اسلام اور سیکولرازم

  • ہفتہ 10 / اکتوبر / 2015
  • 4562

اسلام اس وقت مغربی طاقتوں کے شکنجے میں ہے۔ ہر طرف سے اسلام، بانی اسلام اور اسلامی تعلیمات پر حملے ہو رہے ہیں۔ عوام الناس اور خصوصاً مغربی معاشرہ میں نہ صرف غیر مسلموں کو بلکہ مسلمانوں کو بھی ان کا سیکولرازم اچھا اور دل لبھانے والا محسوس ہو رہا ہے۔سیکولرازم کے مختلف معانی ڈکشنری سے معلوم ہوتے ہیں اوروہ سب ٹھیک ہیں اور لغت سے ثابت ہیں۔ یعنی وہ تعلیم جو انسانی اقدار پر مبنی ہو اخلاقیات ، انسانیت ۔ اخلاقیات کا مؤید ۔ ان سب باتوں کی تعلیم قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ میں بدرجہ اتم اور مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔

دنیا میں سب سے پہلی سیکولر ریاست مدینہ میں قائم ہوئی تھی جس کے سربراہ حضرت محمد ﷺ تھے ۔آپ نے ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لاتے ہی تمام قبائل مدینہ کے ساتھ مل کر ایک تحریری معاہدہ کیا جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی ایک شق یہ تھی کہ مدینہ کے یہود ،مشرکین اور مسلمان اس معاہدہ کی رو سے ایک قوم ہوں گے۔یہ تینوں اقوام نسلی طور پر ایک نہیں تھیں ، نہ ہی اعتقادی اعتبار سے ایک تھیں ،کیونکہ یہودی بنی اسرائیلی تھے اور مشرکین مدینہ عرب یعنی بنی اسماعیلی تھے۔لہٰذا اس جملہ کا صر ف یہی مطلب ہے کہ حقوق شہریت کے لحاظ سے یہ ایک قوم ہیں۔ زبان،نسل اور عقیدہ کی بناء پر ان کے حقوق میں فر ق نہیں ہوگا۔

افسوس یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس کا پرچار کرنا تھا۔ جنہوں نے اخلاقی اور انسانیت کی تعلیم دینی تھی ، جنہوں نے دنیا کو اخلاق حسنہ سکھانے تھے اور نمونہ بننا تھا، وہ اس تعلیم پر عمل کرنے سے عاری ہو گئے ہیں ۔ دینی تعلیمات سکھانے کی بجائے ، سیاست میں اور کرسیوں پر بیٹھنے کی خواہش حاوی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو بھول گئے ہیں ۔ قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے:
لااکرہ فی الدین، دین میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں(سورۃ البقرہ)
اور پھر یہ کہ:
لکم دینکم ولی دین (الکافرون ۷:۱۰۹)
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔
اس سے بڑھ کر آزادی دینے والا اور کون سا مذہب ہے۔ یہی تو سیکولرازم ہے۔ یہی آیت ہر ایک کے مستقبل کی ضمانت ہے کہ ریاست کو کسی کے مذہب میں دخل اندازی کرنے کا حق نہیں۔

ہر دو آیات کا مضمون بڑا واضح ہے کہ ہر کسی کا عقیدہ اور اعمال اپنے اپنے ہیں اور حکومت یا ریاست کا اس سے کچھ تعلق نہ ہو گا۔ آنحضرت ﷺ کا اور آپ کے خلفاء کا ساری عمر انہیں آیات پر عمل رہا۔ سب کو اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے اور عبادات بجا لانے کی پوری طرح آزادی تھی۔ حتی کہ آپﷺ نے عیسائیوں کو مسجد نبوی میں اپنے طریق پر خدائے واحد کی عبادت کی اجازت دی۔ اور پھر ایک موقع پر ایک یہودی نے جب آنحضرتﷺ کی خدمت میں ایک مسلمان کا کیس پیش کیا کہ اس نے یہ کہہ کر کہ آنحضرتﷺ کو موسیٰ پر فضیلت ہے میرا دل دکھایا ہے۔ تو آپ نے مسلمان کو نصیحت کی ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسا نہ کریں ۔ اس طرح مذہبی آزادی بلکہ انسانیت کے حقوق اور سماج و معاشرہ کو بدامنی سے بچانے کی ایک زبردست راہ نکالی ۔

اس کے علاوہ اس زمانے کے بارے میں بھی ایک بات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی تھی جب ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا تھا۔
’’جب امانتیں ضائع کی جائیں گی۔ اس نے پوچھا کس طرح؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کے سپرد اہم کام کئے جائیں گے یعنی اقتدار بددیانت اور نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے گا اور وہ اپنی بددیانتی اور فرض ناشناسیوں کی وجہ سے قوم کو برباد کر دینگے۔(بخاری کتاب العلم)
مشکوۃ کتاب العلم کی یہ حدیث جس میں پیارے رسول حضرت خاتم النبیین محمد ﷺ نے فرمایا اور اس کے راوی حضرت علی کرم اللہ وجہ ہیں۔ ’’عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا ، الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا ، اس زمانہ کے لوگوں کی مساجد تو بظاہر آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سرچشمہ ہوں گے‘‘۔
کنزالعمال کی اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:
’’میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا لوگ اپنے علماء کے پاس راہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سووروں کی طرح پائیں گے یعنی ان علماء کا کردار انتہائی خراب اور قابل شرم ہو گا‘‘۔

بہت ساری احادیث اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان احادیث کے پیش کرنے کا مطلب صرف اتنا ہی ہے کہ جو کچھ ہمارے پیارے آقا محمد رسول ﷺ نے فرمایا تھا وہ سب کچھ سچ ہو کر اِس وقت اِس زمانے میں ہمارے سامنے ہے۔ اس وقت سیکولرازم کی جو بات ہو رہی ہے ۔ وہ باتیں تو اسلام نے ۱۴۰۰ سال پہلے سکھا دی تھیں مگر مسلمان ان سب باتوں کو بھول گئے ہیں۔

اس وقت مغربی معاشرہ میں اسلام صرف قتل و غارت کا مذہب دکھائی دے رہا ہے ۔ اسلام کے ناقدین مختلف بہانوں سے اور ذرائع سے یہ باتیں پیش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نسبت یہ معاشرہ زیادہ روشن خیال ہے ۔ فراخ دل ہے جس نے ہر مذہب اور رنگ و نسل کے افراد کو اپنے اندر جذب کیا ہوا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں خود دیکھ لیں کہ اس وقت پناہ گزینوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ لاکھوں تارکین وطن مختلف اسلامی ممالک وغیرہ سے ہجرت کر کے مغربی ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ جب کہ خود مسلمان ملکوں نے اپنے دروازے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے لئے بند کر دیئے ہیں۔ تازہ مثال اس کی یہ ہے کہ پوپ نے اعلان کیا کہ ملک شام سے ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کی ایک ایک فیملی کو کیتھولک رہنما اپنے پاس رکھیں۔ انکی رہائش قیام و طعام کا بندوبست کریں۔ انہوں نے غیر مسلم ہو کر مسلمانوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا۔ اور حرمین شریفین والوں نے اعلان کیاہم جرمنی میں مساجد بنا دینگے۔ اور شام کے پناہ گزینوں کو نہ آنے دیں گے۔ یاللعجب؟

یہ بھی یاد رکھیں کہ سیکولرازم کے لفظ سے ہمیں بدک نہیں جانا چاہئے۔ اس کے اچھے معانی اپنانے میں کچھ حرج نہیں ہے بلکہ اسلام کے بانی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الحکمۃ ضالۃ المومن اخذھا حیث وجدہا۔ کہ حکمت تو مومن کی گم شدہ متاع ہے جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیئے۔
اسلام کا نہ یہ منشا تھا نہ ہے اور نہ ہو گا کہ معاشرہ کو کسی بھی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ اسلام میں یہ خیال بھی نہیں ہے کہ صرف اور صرف مسلمان ہی اول درجہ کے شہری ہیں اور دوسرے لوگوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد ہے :
’’یقیناًاللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقیناًبہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ یقیناًاللہ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے ‘‘ (النساء آیت ۵۹)
یہاں امانت سے مراد انتخاب کا حق ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کا اختیار چلتا ہے ووٹ ایک امانت ہے جو اسی کو دینا چاہیے جو اس کا اہل ہو یہی سچی جمہوریت ہے۔ اور جب حکومت ملے تو پھر لازماً انصاف سے کام لینا ہو گا نہ کہ پارٹی کا خیال رکھنا۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قابل اور اہل آدمیوں کا انتخاب کریں جو موزوں ہوں۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔کیوں کہ قرآن قیامت تک کے لئے ہے۔ اور سب زمانوں کے لئے ہے۔یہاں پر مذہب کی بنیاد پر انتخاب کی نفی ہے ۔ یہی سیکولرازم ہے۔ اور جب انتخاب ہو جائے تو پھر ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مکمل اطاعت کرے ۔ کیا مسلمان صرف مسلمان حکومت اور مسلمان حاکم کی ہی اطاعت کرے گا؟ غیر مسلم کی اطاعت نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہے تو وہ مغربی معاشرہ میں کیوں وہاں کے قوانین کی اطاعت کرتے ہیں۔کہیں یہ بھی تو منافقت نہیں؟

اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں۔ اور رسول کی اور اپنے حکام کی بھی۔(۶۰:۴)
مذہب Priesthood یا ملاازم نہیں سکھاتا۔ اور دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جس سے یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ آ سکتی ہے کہ جہاں جہاں ملایت یا ملا ازم یا Priesthoodکا تصور غالب رہا خواہ وہ کسی بھی مذہب میں تھا۔ وہاں خون خرابہ ہوا اور امن برباد ہوا ہے۔ امن قائم رکھنے کے لئے ریاست اور مذہب دونوں کو الگ الگ ہونا چاہئیے۔

تمام مذاہب نے اخلاقیات کا درس دیا ہے ، اخلاقیات کے بغیر مذہب نامکمل ہے۔ اور ہر نبی کے ماننے والوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے اور توقع کی جاتی رہے گی کہ وہ اعلیٰ اخلاق اپنائیں تا کہ معاشرہ میں بھائی چارہ قائم کیا جاسکے۔ اور ریاست میں کسی بھی قسم کا کوئی امتیازی سلوک کسی کے ساتھ بھی روا نہ رکھا جائے۔ یہی مذہب کی بنیادی تعلیم ہے اور اگر کوئی مذہب اس سے عاری ہے تو وہ خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ اگر اس وقت جرائم کو کم کرنا ہے تو وہ ایک خدا پر ایمان لا کر اور پھر اس کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔ جب اخلاق کا دیوالیہ نکل جاتا ہے تو مذہب پر آنچ آنی شروع ہو جاتی ہے ۔اور لوگ مذہب کو تضحیک کا نشانہ بنانے لگتے ہیں اور اس کا قصوروار مذہب کو ٹھہراتے ہیں ۔ اسی وجہ سے مذہب کے نام پر خون ریزی ، بربریت ، نفرت ، فرقہ وارانہ فسادات ، دہشت گردی اور تباہی و بربادی شروع ہو جاتی ہے۔

آپ ﷺ نے مسلمانوں کو درج ذیل تعلیمات دیں اور خود ان پر عمل کر کے دکھایا۔
۱۔مدینہ میں آپ ﷺ نے سب مذاہب کو یکساں اور برابر کے حقوق دیئے جس میں یہودی و مشرکین وغیرہ شامل تھے۔ یہ آپ کے سیکولرازم کی ایک مثال ہے۔
۲۔ آپ نے ہر قوم کے لیڈروں کی عزت کرنے کی تعلیم دی۔
۳۔ آپ نے جنگوں میں بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور مذہبی لیڈروں کو قتل نہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔
۴۔ ہمسائیوں سے حسن سلوک کی تعلیم دی
۵۔ معاہدات کی پابندی سکھائی ۔ ابوجندلؓ کا مشہور واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا واپس جاؤ اب میں معاہدہ کر چکا ہوں۔ اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔
۶۔ عورتوں کے حقوق کی پاسداری اور نگہداشت فرمائی
۷۔ بچوں تک کا احترام سکھایا ہے۔
۸۔ آنحضرت ﷺ نے بزنس میں خریدو فروخت میں دھوکہ کو نہ صرف نا پسند فرمایا بلکہ اس کی مخالفت فرمائی اور فرمایا جو دھوکہ دے اس کا ہمارے ساتھ کچھ تعلق نہیں ہے۔

مگر وہ معاشرہ جن کو اس کی تعلیم دی گئی تھی وہ دھوکہ تو ایک طرف اس سے کہیں زیادہ اس میں ملوث ہے جس کے لئے مناسب الفاظ بھی ملنے مشکل ہیں۔