مہاجرین کے متعلق اتنا شور کیوں
- اتوار 18 / اکتوبر / 2015
- 4154
کہاوت ہے کہ سچ ابھی جوتا ہی پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ دنیا کا آدھا سفر طے کر چکا ہوتا ہے ۔
پچھلے ایک دو ماہ سے یورپ میں مہاجرین کے بحران سے ایک ایسی عجیب صورت حال پیدا ہو چکی ہے جو سلجھنے کی بجائے الجھتی ہی جا رہی ہے۔ اس صورت حال میں اب مزید الجھاؤ اس بات سے پیدا ہو گیا ہے کہ کون مہاجر ہے اور کون تارک وطن یعنی معاشی مہاجر؟
اس بارے میں جتنے منہ اتنی ہی باتوں کے مصداق جھوٹ کی فراوانی اور پروپیگنڈے کو ایک “ سیاسی ٹریڈ مارک “ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ وسطی یورپ میں کھیتوں سے گزرتے، پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے، بے سروسامان بچوں اور نوجوانوں کے قافلے شمالی یورپ میں انجانی منزلوں کی جانب رواں ہیں۔ میلوں سفر کرتے بوڑھے افراد اور زبوں حال مہاجرخاندانوں اور انہیں پولیس اور سرحدی محافظوں کی جانب سے روکے جانے کی خبریں اور تصویریں یورپی اخبارات اور ٹیلیویژن اسکرینوں پر دکھائی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ دن رات جا رہی ہے ۔
سیاستدان اِن دلدوز اور افسوسناک حالات کو بہتر بنانے کی بجائے انہیں مزید بھڑکانے کے لیے ایندھن ڈال رہے ہیں ۔ اور الجھنوں کو مزید اُلجھا رہے ہیں ۔ میڈیا بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہوئے “ خطرے کے ڈھول “ پیٹ رہا ہے ۔ اس طرح مہاجرین اور معاشی تارکین وطن کے درمیان حدِّ فاصل مانند پڑتی جا رہی ہے ۔ مہاجرین کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے ۔
سیاستدان تماشائی بنے اِس “ تما شا “ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا اپنا اُلّو سیدھا کر رہے ہیں۔ میڈیا انہیں اس بحران کی تصویریں دکھا کر حالات کو مزید الجھا تو رہا ہے ، سلجھانے کی کوئی تد بیر پیش نہیں کرتا ۔ اب یہ بتانے کی کوشش کی جار ہی ہےکہ یورپ پر یلغارکرنے والے مصیبت زدہ مہاجر کم اور معاشی آسودگی کے لئے ہجرت کرنے والے تارکین وطن زیادہ ہیں ۔ اس کی حالیہ مثال برطانوی وزیر اعظم کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے مہاجرین اور معاشی تارکین وطن کو ایک ہی پلڑے میں رکھتے ہوئے کہا ہے کہ “ لوگوں کی اِس بھیڑ میں شامل سبھی ایک سے ہیں“۔
پچھلے دنوں یورپ کے دوسرے ملکوں سے ڈنمارک پہنچنے اور یہاں سے آگے سویڈن جانے کے خواہشمند مہاجرین کے قافلے پہنچنا شروع ہوئے تو سرحدی پولیس نے انہیں ڈنمارک داخل ہونے سے روکنے اور آگے جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی کوشش کی۔ اِن اقدامات کے خلاف غیر متوقع طور پر ایک طرح کی “ سول نافرمانی “ کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ ملک بھر میں انسان دوست ڈینش شہریوں نے ان مہاجرین کے لئے فوری اشیائے ضرورت سے بے سروسامان مہاجر ین کی مدد کی۔
سیاستدان اور میڈیا کے برعکس عام شہری اِن خانماں برباد لوگوں کو مہاجر قرار دے کر ان کی مدد کر رہے تھے ۔ ان سب کا ایک ہی مؤقف تھا کہ یہ سب مہاجر ہیں اور انہیں اس وقت فوری مدد کی ضرورت ہے ۔ لیکن حکومت ان لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے ہمیشہ کی طرح غافل ہے ۔ وزیر انٹگریشن ہر محاذ پر ڈھول پیٹتی رہیں کہ ان معاشی تارکین وطن کی کوئی مدد نہیں کی جا سکتی اور بیشک یہ ڈنمارک سے سویڈن یا کسی دوسرے ملک جانے کا ارادہ رکھتے ہوں، انہیں سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مہاجرین کا بحران کوئی نیا نہیں ہے۔ تاہم اس میں شدت کی موجودہ لہر نے لوگوں کو بیدار ہونے پر مجبور کیا ہے ۔
یورپی یونین کے ممالک میں ایک دوسرے کے شہریوں کے لئے اپنی سرحدوں کو کھلا رکھنے ، انہیں ایک دوسرے کے ملک میں آزادانہ آنے جانے، ملازمت و رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن دوسری جانب ایک بہت محتاط اندازے کے مطابق، خود یورپی یونین نے2007 اور2014 کے درمیان کم سے کم دو بلین ڈالر مختلف یورپی سرحدوں پر باڑ لگانے اور جدید ٹیکنولوجی استعمال کرتے ہوئے نگران کیمرے نصب کرنے پر صرف اس لئے خرچ کئے کہ لوگوں کو یورپ داخل ہونے سے روکا جا سکے اور جنوب و مشرق سے ایسے لوگوں کو یورپی یونین کے ملکوں میں ہرگز داخل نہ ہونے دیا جا ئے جو سماجی اعتبار سے یہاں جذب نہ ہو سکیں۔
ایک طرف یورپ خود کو پناہ گزینوں سے بچانے کی کوششیں کررہا ہے تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ اور کئ افریقی ملکوں میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لوگ پناہ کے لئے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ دریں اثنا امریکہ کی سرپرستی میں یورپی یونین ابھی تک شام میں حکومت مخالف جنگجوؤں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے اور ہر اُس گروپ کو جنگی تربیت اور اسلحہ مہیا کر رہی ہے جو شامی حکومت کے خلاف ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے عام شہری جان بچانے کے لئے وہاں سے ہجرت کر رہے ہیں ۔
اب جب مہاجرین کا سیلاب دکھائی دینے لگا ہے اور بحرانی صورت حال پیدا ہو چکی ہے تو یورپی یونین ان مہاجرین کو معاشی تارکین وطن قرار دے کر اپنے ہی لوگوں سے جھوٹ بول رہی ہے اور یورپی حکومتی رہنما اور میڈیا ایسا ماحول پید اکرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ دھوکے میں آجائیں۔ اور مہاجرین کو معاشی تارکین وطن سمجھ کر ان کے خلاف مختلف حکومتوں اور یورپی یونین کے اقدامات کو قبول کر لیں ۔
دور دکھائی دینے والی مشرقِ و سطیٰ کی جنگ ، اب مہاجرین کی صورت میں یورپ تک آن پہنچی ہے ۔ اس بحران کا جواب خود یورپ کے مستقبل کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہوگا ۔
ڈنمارک میں مہاجرین کی صورت حال کے بارے میں سرکاری اقدامات ملک میں تاریخ کی نئی صورت گری کریں گے ۔ اِن سرکاری اقدامات کے دورا ن اس حقیقت کو بطور خاص مدنظر رکھا جانا لازمی ہے کہ عام ڈینش شہریوں کی بھاری اکثریت ان مہاجرین کو خوش آمدید کہنے میں پیش پیش رہی اور انہوں نے اپنی حکومت کے سخت رویے کی بالکل پروا نہیں کی تھی ۔ وہ ڈینش جو یہ سوچتے ہیں کہ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد اُن کے لیے ایک اقتصادی بوجھ بن جائے گی اور ٹیکس کی مد میں ادا کئے گئے اُن کے پیسے اِن مہاجرین پر ضائع ہو جائیں گے، انہیں بھی اپنے روّیے پر نظرثانی کرنے اور مہاجرین مخالف سیاسی قوتوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔
یہ نئے آنے والے مہاجرین، ڈنمارک کے لئے کس طرح فائدہ مند ہو سکتے ہیں، اس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ ڈینش حکومت اُن سے کس طرح کا برتاؤ کرتی ہے ۔ یہاں آنے والے بیشتر شامی مہاجرین، نوجوان اور باہمت ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کے لئے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں ۔ نوجوان شامی مرد اور عورتیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو ڈینش نوجوانوں کی طرح اپنے تشخص کی حفاظت کرنے اور اچھے مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔
بد قسمتی سے وہ ایک جہنم سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں ۔ کیا ہم چاہیں گے کہ انہیں واپس اُسی جہنم میں بھیج دیا جائے جہاں سے وہ بھاگ کر بس اپنی جانیں ہی بچا پائے ہیں۔ نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے! ڈینش حکومت کو ان مہاجرین کے لئے بالکل اُسی طرح کا ہمدردانہ روّیہ اپنانا چاہیے جیسا کہ ڈینش عوام کی اکثریت اُن کے لئے رکھتی ہے۔ عام لوگ ان مہاجرین کے لئے دیدہ و دل وا کئے انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں ۔