شراب نوشی کے اثرات

  • منگل 20 / اکتوبر / 2015
  • 4714

کسی بھی ملک کے حالات کوسمجھنا چاہیں تو دیکھنا چاہیے کہ وہاں نظم و نسق کی صورتحال کیا ہے،خواتین جو معاشرہ کا کمزور ترین حصہ ہیں وہ کن حالات سے دوچار ہیں ، افراد و گروہ کن بنیادوں پر تقسیم ہیں،اخلاقی اعتبار سے معاشرہ کس معیار پر ہے وغیرہ۔صورتحال کا جائزہ اہل علم کے لیے اگر باعث سکون ہوتو اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں ہو سکتی ۔ لیکن اگر حالات تشویشناک ہوں تو پھر منظم و منصوبہ بند مثبت تبدیلوں کے لئے سرگرم عمل ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے فیصلہ دیا ہے کہ ریاست مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی میں شراب والی رقص گاہوں پر عائد پابندی ختم کی جائے۔سنہ دو ہزار پانچ میں ریاستی حکومت نے ان رقص گاہوں پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی تھی کہ یہ رقص گاہیں جرائم اور جسم فروشی کے اڈے ہیں اور نوجوانوں میں بے راہ روی کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ رقص گاہیں چونکہ مال و دولت کے حصول کا ذریعہ بنی ہوئیں ہیں لہذا متاثرہ مالکان و رقاصاؤں نے پابندی کی شدید مذمت کی ۔ ان ڈانس بارز میں رقاصائیں گانوں پر رقص کرتی ہیں تو شائقین بے تحاشہ دولت لٹاتے ہیں۔پابندی لگنے سے پہلے لگ بھگ چودہ سو رقص گاہوں سے ایک لاکھ عورتوں کا " روزگار " وابستہ تھا۔

ریاستی حکومت کی جانب سے اس پابندی کو اپریل دو ہزار چھ میں ممبئی میں ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ میں اپیل کی گئی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ فیصلہ آنے تک یہ رقص گاہیں بند رہیں گی۔لیکن پندرہ اکتوبر سنہ دوہزار پندرہ کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ریاست مہاراشٹر میں ڈانس بارز یعنی رقص گاہوں پر لگی پابندی کو ختم کر دیا اور اس طرح ممبئی میں بند پڑے ڈانس بارز دوبارہ کھل گئے۔ مہاراشٹر کی سابقہ کانگریس اور این سی پی کی حکومت نے رقص گاہوں پر پابندی عائد کر کے انہیں بند کروا یا تھا۔ رقص گاہوں کے مالکان نے عدالت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ممبئی ڈانس بار ایسوسی ایشن کے ترجمان منجیت سنگھ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’ہم اسے ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ممبئی سے نائٹ لائف ایک طریقے سے ختم ہو گئی تھی اور جو خواتین رقاصائیں تھیں وہ گھر چلانے کے لیے جسم فروشی کرنے پر مجبور ہوگئیں تھیں۔ ہماری "تجارت "بھی اب اچھی طرح سے چل سکے گی لہذا ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شراب و منشیات کے اس کھلے بازار میں عصمتیں نیلام ہوتی ہیں،اخلاقی زوال کی بدترین مثالیں قائم کی جاتی ہیں ،نتیجہ میں نہ صرف ملک کا مستقبل ،نوجوان طبقہ ہلاکت میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرہ بھی تباہیوں کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔دوسری جانب منشیات اور اس کو استعمال کرنے والے افراد کے ذریعہ نہ صرف معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ صحت عامہ کے بھی بے شمار مسائل یہیں سے پنپتے ہیں۔جرائم کے فروغ اور اضافہ میں بھی متاثرہ افراد پیش پیش رہتے ہیں۔ہندوستان میں اس وقت ریاست پنجاب کے شہریوں کی بڑی تعداد اس لعنت میں مبتلا ہے۔75%فیصد نوجوان منشیات کے شکار ہیں۔ ممبئی ،حیدر آباد اور دیگر بڑے بھی شہر اس کی لپیٹ میں ہیں۔ہندوستان کے مسلمانوں کی 18%آبادی اگر الگ کر دی جائے تو 75%فیصد گھروں میں شراب عام طور پر استعمال کی جاتی ہے ساتھ ہی اسے کوئی برائی بھی نہیں سمجھا جاتا۔ریاستی و مرکزی حکومتیں منشیات میں مبتلا افراد کو چھٹکارا دلانے کے لیے بے شمار rehab centres چلانے میں مصروف ہیں۔

ملک کی راجدھانی دہلی میں اس طرح کے سینٹر س کی تعداد تقریباً500ہے۔ دیگر این جی اوز و ادارے بھی اس کام میں مصروف عمل ہیں۔اس کے باوجود حکومت شراب کے ٹھیکوں کو لائسنس دیتی ہے،سستے داموں میں منشیات کھلے عام ہر مقام پر دستیاب ہے اور معاملہ اس وقت مضحکہ خیز بن جاتا ہے جب ملک کی سپریم کورٹ شراب و رقص گاہوں کو چلانے کی اجازت دیتی ہے۔ان حالات میں ملک کے ہر شہری،بااختیار افراداور حکومت و عدلیہ کو سوچنا چاہیے کہ شراب و منشیات اور اس کے نتیجہ میں ملک و معاشرہ جس درجہ خسارے میں مبتلا ہے۔ اس لئے ان کی روک تھام کے لئے اقدام کئے جائیں کجا کہ اس کی سرپرستی کی جائے۔

خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی مسلمانوں پر منحصر ہے۔یہ لوگ تعلیماتِ خداوندی کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سنوانے کی سعی و جہد کرتے ہیں۔لیکن اس اقلیت کے وہ افراد و خاندان جو اسلامی تعلمیات سے ناآشنا ہیں، شراب و منشیات سے گریز نہیں کر تے۔نتیجہ میں وہ برائیاں یہاں گرچہ اس درجہ میں نہیں اس کے باوجود قابل قدر تعداد اس سے متاثرہوتی ہے۔خصوصاً مسلمانوں کا نوجوان طبقہ میں اس قسم کی علت عام ہے۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو کسی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ یا ان کی نوجوان نسل اِس برائی سے طویل مدت بچی رہے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس قسم کی برائیوں سے بچنے کی منظم کوششیں پورے شعور کے ساتھ کی جائیں۔

شعور کی ابتدا وہ قرآنی ہدایات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:پوچھتے ہیں :شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ کہو ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ گرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں ، مگر ان کا گناہ ان کے فا ئدے سے بہت زیادہ ہے(البقرہ:۲۱۹)۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے،160یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہوگے؟ اللہ اور اس کے رسول ؐ کی بات مانو اور باز آجاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول ؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی( المائدہ:۹۰-۹۱)۔وہیں اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لاتی ہو،اس چیز کی کم مقدار بھی حرام ہے(مسند احمد)۔

احکامات خداوندی کی روشنی میں فکر و عمل کی تصحیح ہمارے اختیار میں ہے۔عمل کے نتیجہ میں ہم اور آپ نہ صرف اللہ کی رضا و خوشنودی اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنا ر ہوں گے بلکہ عمل ہی کے نتیجہ میں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ وتشہیر بھی خود بہ خود ہو جائے گی۔نیز ملک و ملت اور معاشرہ کی صورتحال میں بھی مثبت تبدیلی سامنے آسکتی ہے۔لہذا لازم ہے کہ اسلامی تعلیمات کو بھر پور انداز میں نہ صرف عام شہریوں تک پہنچایا جائے بلکہ پالیسی ساز اداروں میں اس تعلق سے گفتگو ہونی چاہیے۔کوششوں کے نتیجہ میں ممکن ہے اہل علم اور باشعور انسان برائیوں سے نجات پائیں اور ملک کے بے شمار وسائل وصلاحیتیں اور مال و دولت کا صحیح استعمال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کے خلاف سرگرم لوگوں اور اداروں کی سرپرستی بھی بے حد ضروری ہے۔