عوام فوج کو کیوں نہ پکاریں
- جمعہ 30 / اکتوبر / 2015
- 4157
پاکستان میں آنے والے حالیہ زلزلے نے حکومت اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے شدید زلزلے میں جس کی شدت امریکی جیولوجیکل سروے نے 7.5 اور پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 8.1 بتائی ہے، میں اب تک کم از کم 272 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس زلزلے کی گہرائی چونکہ بہت زیادہ تھی اس لئے اس سے تباہی اور اموات قدرے کم ہوئیں۔
تاہم متاثرہ افراد اب بھی حکومت کی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں اور اس میں وفاق اور صوبے کی حکومت میں کوئی تفریق نہیں۔ سہانے اعلانات بھلے بہت سارے ہوئے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کرنا یا کرانا پاکستانی حکمرانوں کا کبھی شیوہ نہیں رہا۔
اس سے قبل شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں ایک شدید زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005 کو آیا تھا جس میں 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور 33 لاکھ افراد بے گھرہو گئے تھے۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6 تھی۔ اس ہولناک زلزلے کے بعد کبھی ایرا تو کبھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جیسے ادارے کثیر فنڈز کے تحت قائم کئے گئے مگر نتیجہ پاکستان کی روایتی بیورو کریسی کی کرپشن تلے سانس گھٹنے سے مر گیا۔
2005 کے زلزلے کے بعد اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد تو ملی ہی تھی، پاکستانی قوم نے بھی دل کھول کر زلزلہ زدگان کے لئے عطیات دئیے۔ لیکن یہ رقم کہاں خرچ ہوئی کوئی نہیں جانتا۔ ہاں سب اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ان رقوم کے کچھ حصے سے سرکاری بابوؤں کیلئے عالیشان دفاتر کی تعمیر اور شاندار اور آرام دہ گاڑیوں کی خریداری ضرور ہوئی۔ ان رقوم کی آڈٹ رپورٹس پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی ہوشربا داستان سامنے لے آئی ہیں (جن تک عام آدمی رسائی نہیں ہے)۔ مگر روایتی طور پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔
زلزلے کے بعد پہلے روز ہی حکومتی دعوے سامنے آنے لگے کہ ریسکیو ادارے تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچ چکے ہیں مگر آج خود این ڈی ایم اے اعتراف کر رہا ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکی۔ زلزلے کے کئی روز بعد بھی حکومتی اداروں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد میں تضاد، ان اداروں کی کارکردگی واضح کر رہا ہے۔
زلزلے کے بعد ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے فوج ہی میدان میں آئی۔ اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی اہلکاروں کو مستعدی سے کسی حکم کا انتظار کئے بغیر متاثرین کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا اور پھر خود بھی پشاور پہنچ گئے۔ اس طرح ایک بار پھر فوج سویلین حکومت پر بازی لے گئی۔
ان حالات میں جب فوج حکومتی حکم کا انتظار کئے بغیر ازخود مصیبتوں کے ستائے عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے میدان عمل میں آ جائے تو یہ سوال اٹھانا بیکار ہو گا کہ عوام مسائل کے حل کے لئے جمہوری حکومت کو پکاریں گے یا فوج کو۔