پرانی دنیا ، نئی دریافت

  • منگل 27 / اکتوبر / 2015
  • 4982

ڈینش زبان مِیں ملک کا نام  گرین لینڈ  Greenland اور علاقائی زبان مِیں کالالیت  نُو نات Kalaallit Nunaat  ہے ۔   دنیا کے اِس سب سے بڑے جزیرہ کی آبادی دنیا کی کم ترین  گنجان ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے  طویل فاصلے پر صرف ساحلِ سمندر پر ہی  آباد ہیں کہ جہاں کا موسم کِسی حد تک قابلِ برداشت ہے۔   4500 سال پرانی یہ  آبادی  آرکٹِک Arctic لوگوں پر لوگوں کی نسل ہےجو  آج کے  کینیڈا  سے آکر یہاں  آباد ہوئے تھے ۔  

کالا لی سُوت   Kalaallisut گرین لینڈ کی سَرکاری زبان ہے  ۔  عام طور پر اور سَرکاری اِداروں مِیں ڈینش زبان بھی  استعمال کی جاتی ہے۔ بارہ فیصد ڈینش  اور   یورپی جِس مِیں ناروے، سویڈن ، آئس لینڈ، تھائی لینڈ اور فلپائین کے لوگ شامل ہیں یہاں رہتے ہیں۔   49 مختلف مذاہب کے ماننے والے  ہیں۔  اِس جزیرہ کے تین چوتھائی حصہ پر برف کے علاوہ کچھ نہیں۔   یکم جنوری 2015 کے مطابق  اِس کی کل آبادی 55 ہزار 9 سو 84  ہے ۔

اِن کی زبان کالا لی سُوت   Kalaallisut  کہلاتی ہے اور یہ    اِسکیمو کی مادری زبان ہے۔ یہ زبان 1851 سے یہاں مروج ہے ۔ ملک کی  بڑی آبادی یہ زبان بولتی ہے ۔ اِس کے علاوہ  4  بڑی  بولیاں ہیں  جوایک ہزار   سے  3 ہزار لوگ بولتے ہیں ۔ علاوہ ازیں 30- 35  چھوٹی بولیاں ہیں جو دیہات مِیں بولی جاتی ہیں۔ تاہم ان کے بولنے والے   پانچ سَو فی بولی تک ہی ہیں۔           

ملک کی سَو 100 فیصد آبادی پڑھی لکھی ہے ۔   یہ عظیم جزیرہ  بارہویں صدی کے آخر تک ناروے کی بادشاہت کا حصہ تھا۔  1721 عیسوی مِیں  یہ دوبارہ ناروے کے قبضہ مِیں آ گیا۔ ناروے کی بادشاہت کمزور ہونے پر کوپن ہیگن کو مرکز بنا کر بادشاہت  کو  مضبو ط کرنے  کی کوشش کی گئی۔ ناروے  یہاں پر قبضہ برقرار نہ رکھ سکا۔   اِ س طرح  21 لاکھ 66 ہزار 86 مربع کلو میٹر کا علاقہ جو 8 لاکھ 36 ہزار  مربع  مِیل  ہوتا ہے،  1814 عیسوی مِیں   ڈنمارک کی شاہی سلطنت کی   کالونی بنا۔ 1953 عیسوی مِیں اسے ڈنمارک کا  ایک حصہ بنایا گیا  اور اِسے ڈنمارک کے ایک ضلع کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ 

عام طور پریہ غلط فہمی عام ہے کہ  گرین لینڈ مِیں اِسکیمو رہتے ہیں اور یہ صرف برف کے غاروں مِیں آباد ہیں۔ یہ تصور غلط ہے۔ جس طرح اِسکینڈے نیویا مِیں اب  وائی کنگ  Viking  نہیں ہوتے  اسی طرح گرین لینڈ مِیں  اب اِسکیمو نہیں ہیں۔ یہاں کی آبادی   اُن کی ہی اولاد ہو گی لیکن اب یہ لکڑی کے بنے ہوئے گھروں مِیں رہتے  ہیں۔  ایسے لکڑی کے گھراِسکینڈے نیویا مِیں عام طور پر  اِستعمال ہوتے ہیں ۔

سَن   1973  عیسوی  مِیں  گرین لینڈ  یورپین اکنامک کمیونیٹی European Economic Community  مِیں شامل ہو گیا۔    یکم مئی 1979 کو اسے اپنے معاملات کے سلسلے مِیں خود مختاری  دی گئی۔ اس فیصلہ کے نتیجے مِیں 1982  مِیں  آبادی کی رائے لی گئی اور اکژیت کے فیصلے سے  1985 مِیں یہ ملک  EEC سے باہر نکل گیا ۔  اب یہ  EEC مِیں شامل نہیں ہے۔   گر ین لینڈ کے لوگ  سمجھتے ہیں کہ ڈینشوں   نے اُن سے تعصب برتا ہے اور اِن کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔ اِن کو کمتر سمجھا گیا  اور اِن کو آگے بڑھنے سے روکا ہے۔  اِس لئے یہ ضروری ہے کہ یہ خطہ اپنا نظام خود سبنھالے۔   نتیجہ کے طور پر  آخر کار  اِس عظیم الشان جزیرہ   نے  21 جون  2009 کو  مکمل خود مختاری حاصل کر لی ۔ اِس طرح ملک کا جھنڈا ، حکومت ، اور سیاسی اور اِنتظامی معاملات ،  اِس ملک کے باشندوں کے ہاتھ مِیں آ گئے ۔  اس کے بعد بہت سے شہروں کے نام ڈینش نام سے گرین لینڈ ک  یعنی   کالا لی سُوت   Kalaallisut مِیں تبدیل کر دئے گئے ۔   جیسے     Jakobshavn کو    Ilulissat کردیا گیا ۔ Thule  اب  Qaanaaq کہلاتا ہے۔  Frederikshåb  کا نام اب  Paamiut  ہے ۔ اِسی طرح Julianehåb  تبدیل ہو کرQaqortoq  ہو گیا ہے ۔ Søndre Strøm fjord کو اب   Kangerlasuaq  کہتے ہیں۔

اِس طرح گرین لینڈ کو اپنے معاملات اور اِنتظامات پر آزادی کے ساتھ   اِختیار حاصل ہو گیا ۔  آج  ڈنمارک کے پاس صرف  محکمہ خارجہ ، دفاع اور   معیشت   کے شعبے باقی ہیں  ۔ باقی تمام اِداروں مِیں یہ ملک خود مختار ہے۔   شا ئد  محکمہ خارجہ  ڈنمارک کے پاس ہونے کی وجہ سے ہی کوئی غیر ملکی ڈینش رہائش کے اِجازت نامہ کے باوجود بغیر پیشگی اِجازت یہاں نہیں آسکتا۔    ملک مِیں  ڈینش کرونر ہی کرنسی کے طور پر اِستعمال ہوتا   ہے ۔

اِس ملک مِیں خود کُشی کی شرح دنیا مِیں سب سے زیادہ ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ ملک مِیں بےروزگاری ،  نشہ(شراب نوشی) اور ایڈز اِس کی وجوہات ہیں۔  شراب  بہت   قیمتی ہے اِس لیے صِرف مالدار ہی اِستعمال کرسکتے ہیں اور اِس طرح شراب نوشی سے مرنے والے   لوگوں میں  تعداد امرا کی ہوتی ہے۔ 

 
ملک مِیں قیمتوں کا اندازہ اِس سے کریں کہ اگر صرف روز مرہ کھانے کی چیزوں پر نظر ڈالیں  تو   ایک لیٹر دودھ کی قیمت   تقریباً دو ڈالر ،  ایک لیٹر دہی کی قیمت تقریباً چار ڈالر ،   ایک ڈالر کا ایک ٹماٹر ،   ایک  کھیرا  تقریباً چار ڈالر ،  اگر سیل مِیں مل جائے تو تین ڈالر کا  ہو سکتا ہے ۔ ایک ڈبل روٹی  ساڑھے تین ڈالر کی ملتی ہے ۔ 

اِنٹر نیٹ ،  موبائل ٹیلی فون  اور اِس کے اِخراجات ،  کھلونے ، کپڑے، جوتے وغیرہ کا تو  ذِکر ہی کیا۔    لیکن جِس ملک مِیں کچھ پیدا نہ ہوتا ہو، کچھ بنتا نہ ہو۔ کوئی کارخانہ نہ ہو اورسوائے  مچھلی یا سمندری غذا کے  سب کچھ دوسرے ملکوں سے لانا پڑتا ہو   اور وہ دنیا سے دور بہت دور ہو،  موسمی حالات ناموافق اور ناقابلِ اعتبار اور نا قابل برداشت  ہوں،  وہاں پر ضرورت کی ہر چیز کا موجود ہونا اپنے بجائے خود ایک کمال ہے۔ اور یقیناً قابلِ  تعریف بھی ہے ۔  اِنسان کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔