ناانصافی کے خلاف آگاہی کی ضرورت

  • منگل 27 / اکتوبر / 2015
  • 3848

ہر آزاد جمہوری ملک میں شہریوں کو کچھ ایسے حقوق حاصل ہوتے ہیں جن سے ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ان حقوق کے بغیر شہری اپنی شخصیت کی تعمیر نہیں کرسکتے۔ہندوستان کے دستور میں شہریوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی رو سے ہر شہری خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، سکھ ہو یا عیسائی قانون کی نگاہ میں برابر ہے۔ مذہب ، ذات پات، جنس، رنگ یا جائے پیدائش کی بنا پر کسی کے خلاف کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ ہر شہری کو آزادئ خیال اور آزادئ مذہب حاصل ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہر شہری کو سرکاری ملازمتیں نیز بڑے سے بڑا عہدہ بلا امتیاز وتفریق حاصل کرنے کا حق ہے۔ دستور نے صدیوں سے چلے آرہے چھوت چھات کے رواج کوجرم قرار دیا ہے ۔ اوراقلیتوں کو مذہبی وتمدنی آزادی دی ہے۔ انہیں اس بات کا بھی حق دیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کریں۔ اپنی تہذیب یا تمدن ،زبان اور رسم الخط(script) کو قائم وبرقرار رکھیں اورانہیں ترقی دیں۔ ساتھ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ اور مذہبی رسوم اداکرسکیں۔

دستورہندنے ہندوستانی عوام کو سر چشمہ اقتدار مانا ہے۔اس کو صاف اور کھلے ہوئے لفظوں میں دستور کی تمہید میں بیان کیا گیا ہے۔ دستور نے ہندوستان کو ایک بااقتدار ، خود مختار عوامی جمہوریہ(Sovereign Democratic Republic) قرار دیا ہے۔نیز بلاتفریق و امتیاز ، مذہب و ملت، جنس و رنگ اور ذات پات ہر بالغ ہندوستانی کو حکومت کی تشکیل میں ووٹ کا حق دیا ہے۔ انہیں ووٹوں سے مرکز اور ریاستوں میں حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ دستور کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ملک میں غیر مذہبی جمہوریت قائم کی ہے۔یعنی اسٹیٹ کا کوئی مذہب نہیں ہے اور ہر مذہب کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔دوسرے ہندوستان کے تمام باشندے خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ایک مشترک شہریت میں منسلک کردیئے گئے ہیں۔ مذہب یا ذات پات یا کسی خاص علاقہ یا ریاست میں پیدا ہونے کی بنا پر کسی ہندوستانی کو شہریت کے کسی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے ساتھ کسی قسم کی تفریق کی جاسکتی ہے۔

قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ یعنی تمام شہریوں کو حق مساوا ت حا صل ہے۔آئین کی دفعہ۱۴؍کہتی ہے: مملکت کسی شخص کو ہندوستان کے علاقہ میں قانون کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔ساتھ ہی اس بات کا بھی اچھی طرح تذکرہ کیا گیا ہے کہ مذہب، نسل،ذات یا جنس یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز نہیں کیا جائے گا،یعنی اس کی مکمل ممانعت ہے۔دفعہ:۱۵؍میں بتایا گیا ہے (۱) مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس یا مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔(۲) کوئی شہری محض مذہب۔ نسل۔ ذات۔جنس۔ مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر۔۔۔(الف) دکانوں۔عام ریستوران۔ہوٹلوں یا عام تفریح گاہوں میں داخلہ کے لیے ، یا(ب) کلی یا جزوی طور سے مملکتی فنڈ سے قائم یا خلایق عامہ کے استعمال کے لیے کنووں،تالابوں،اشنان گھاٹوں،سڑکوں اور عام آمدورفت کے مقامات کے استعمال کے ناقابل نہ ہوگا یا اس پر کوئی ذمہ داری یا پابندی یا شرط نہ ہوگی۔ساتھ ہی (۳) اس آئین میں کوئی امر اس میں مانع نہ ہوگا کہ مملکت عورتوں اور بچوں کے لیے کوئی خاص توضیع کرے۔

ہندوستان کے آئین میں شہریوں کے لئے حق آزادی کا بھی بہت تفصیل سے تذکرہ ہے۔دفعہ:۱۹۔ (۱)کی روشنی میں ، تمام شہریوں کو حق حاصل ہے:(الف) آزادئ تقریر و تحریر (ب) امن پسندانہ طریقہ سے اجتماع(ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنا (د) ہندوستان کے سارے علاقہ میں آزادانہ نقل و حرکت (ہ) ہندوستان کے علاقہ کے کسی حصہ میں بود و باش اختیار کرنے اور آباد ہونا، اور(ز)کسی بھی پیشہ کے اختیار کرنے یا کسی کام کاج ، تجارت یا کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس گفتگو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں قانونی اعتبار سے شہریوں کو بے شمار تحفظات حاصل ہیں ۔اس کے باوجود ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے ساتھ جس طرح کے جارحانہ واقعات سامنے آرہے ہیں، وہ حد درجہ تشویشناک ہیں۔گزشتہ دنوں ملک میں شہری کیا کھائیں اور کیا نہیں، کو لے کر جھوٹ پر مبنی ایک افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ۔جس کے بعد ملک کے ایک بڑے طبقے نے متشدد افراد کے خلاف کاروائی کی مانگ کی۔لیکن افسوس کہ یہ واقعہ و کاروائی جاری ہی تھی کہ ہریانہ کے فرید آباد کے علاقہ میں دلت کنبہ کو زندہ جلانے ڈالنے کا معاملہ سامنے آگیا۔یہاں بھی عوام نے افسوس ظاہر کیا،مظاہرے کیے اور مجرمین کو سزا دلوانے کی مانگ کی۔

تاہم انسانیت اس وقت شرمسار ہوئی جبکہ واقعہ سے متعلق الیکٹرانک میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے مرکزی وزیر وی ۔کے۔ سنگھ نے کہا کہ کوئی کتے پر پتھر پھینک دے تو سرکار کیا کرے؟بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے سنگھ کی طرف سے کتے کا لفظ استعمال کرنے کو بیہودہ اور نفرت آمیز بتایا ۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ زندہ جلادئیے گئے دو بچوں کی موت کا موازنہ ایک کتے کو پتھر مارے جانے سے کرنا ۔۔۔اس سے زیادہ بیہودہ اور نفرت آمیز اور کیا ہو سکتا ہے۔یہ حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔ نیز مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسال قبل ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نے بھی رائٹرس کو دیئے گئے انٹرویو میں ایسے ہی الفاظ استعمال کئے تھے۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی کتے کا پلا بھی گاڑی کے پہیہ کے نیچے آجاتا ہے تو اس کے لیے بھی حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ تبصرہ گجرات کے 2002مسلم کش فسادات کے تناظر میں تھا۔

منیش تیواری کی گفتگو کے پس منظر میں یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ برسراقتدار پارٹی کا ایک بڑا طبقہ اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقات کے تعلق سے کیا نظریہ رکھتی ہے۔ایک جانب حدر درجہ نفرت کافروغ ہے تو دوسری جانب منووادی نظام کا اثر ہے،جو دماغوں میں رچ بس چکا ہے ۔لہذا مرکزی وزیر داخلہ،راج ناتھ سنگھ کو بھی سوچنا چاہیے کہ جو نفرت پیدا کی جا چکی ہے،اور جو نظام ایک بار پھر قائم کئے جانے کی سعی و جہد ہو رہی ہے،اس میں موجود خرابیوں کو صرف ڈانٹنے ڈپٹنے اور اظہار ناراضگی سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بیانات دیتے وقت ذرا احتیاط برت لی جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے فکرو نظریہ انسان کے عمل میں لازماً جھلکتا ہے۔

ان حالات کے پس منظر میں جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعصب سے پاک نظام فراہم کرے وہیں ہمارے ، آپ کے اور عام شہریوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ دستورمیں موجود دفعات کو سمجھیں اورآئینی طریقہ سے مسائل کے حل کی منظم سعی و جہد کریں۔اس پہلو سے دو کام بہت اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔ایک فرد واحد کی اصول و قانون سے آگاہی ، دوسرے متاثرہ یا غیر متاثرہ باشندے مقامی سطح پر قانونی رہنمائی کے لئے پلیٹ فارم قائم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے آئین میں بہت حد تک مسائل سے نمٹنے کا اہتمام کیاگیا ہے، اس کے باوجود لاعلمی،بے حوصلگی اورپست ہمتی مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔