قوم سے ہجوم تک

  • ہفتہ 10 / اکتوبر / 2015
  • 13895

پاکستان کی تشکیل کے بعد سرحدی دفاع ایک اہم مسئلہ تھا ۔ کیونکہ پاکستان کی تشکیل میں مذہب اور جذبات کار فرما تھے ۔ اور ہر شخص پاکستان سے ایمان کی حد تک لگاؤ رکھتا تھا تو اس لیے کم وسائل سے بھی بھرپور دفاع کیا جاسکتا تھا ۔ کیونکہ جنگ ہتھیاروں کے ساتھ جذبوں سے لڑی جاتی ہے ۔ ہندوستان میں اکثریت مہا ہندوستان کا خواب دیکھ رہی تھی اس لیے انہوں نے پاکستان کو دل سے قبول ہی نہیں کیا ۔ ہندوستان میں بسنے والا انتہاپسند ہندو طبقہ ہمیشہ پاکستان سے نفرت کا اظہار کرتا رہا ہے اور موقع ملتے ہی کوئی نہ کوئی حرکت کرتا رہاہے ۔ پاکستان کشمیر میں بھارت کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ ہر فورم میں نبردآزما رہا ہے ۔

سن 65میں ہندو انتہا پسند سوچ ستمبر کی راتوں پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ مگر انہیں معلوم نہیں تھاکہ پاکستانی قوم اور فوج ہتھیاروں سے نہیں جذبوں اور ایمان سے لڑے گی ۔ موت کو محبوبہ جان کر وہ دشمن کے ٹینکوں کے آگے بے خوف لیٹ جائیں گے ۔ ہر شخص اپنی شناخت اور پہچان مٹا کر ایک پاکستان کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جائے گا ۔ نغموں کی دھنوں سے لیکر واعظ کے خطاب تک میں شہادت کی آرزوئیں سما جائیں گی ۔ ماں اپنے بیٹوں کو، بہنیں اپنے بھائیوں کو ، سہاگنیں اپنے سہاگ کو مقتل میں خود بھیجیں گی ۔ ہر طرف بین کی نہیں نعرہ تکبیر کی صدائیں ہوگی ۔ ہماری بری فوج سرحدوں کی ، ہماری بحریہ سمندروں کی ، ہماری فضائیہ ہمارے فضاؤں کی ، ہمارے علماء ، زعماء ، دانشور ، سیاستدان ، مشائخ ، نیز ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص نا قابل عبور دیوار کی طرح ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے گا ۔ پھر تاریخ نے دیکھا ایک قوم ایک آواز ایک ہتھیار بن کر اپنے سے دس گناہ بڑے طاقتور حملہ ٓاور پر اس طرح ٹوٹ پڑی کہ دشمن کو ناکوں چنے چبوا دئے ۔ بہادری اور شجاعت کے وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ دشمن بھی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکا ۔

یہ سن 65کی داستان تھی جب ہم ایک قوم تھے ہمارے سیاسی ، مذہبی اور معاشرتی اختلافات یا مفادات بعد میں آتے تھے ۔ پاکستان پہلے آتا تھا ۔ ہمارے سیاسی ، مذہبی ، لسانی اور قبائلی نام بہت تھے مگر پہچان ایک تھی ۔ ہمارے دکھ بہت تھے مگر سکھ ایک تھا ۔ ہماری آرزوئیں بہت تھیں مگر خواب ایک تھا ۔ ہمارے رستے بہت تھے مگر منزل ایک تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اپنے سے بڑے طاقتور اور جنونی دشمن کو اپنے اتحاد اور اتفاق سے بد ترین شکست سے دوچار کیا ۔ جس کے زخم وہ آج بھی چاٹ رہا ہے ۔

سن 65کے بعد نہ جانے ہماری قوم کو کس کی نظر کھا گئی ۔ ہم قوم سے ہجوم میں بدلنے لگے ۔ دشمن نے وار کا انداز بدلا ۔ سامنے آنے کے بجائے پیچھے سے وار کرنے کی ٹھانی ۔ ہمیں ہماری کمزوریوں سے شکست دینے کا منصوبہ بنایا ۔ ہمیں ہماری غلطیوں سے سر نگوں کرنے کی ٹھان کر اس نے سن 71 میں ہمیں دولخت کردیا جس میں اس کا کردار مکاری کا تھا اور ہمارا قتدار کے نشے میں خود کو دولخت کروانے کا ۔ مشرقی پاکستان کے حقوق کو جب ہم نے احسن انداز سے پورا نہیں کیا، عیاشی ہمارا اوڑھنا بن گئی تھی اور ستم ظریفی یہ کہ مشرقی پاکستان کی رائے کو بھی مقدم نہ جانا ۔پھر ایک احساسی محرومی کا بیج جو ہم نے بنگالیوں کے دلوں میں بو دیا تھا وہ بغاوت کے تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ وہی دشمن جو سن65میں بھیگی بلی کی طرح بھاگا تھا وہ سن 71میں چوروں کی طرح آیا اور ہمیں دو ٹکڑے کرنے میں اپنا بدنما کردار ادا کر گیا اور ہم کچھ بھی نہ کرسکے ۔

سن 71میں ہم مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی تفریق میں تھے۔ ایک گہرا زخم کھانے کے بعد ہونا تو چاہیے تھا کہ ہم بدل جاتے اپنی غلطیوں سے سیکھتے ۔ہجوم کی صورت اختیار کرنے کے بجائے قوم کی طرف پلٹ جاتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا ہم وقت کے ساتھ ساتھ تفریق در تفریق اور ہجوم در ہجوم میں تقسیم ہوتے جارہے ہیں ۔ ہم فرقوں ،مسلکوں ، لسانی گروہوں ، ذاتوں ،برادریوں اور خاندانوں میں تقسیم ہوتے جارہے ہیں ۔ اورہر آنے والا دن ہمیں تفریق کرتا جارہا ہے ۔ کمزور طبقوں میں احساسی محرومی بڑھتا جارہاہے ۔ دہشت گردی اور کرپشن نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ قوم بے حسوں کے ٹولے کی مانند ہر کرپٹ اور نااہل کو اقتدار تک پہنچاتی ہے۔ اور اپنی تباہی کا نوحہ بھی نہیں پڑھتی ۔

رہنما اور رہزن میں فرق ختم ہوتا جارہا ہے ۔ واعظ کے وعظ میں اثر ختم ہوگیا ہے خانقاہیں ویران ہوتی جارہی ہیں اور ہم ایک ہجوم کی شکل میں جس طرف رخ ہے اسی طرف انجام سے بے خوف بڑھے چلے جارہے ہیں ۔ جن درختوں کو گھن کھارہی ہو انہیں باہر سے کاٹا نہیں جاتا، وہ اندر کی گھن سے ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ 6ستمبر کو ہم یوم دفاع مناتے ہیں، لیکن یہ دن سوچنے کا دن ہے کہ 1965 میں اس روز ہم قوم تھے۔ 6ستمبر 2015کو ہم ہجوم ہیں ۔ ہمیں پھر سے 6ستمبر 1965کی جانب لوٹنا ہوگا اور ہجوم سے قوم کی طرف پلٹنا ہوگا ۔