درد شب ہجراں

  • سوموار 26 / اکتوبر / 2015
  • 4956

ہم ایک بے یقینی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ عملاً تو جادہ پیماں ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ ہمارے پاﺅں زمین پر نہیں ہیں۔ بات اس موضوع پر چل رہی تھی کہ ہمارے دوست نثار احمد شیخ  نے پھلجھڑی چھوڑی ’ہور چوپو‘۔ ہمارے کان کھڑے ہو گئے۔ وجہ پوچھی تو بتانے لگے انہوں نے اپنے پوتوں کے نام ایک نیا اکاﺅنٹ کھول دیا ہے۔ جس کا نام ہے ’اسحاق ڈار انٹرسٹ اکاﺅنٹ‘ یہ بات ہماری سمجھ سے بالابالا رہی۔

کہنے لگے خوش قسمت ہو جو امریکہ میں رہ رہے ہو۔ سستا پٹرول، سستی بجلی، سستی گیس، یہ سروس تمہیں اس لئے مل رہی ہے کہ تم امریکہ میں رہتے ہو۔ تم نے تو یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ بجلی چلی بھی جاتی ہے اور واپسی وقت متعین نہیں۔ گیس چلی بھی جاتی ہے اور واپسی کا وقت متعین نہیں ۔ اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ اگر تم کسی پٹرول کمپنی کا کارڈ خرید لو تو اس کمپنی کے پمپ سے تمہیں مزید کم نرخ پر پٹرول ملتا ہے۔ پھر کمپنی تمہیں فی گیلن خریداری پر بونس دیتی ہے۔ یہ کمپنی کا بونس پٹرول کے علاوہ مخصوص دکانوں پر کیش کیا جا سکتا ہے۔ جس پر مروجہ نرخ سے 10% سے 25% رعایت بلاحجت پیش کی جاتی ہے۔ اور مسکراہٹوں کے ساتھ کاﺅنٹر پر کھڑی لڑکی کہتی ہے کہ اس کارڈ کو ہماری دکان میں استعمال کرنا ہمارے لئے باعزت ہے۔

’مزے کرو میاں‘ ۔۔۔ پھر کہنے لگے تم سینئر ہو یعنی معمر شہری ہو۔ تمہارے تو وارے نیارے ہیں۔ ہر اسٹور، ہر کافی شاپ، ہر ریسٹورنٹ میں تمہیں معمر شہری ہونے کے ناطے 10فیصد ڈسکاﺅنٹ ملتا ہے۔ ہسپتالوں میں معمر شہریوں کے بالخصوص مزے ہوتے ہیں۔ یعنی انجکشن مفت لگائے جاتے ہیں۔ بعض انجکشن لوگوں کے لئے ایک نرخ اور معمر شہریوں کے لئے دوسرا۔  اور ہاں صدر اوباما کے خزانہ سیکریٹری قرضہ حاصل کرنے کیلئے یوروبانڈ لئے ملک ملک نہیں گھومتے اور نہ ہی سود در سود کے سودے کرتے ہیں۔

اب تم خود حساب لگاﺅ کہ اسحاق ڈار نے پانچ سو ملین امریکی ڈالر کا قرضہ لے لیا جس پر سود کی شرح 8.25 فیصد ہے اور جس کی مدت دس سال ہے۔ اور اگر یہ رقم معہ سود دس سال میں نہ اداکی گئی تو اس پرمزید اضافہ ہو گا۔ اسحاق ڈار نے پانچ سو ملین ڈالر کا قرضہ 8.25 فیصد سود پر لے تو لیا لیکن یہ نہ سوچا کہ پاکستان یہ قرضہ سود سمیت کب اور کیسے ادا کرے گا۔ اصل اور سود کی رقم کہاں سے آئے گی۔ 

یہ ہم بخوبی جانتے ہیں۔ آٹے کی تھیلی کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ پیاز اور ٹماٹر کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ ہمارے باورچی خانوں میں پیاز اور ٹماٹر کے بغیر ہانڈیاں پکیں گی۔ دنیا بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں ان کی قیمت بڑھے گی۔ لوگ کاریں بیچ دیں گے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ آسانی سے میسر نہ آئے گی۔ ہماری آنے والی نسلیں جوان ہونے سے قبل بوڑھے ہو جائیں گی۔

پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے

حالات کیا ہیں اور حالات کا تقاضہ کیا ہے؟ وقت کیا ہے اور وقت کی ضرورت کیا ہے؟ ملک بہت سی مشکلات کی چکی میں پس رہا ہے۔ روزگار مفقود ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان سڑکوں پر تلاش معاش میں سرگرداں ہیں۔ فارغ التحصیل انجینئرز، سند یافتہ کمپیوٹر انفارمیشن سسٹم، یونیوررسٹیوں کے تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ کس طرح وہ امریکہ، انگلینڈ یا آسٹریلیا جانے کا سبب بنائیں۔ ہماری نئی نسل بخوبی جانتی ہے کہ وہ کس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں اور دوسرے ممالک میں بسنے والے ان سے کم تعلیم یافتہ کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔  انہیں اس اندھیری سرنگ کے آخری سرے پر روشنی کی جھلک نظر نہیں آتی۔ بلکہ آنے والے دن کے ساتھ تاریکیاں بڑھ رہی ہیں۔

نثار شیخ کہتے ہیں بہت کچھ کہہ لیا۔ بہت کچھ دہرالیا۔ بہت کچھ کہہ چکا۔ لیکن ارباب اختیار بدستورر لاتعلق ہیں۔

فقیہہ شہر کا سکہ ہے کھوٹا
مگر اس شہر میں چلتا بہت ہے