ایک جیت کا پریشان کن حال
- بدھ 21 / اکتوبر / 2015
- 4709
شیر رہی سہی طاقت مجتمع کر کے دھاڑا اور گرتے پڑتے NA-122 میں عزت بچا لی۔ عزت اس لئے بچا لی کیوں کہ اس حلقے میں مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان نہیں تھا۔ بلکہ شاید مکمل طور پر دو پارٹیوں کے درمیان تھا۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مکمل امداد کے باوجود صرف سات ہزار کے فرق سے فتح نصیب ہو سکی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فتح چاہے ایک ووٹ سے بھی ہو ہوتی فتح ہی ہے۔ اور جشن منانا بھی فاتح پر لازم ہے۔ لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ نہ صرف حکمران جماعت کو NA-144 میں شکست ہوئی ہے بلکہ ایاز صادق کے حلقے میں ایک صوبائی نشست سے بھی ہاتھ دھونے پڑ گئے ہیں۔
حیران کن طور پر دونوں مدمقابل جماعتوں نے اپنی توجہ ایک ہی حلقے پر مرکوز رکھی جب کہ الیکشن تو NA-144 میں بھی ہو رہا تھا جو لاہور سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ لیکن وہاں پر نہ تو تحریک انصاف متحرک نظر آئی نہ ہی پاکستان مسلم لیگ نواز۔ اور اس کا گلہ اس حلقے کے امیدوار بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تو شاید یہاں ذکر ہی مناسب نہیں کہ انتخابات سے چند دن قبل تک یہی صورت حال واضح نہیں تھی کہ آیا پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات لڑے گی بھی یا نہیں۔ بیرسٹر عامر حسین جو کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے انہیں نہ تو پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی سطح پر حمایت حاصل تھی نہ ہی لاہور کی سطح پر۔ اسی لئے انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے NA-144 سے امیدوار اشرف سوہنا کا شکوہ بھی اپنی قیادت سے بجا ہے کہ ان کی قیادت کا سارا زور لاہور میں رہا جو ان کی شکست کا سبب بنا ۔ اس شکوے میں سچائی بھی ہے۔ اشرف سوہنا حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ اس شکست کے بعد ان کا سیاسی قد مزید کم ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کومستقبل میں ٹکٹوں کی بندر بانٹ میں اب کچھ دانشمندی سے کام لینا ہو گا۔ اشرف سوہنا بے شک پیپلز پارٹی چھوڑ کر شامل ہوئے تھے لیکن ایک شخص اگر اپنے بل بوتے پر چند ہزار ووٹ بھی نہ حاصل کر پائے تو پھر یقیناًنظریاتی کارکن یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ پارٹی انہیں کیوں نظر انداز کر رہی ہے۔
بظاہر پاکستان تحریک انصاف کو لاہور میں شکست ہو گئی ہے۔ لیکن اگر اس انتخاب کے دوررس نتائج پر غور کیا جائے تو تحریک انصاف اپنی پوزیشن قائم رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ لاہور ہمیشہ سے ن لیگ کا قلعہ رہا ہے۔ اس قلعے میں پاکستان تحریک انصاف دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ حکمران جماعت نے اگر اس کی تعمیر نو کی طرف توجہ نہ دی تو بہت جلد مکمل قلعہ زمیں بوس ہو سکتا ہے۔ حکمران جماعت NA-144 کے ساتھ منسلک دو صوبائی نشستیں بھی کھو چکی ہے ۔ حیران کن طور پر اس دفعہ کے ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی عزیز محسن لطیف حصہ لے رہے تھے۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور پاکستان تحریک انصاف کے شعیب صدیقی یہ نشست لے اُڑے ۔ اسی حلقے میں صوبائی نشست PP-148 حکمران جماعت عام انتخابات میں پہلے ہی کھو چکی ہے۔ ایسے حالات میں کیا واقعی جشن منانا بنتا ہے یا یہ سوچنا زیادہ اہم ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر نہ صرف دونوں صوبائی نشستیں ہاتھ سے گئیں بلکہ اوکاڑہ کی قومی اسمبلی کی نشست سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
یقیناًلاہور کی نشست اہم تھی کیوں کہ اسپیکر شپ کا سوال تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی باقی نشستیں بھی اہم تھیں۔ بھولے حمائیتی اس ایک نشست کی فتح پر تو شیر کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن دو نشستوں کی شکست کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ بہت کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوئے ہیں۔ علیم خان بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ان کا بطور انتخابی امیدوار انتخاب درست نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے 70 ہزار سے زائد ووٹ لے کر ثابت کر دیا ہے کہ ان میں دم خم ہے۔ ان کو بھی بنیادی طور پر شکست خود تحریک انصاف کی وجہ سے ہوئی۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات ان کی شکست کی بنیادی وجہ بنے ہیں۔ پوری صوبائی و وفاقی مشینری کا اس حلقے میں موجود رہنا بھی کسی نہ کسی سطح پر ان کی شکست کا سبب بنا۔ اپوزیشن جماعت کے امیدوار ہونے کے سبب ان کو یقیناًوہ سہولیات حاصل نہیں تھیں جو ایاز صادق کو حاصل تھیں۔
میاں محمد نواز شریف کو اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا ہو گاکہ پارٹی راہنماؤں کی فوج ظفر موج ان کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ حکمران جماعت کے ایم این اے محسن رانجھا سرگودہا سے منتخب ہوئے ہیں۔ ان سے ایک خاتون صحافی نے پوچھا کہ جناب ابھی مکمل رزلٹ تو نہیں آیا لیکن کیا میں آپ کو مبارکباد دے دوں؟ تو ان کا جواب نہایت معصومانہ سا تھا کہ جی بی بی آپ مبارکباد دے سکتی ہیں ہمیں تو کل سے مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں۔ اور ہمیں کل سے ہی نتائج کا پتہ تھا۔ اب ذرا کوئی ان صاحب سے پوچھے کہ جناب یہ کوئی بہت واضح فتح تو تھی نہیں۔صرف چند ہزار کا ہی فرق تھا تو آپ کو کیسے ایک دن پہلے فتح کا پتہ چل گیا۔
سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کی ہار ہوئی اور کسی کی جیت لیکن الیکشن کمیشن ضرور اس ضمنی الیکشن میں بھی ہارا ۔ نہ تو وہ اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل در آمد کروا سکا ، نہ ہی میڈیا کے لئے پیمرا سے مل کر کوئی راہنما اصول بنا سکا۔ اربوں روپے بے دریغ لٹائے گئے۔ وفاقی وزراء بلا روک ٹوک انتخابی مہم میں نظر آئے۔ خصوصاً وزیر ریلوے کا اثرریلوے کی آبادیوں اور ملازمین پر رہا ہو گا۔ اس مرتبہ بھی بریکنگ نیوز کی دوڑ میں میڈیا کے ادارے اعدادو شمار سے کھیلتے رہے۔ الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی پارٹیوں اور میڈیا کے اداروں کے ساتھ اب کوئی ایسا لائحہ عمل ضرور بنانا پڑے گا کہ اس وقت تک کسی بھی چینل پر کوئی نتیجہ نشر نہ ہو سکے جب تک ریٹرننگ افسر کا دستخط شدہ رزلٹ نہ پہنچ جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔
حالیہ ضمنی انتخابات حکمران جماعت کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ ان کے مضبوط گڑھ سے اپوزیشن نہ صرف صوبائی نشست لے اُڑی بلکہ وہاں سے قومی اسمبلی کی نشست بھی چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ہی جیت پائے ۔ کچھ بعید نہیں کہ اتنے کم مارجن سے فتح کے خلاف دوبارہ گنتی جیسے حق کا استعمال کیا جائے۔ اور نتیجہ تبدیل ہو جائے۔ یہ انتخابات اپوزیشن کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کو تو اب مسیحا کی تلاش ہے ہی تحریک انصاف کے راہنماؤں کو بھی گریباں میں دیکھنا پڑے گا۔ عمران خان کوشاید اب سوچنا ہو گا کہ ان کی زبان ووٹر کو ان سے دور تو نہیں کر رہی ۔ اگر ایسا ہے تو انہیں اپنی تلخ نوائی پر قابو پانا ہوگا۔
اس کے ساتھ یہ سبق بھی ملا کہ سب کچھ پیسے سے نہیں حاصل کیا جا سکتا ۔ ووٹ مانگنے کا فن بھی آنا چاہیے۔ ایسا ہی شعیب صدیقی کی فتح کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔ جنہوں نے علیم خان کی طرح دولت نہیں لٹائی مگر گھر گھر جا کر ووٹ مانگا اور نتیجہ سامنے ہے۔