سانحہ کربلا

  • منگل 20 / اکتوبر / 2015
  • 5799

محرم الحرام کا لفظ عربی قواعد کے مطابق یہ اسم مفعول ہے ۔ جو کہ تحریم سے بنا ہے تحریم باب تفعیل ہے ۔ تحریم کے بہت سے معنی ہیں ۔ ایک معنی تعظیم کرنے کا بھی ہے ۔ اس لحاظ سے محرم کا معنی ہے عظمت والا احترام والا مہینہ ۔ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے قبل بھی دوسری شریعتوں میں چار مہینے بہت فضیلت والے گنے جا تے تھے۔ ان مہینوں کا اہل عرب بھی بہت احترام کرتے تھے۔ عرب جنگ و جدل کے باوجود ان مہینوں میں جنگ سے پرہیز کرتے تھے۔

محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو تاریخ عالم میں خاص اہمیت حا صل ہے ۔ مشہور قول کے مطابق سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ دس محرم الحرام ہے ۔ اس لیے آپ کی شریعت میں دس تاریخ کا روزہ فرض تھا اور آدم علیہ السلام ہمیشہ دس تاریخ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ دس محرم الحرام وہ اہم تاریخ ہے جس دن مصر کا نافرمان بادشاہ فرعون قلزم میں غرق ہوا تھا ۔ اور حضرت موسی علیہ السلام نے مع اپنی قوم بنی اسرائیل اس کے مظالم سے نجات پائی تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی کے شکرانہ کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔ آپ کی اقتداء میں قوم یہود نے بھی ہمیشہ اس تاریخ کا روزہ رکھا ۔ حضور اکرم ﷺجب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو اس تاریخ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا ہمارے لیے بھی دس محرم اسی طرح سے قابل احترام ہے لیکن مسلمان اپنا امتیاز اور تشخص قائم رکھنے کے لیے نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھا کریں۔ اس لیے صحابہ کرام ہمیشہ یہ دو روزے رکھا کرتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ دس محرم الحرام کو کثرت سے خیر خیرات کرنے کی بھی تبلیغ فرمایا کرتے تھے۔

یہی وہ دس تاریخ ہے جس دن قیامت آئے گی اور اللہ تبارک و تعالی اس کائنات کی بساط لپیٹ دیں گے۔ محرم الحرام کو اسلامی تاریخ میں اس لیے بھی خصوصی اہمیت حا صل ہو گئی کہ اس کی یکم تاریخ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی تاریخ ہے ۔ مسلمانوں کی تاریخ میں محرم الحرام کو اس عظیم درد ناک واقعہ سے اہمیت حاصل ہوئی جو کہ کربلاء معلی میں نواسہ رسول پاک ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت کی صورت میں پیش آیا۔ امت مسلمہ نے اس دردناک سانحہ پر اتنے آنسو بہائے ہیں کہ اگر قدرت خداوندی سے وہ سب آنسو جمع ہو جائیں تو دنیا میں ایک دجلہ اور فراط اور جاری ہوجائیں ۔

سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ پیغمبرسید الکائنات فخر کونوں مکاں رحمۃ اللعلمین شفیع المذنبین سیدنا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیﷺخاتم النبیین کے نواسے ہیں۔ شیر خدا سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے ہیں۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ اللہ کے رسول کے دل کا ٹکڑا سیدہ طاہرہ بتول فاطمۃ الزہرا ء رضی للہ تعالی عنہا ہیں ۔آپ پیارے پیغمبر ﷺ کی سب سے چھوٹی شہزادی تھیں۔ ان کی بڑی بہن کا نام حضرت زینب ان کے بعد حضرت رقعیہ پھر حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین پیدا ہوئیں ۔آپ کی پیدائش مبارک وحی رسالت کی آمد کے پہلے سال میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ آپ کے بطن مبارک سے تین بیٹے حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت محسن اور دو بیٹیاں حضرت ام کلثومؓ اور حضرت زینبؓ پیدا ہوئیں ۔ حضور اکرم ﷺکی نسل اسی شہزادی حضرت فاطمۃ الزہراء سے چلی۔

حضرت فاطمۃ الزہرا کا گھر حضور اکرم ﷺکے گھر کے متصل تھا ۔ اس لیے آپ اکثر و بیشتر ان کے گھر میں تشریف لے جاتے اور اسی طرح بیٹی والد محترم کے دولت کدہ پر تشریف لا تی رہتیں ۔ جب حضرت فاطمۃ الزہرا حضور اکرم ﷺکے گھر تشریف لا تیں تو آپ کھڑے ہو جا تے بیٹی کو گلے لگا تے اور جہاں سے بال شروع ہو تے ہیں یہاں سے بیٹی کی پیشانی چومتے تھے اس کے جواب میں حضرت فاطمہ ابا جی کا ہا تھ اپنے ہا تھ میں لے کر پشت کی طرف سے چوم لیا کرتی تھیں ۔ آپ ﷺ جب سفر میں تشریف لے جا تے امہات المو منین کے تمام گھرو ں سے ہو کر آخری گھر جس میں تشریف لے جا تے وہ بیٹی کا گھر ہوا کرتا ۔ جب سفر سے واپس آ تے تو سب سے پہلے بیٹی کے گھر میں تشریف لے جا تے ۔

3 ہجری میں سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے ۔ 4 ہجری میں ماہ شعبان میں سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ان دونوں شہزادوں کی شکل و صورت امی جان کی نسبت کی بناء پر اپنے ناناں جان حضور اکرم ﷺسے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھی ۔حضور اکرم ﷺ کو ان دونوں صاحبزادوں سے والہانہ محبت تھی۔ فرمایا کرتے تھے حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں اور یہ بھی فرمایا حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ ان پر شفقت کے کئی پیارے واقعات ہیں۔ایک دفعہ آپ ممبر پر واعظ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں صاحبزادے آ رہے تھے اور قمیض میں پاؤں اڑ کر گر پڑے تو حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں کو اٹھا کر ممبر پر اپنے پہلو میں بٹھا لیا حضرت اسامہ بن زید سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دونوں رانوں پر حسنؓ اور حسینؓ کو بیٹھے دیکھا اور فرما رہے تھے یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ اور ہر اس شخص سے محبت فرما جو ان سے محبت کرتا ہو ۔ آپ کایہ بھی ارشاد عالی موجود ہے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسینؓ سے محبت رکھے اللہ تعالی اس سے محبت رکھے۔حضرت حسینؓ کی شہادت کی خبر آپ نے اپنی زندگی مبارک میں ہی دے دی تھی۔

35 ھجری میں سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کردیے گئے ۔ ان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کی سازش سے غلط فہمی پیدا ہوگئی اور سلطنت اسلام دو حصوں میں بٹ گئی۔ شام کا علاقہ حضرت امیر معاویہ رصی اللہ تعالیٰ عنہ کی فرما نروائی میں چلا گیا اور عراقی علاقہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں آگیا ۔17 رمضان المبارک چالیس ھجری کو سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ کی جامع مسجد میں شہید کردیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے سیدنا حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے ۔ان کو اپنے ناناجان کی ایک حدیث پہنچی تھی کہ یہ میرا بیٹا حسن سید ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے گا۔ آپ نے اس بشارت کا مستحق بننے کے لیے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کرلی اور خود 41 ھجری میں خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ اس طرح سے ملت اسلامیہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سربراہی میں ایک جھنڈے کے نیچے آگئی۔ 5 ربیع الاول 50 ھجری کوسیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی بیوی جعدہ دختر اشعث ملعونہ نے زہر دیدیا اس طرح سے آپ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔60 ھجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی۔ان کے بعد ان کا بیٹا یزید تخت نشین ہو۔ا جس کے دور میں تاریخ اسلام کا وہ اندہ ناک واقعہ پیش آیا جس پر امت قیامت تک آنسو بہاتی رہے گی۔ جب یزید نے بیعت لی تو چار عظیم المرتبت ہستیوں نے بیعت سے انکار کردیا 1 ۔سیدنا حضرت امام حسینؓ بن سیدنا علی ا لمرتضیؓ کرم اللہ وجہ-2سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ 3 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 4 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یہ چاروں عظیم امرتبت ہستیاں مکۃ المکرمہ میں مقیم تھیں ۔

چند روز بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطوط لکھے کہ ہمارے اوپر بہت سے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ ہمیں ان سے نجات دلانے کے لیے آپ کوفہ تشریف لائیں ۔ آپ نے پہلے تو انکار کیا مگر پھر ان کا اصرار بڑھنے پر ارادہ فرمالیا ۔ حضرت عبداللہؓبن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہؓ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ارادے سے منع کیا ۔ مگر آپ کوفیوں کے آئے ہوئے 1200 خطوط سے اس قدر متا ئثر ہو چکے تھے کہ آپ نے بہر حال ارادہ سفر کرلیا اور آپ 10 ذولحج 60 ھجری کو گھر کے تمام افرادجن میں مرد عورتیں اور بچے وغیرہ شامل تھے مکۃ المکرمہ سے عراق کی جانب روانہ ہوگئے۔ یزید نے یہ خبر پاکر کوفہ کے گونر عبیداللہ بن زیاد کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مقرر کیا۔ اس نے کوفہ کی فوجی چھاؤنی کے کمانڈر عمرو بن سعد کو یہ ذمہ داری سونپ دی ۔ اس اثناء میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلاء معلیٰ کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ عمر بن سعد نے معلومات پاکر کر بلاء معلی کے میدان میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ہمراہیوں کو گھیرے میں لے لیا اور مذاکرات شروع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ میری تین باتیں ہیں یا تو مجھے واپس مکۃ المکرمہ لوٹنے دیا جائے یا دمشق جانے دیں میں خود یزید سے معاملات طے کرلوں گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ مجھے کسی غیر مسلم کی سرحد تک جانے دیں ۔میں وہاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروں گا ۔

عمر و بن سعدؓ رضامند ہونے کے قریب تھا کہ نائب سپہ سالار شمر ذی الجوشن جو اول درجے کا بدبخت اور دشمن اہل بیت عظام تھا ، نے کوفہ کے گونر عبید اللہ بن زیاد جس نے حضرت امام حسینؓ کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو بے دردی سے شہید کردیا تھا سے کہا اگر حسینؓؓ بچ گئے تو وہ یزید سے مسلم بن عقیل کے قصاص کا مطالبہ کریں گے جس کے عوض میں تم قتل کردئے جاؤ گے ۔ بہتر ہے کہ حضرت حسین کا یہاں ہی کام تمام کردیا جائے ۔ ابن زیاد کی بدبختی غالب آگئی۔ اس نے شمر ذی الجوشن سے اتفاق کیا اور عمر بن سعدؓ کو پیچھے ہٹاکر شمر بن جوشن کو اس دستے کا سربراہ مقرر کر دیا جو حضرت حسینؓ کے مقابل تھا۔ شمر نے کمان سنبھال لی اور دریائے فرات کا پانی بند کردیا اہل بیت پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور مطالبہ کیا کہ اس کے ہاتھ پر نائب خلیفہ ہونے کی حیثیت سے پہلے بیعت کی جائے پھر یزید کے ہاتھ پر بیعت ہوگی۔ حضرت امام حسینؓ نے بیعت کرنے سے انکار فرمادیا۔ در اصل یہ ملعون شمر کی محض خباثت تھی وہ ہر حال میں نواسہ رسولؓ کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ اس کے بعدشمر کی فوج سامنے آئی تو اس میں بہت سے وہ کوفی بھی موجود تھے جن کے خطوط حضرت حسینؓ کو وصول ہوچکے تھے آپ نے ایک ایک کو خطاب کرکے ان کے خطوط دکھلائے مگر کسی کو غیرت نہ آئی ۔یہ خوفناک حالات سات محرم سے دس محرم تک جاری رہے۔ آخر دس محرم الحرام 61 ھ کو ان ظالموں نے نوسہ پاکؓ حضور اکرم ﷺ کو سجدے کی حالت میں شہید کردیا ۔ اور آپ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھ کر ملعون ابن زیاد کے پاس روانہ کردیا۔ حضرت امام حسینؓ کے ساتھ 16 افراد آپ کے گھر والے بھی شہید ہوئے باقی مظلومین کو حضرت امام حسینؓ کے سر مبارک سمیت ایک گاڑی پر سوارکرکے دمشق بھیج دیا گیا۔ جب یہ لٹا پٹا کافلہ دمشق پہنچا تو ایک کہرام مچ گیا۔

دس محرم الحرام ہمیں صبر و تحمل کا سبق دیتا ہے اس روز کثرت سے تلاوت کلام پاک اور درودشریف پڑھ کر اور جوکچھ اللہ تعالیٰ توفیق دے اہل بیت عظام کو ایصال ثواب کرنا چاہیے۔ اور ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ حضور اکرم ﷺ اہل بیت عظامؓ اور صحابہ کرامؓ کی ناراضگی کا اندیشہ ہو ۔
وآخر دعوانا عن الحمد اللہ رب العالمین