقوام عالم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ہم اسی لکیر کو پیٹ رہے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا؟

قتل کا میرے عہد کو کیا ہے بارے
وائے! اگر عہد استوار نہیں