اردو کانفرنسوں سے نالاں اردو داں
- ہفتہ 31 / اکتوبر / 2015
- 4607
پاکستان کے ایک مؤقر انگریزی جریدے میں ادب کے موضوع پر لکھنے والے ایک معتبر نام رؤف پاریکھ کا اردو کی عالمی کانفرنسوں کے بارے میں انگریزی میں چھپا کالم کئی مرتبہ غور سے پڑھا۔ اس کالم کو کئی مرتبہ غور سے پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ میں کوئی ایک عشرہ پہلے ہی ترکی میں منعقد ہونے والی ایک عالمی اردو کانفرنس میں فن لینڈ کی نمائیندگی کر کے واپس لوٹا تھا۔
اس کالم میں موصوف عالمی اردو کانفرنسوں سے بہت زیادہ ناخوش نظر آتے ہیں۔ متذکرہ کالم کی کئی باتیں مجھے عجیب و غریب لگیں اور مجموعی طور پر مجھے انتہائی دکھ بھی ہؤا کیونکہ پاریکھ نے تصویر کا ایک رخ تو دکھایا لیکن دوسرے رخ سے یکسر چشم پوشی اختیار کی۔
میں اس کالم کا جواب لکھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اردو زبان کے ایک نامور استاد ، معروف ڈرامہ نگار اور اردو ادب میں ایک معتبر نام اصغر ندیم سید کا اردو میں اسی موضوع پر لکھا ہؤا کالم میری نظر سے گذرا۔ سید صاحب کا یہ کالم پاریکھ صاحب کے انگریزی کالم کا نوے فیصد اردو ترجمہ تھا۔ میں نے انیس سو بیاسی میں ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر سے اردو انگریزی ترجمے کے اسرار و رموز سیکھے اور اسی کام کو پیشہ بنایا ۔ بعد ازاں فن لینڈ کے معروف لسانی ادارے سے ترجمہ کرنے کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس لئے ترجمے کی باریکیوں سے بخوبی آگاہ ہوں۔ سید صاحب نے نہ جانے کس مجبوری اور نہایت عجلت میں پاریکھ کے کالم کا نہایت پھسپھسا سا ترجمہ کر کے اپنے نام سے چھپوا دیا۔ اگر آپ پاریکھ اور سید کے دونوں کالم ایک ساتھ پڑھیں تو آ پ مجھ سے اتفاق کریں گے۔
اردو زبان کی عالمی کانفرنسوں کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے دونوں احباب لکھتے ہیں کہ ان عالمی کانفرنسوں کو عالمی بنانے کے لئے ان میں شریک مندوبین کے ناموں کے آگے ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، ہالینڈ حتی کہ یو اے ای بھی لکھا ہوتا ہے۔ اور ان مندوبین میں ہاؤس وائف بھی شامل ہوتی ہیں۔ سید صاحب اردو میں لکھتے ہیں کہ “ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو کئی برس پہلے پاک و ہند سے روزگار کے لئے وہاں جا کر آباد ہو گئے اور چار پیسے کما لینے کے بعدان کے ہاتھ یہ آسان نسخہ آ گیا کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والی اردو کانفرنسوں کی خبر رکھتے ہیں اور صرف ایک ہوائی ٹکٹ خرچ کر کے ادیب کی حیثیت سے اس کانفرنسوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔“
واہ جناب کیا دلیل ہے۔ میری تو ہنسی ہی نکل گئی۔ جناب یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ آ پ نے ایسے محنت کش اور زر مبادلہ بھیجنے والے لوگوں کا ذکر کیا ہے جو یورپ ، امریکہ اور دیگر ممالک میں آلو چھولے ، سموسے اور حلوہ پوری بیچتے ہیں اور آپ ہی کے قبیلے کے لوگ جب پاکستان سے وہاں جا کر ان ہی محنت کش لوگوں کے مہمان بنتے ہیں تو یہی محنت کش آپ لوگوں پر خرچ بھی کرتے ہیں۔
سال ہا سال سے ایک ہی “ اردو دان کالم نگاروں کا گروہ “ اور ان کے رشتہ دار پنجابی شعرا ایک ہی بنیان بیچ رہے ہیں اور خوب آؤ بھگت کراتے ہیں۔ پاکستان وطن واپسی پر یہ کالم نگار اس پکوڑے اور سموسے فروش چار پیسے والے “ ادیبوں “ کا ذکر اپنے کالم میں خوب نمک مرچ لگا کر کرتے ہیں۔ ان کے میزبانی کی تعریفیں کرتے ہیں اور الحمراء میں اس کے اعزاز میں تقاریب منعقد کرتے ہیں تاکہ اگلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پھر ان “ چار پیسے والے ادیبوں “ کے مہمان بن سکیں۔ آپ ہی کے قبلیے کے یہی لوگ ان “ ہاؤس وائف خواتین “ سے گھر پر توپرہیزی کھانے بنواتے ہیں اور باہر جا کر ان کے مردوں سے “ سگریٹ پانی “ کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ یہ قبیلہ پاکستان سے دو ہزار روپیہ بھی ساتھ لے کر نہیں آتا۔ حتی کہ سگریٹ کے لئے بھی میزبانوں کی طرف ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
جناب بتائیے کہ آپ یو اے ای کو اتنا حقیر کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا یورپ و شمالی امریکہ اور گلف میں اردو زبان بولنے والے اور اردو ادب پر لکھنے والے کم ہیں؟ جناب جب کوئی پاکستانی ہجرت کر کے بیرون ملک جاتا ہے تو صرف اپنا جسم ہی نہیں، اپنا دماغ بھی اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ان تارکین وطن میں ادیب، صحافی، شعرا، اساتذہ ، سائینسدان، ڈاکٹر ، بیوروکریٹ اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں ایسی ہاؤس وائف بھی شامل ہیں جن میں سے کئی آپ سے زیادہ پڑھی لکھی ہیں۔ لیکن بوجہ مجبوری نوکری نہیں کر سکتیں اور گھر میں بیٹھ کر ادب کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ امریکہ ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں ایسی ڈاکٹر خواتین موجود ہیں جو طبی پیشے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ ادیب ، افسانہ نگار اور شاعرہ بھی ہیں۔ امریکہ میں ایک کامیاب بزنس مین خاتون ایک بلند پایہ شاعرہ ہیں۔ یورپ ، امریکہ اور گلف میں ایسے ٹیکسی ڈرائیور بھی ہیں جنہوں نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر بلند پایہ شاعری کی اور معتبر ہوئے۔ ایسے مرد و خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے معذوری کی حالت میں گھر بیٹھ کر مقامی ادب کو ترجمہ کیا اور عالمی شہرت حاصل کی۔
جناب سید صاحب بقلم خود میری فن لینڈ پر ترجمہ کی گئی کتاب میں اپنا تبصرہ رقم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: “ یورپ، امریکہ اور سکینڈے نیویا میں پاکستانیوں کی اب تیسری نسل جوان ہو چکی ہے جو وہاں کی تہذیب اور ثقافت میں پروان چڑھی۔ اس لئے اس نسل نے وہاں کی مقامی آبادی سے ہر سطح پر روابط استوار کر لئے ہیں۔ لیکن ہماری پہلی دو نسلوں نے وہاں جا کر اپنے اپنے جزیرے آباد کر لئے اورمقامی لوگوں سے ایک فاصلہ رکھا۔ یہ کمی ارشد فاروق نے پوری کر دی۔ فنش زبان سیکھی، مقامی ادب کے تراجم کئے“ وغیرہ وغیرہ ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اردو زبان صرف پاکستان کے انہیں چند شعرا اور ادیبوں اور درس گاہوں کے اساتذہ کے گھر کے لونڈی ہے جن کو بیرون پاکستان دوروں پر بلایا جائے تو وہاں مقیم محنتی تارکین وطن پاکستانی اپنی محنت کی کمائی سے ان کے ہوائی سفر کے اخراجات برداشت کریں، ان کی آؤ بھگت کریں انہیں مہنگے ہوٹلوں اور اپنے گھروں میں رکھیں، انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کی بجائے مہنگی گاڑیوں میں سفری سہولت دی جائے اور واپسی پر انہیں خریداری بھی کر کے دی جائے۔ ویسے تو کئی ادیبوں اور کالم نگاروں کی امریکہ و یورپ میں “ غیر ادبی “ اور بے ادب سرگرمیوں اور“ فراخ دل “ مقامی خواتین کیساتھ “ با ادب نشستیں“ ریکارڈ پر ہیں۔ لیکن ان کا تذکرہ اس کالم میں غیر ضروری ہے۔
ہاں البتہ ایسے نیم خواندہ صحا فیوں، اور بے وزن شعراء کی بھی کمی نہیں جنہوں نے آن لائن اخبارات کے ویب سائٹ بنا رکھے ہیں۔ اور جو مؤقر قومی اخبارات کی خبروں، کالموں اور ہر صفحے کی کاپی کر کے اپنے ویب سائٹس پر شائع کر دیتے ہیں۔ اردو کانفرنسوں کے منتظمین اتنے بے وقوف نہیں ہوتے جو اس قبلیے کو بین الاقوامی معیار کی کانفرنسوں میں مدعو کریں۔ اگر بین الاقوامی اردو کانفرنسوں کے منتظمین ایسے آن لائن اخبارات کے مدیران کو مدعو کرتے ہیں تو ایساے مدیران کے پروفائل میں ان کے اور بھی بہت سے ایسے کارنامے شامل ہیں جن کی شہرت عالمی ہے اور پاکستان میں بیٹھے اس قبیلے سے ان کی کامیابیاں بوجوہ اوجھل ہیں۔
جناب پاریکھ اور جناب سید صاحب کے جڑواں ذو لسانی ( ایک ہی) کالم کو بغور پڑھ کر میں دیگر قارئین کی طرح یہ سمجھ سکا ہوں کہ اب منتظمین نے اس “ اجارہ دار“ اردو دانوں کے گروہ کے نخرے اٹھانے ، ان کے ہوائی ٹکٹ سے لے کر ان کی شاپنگ تک کے اخراجات برداشت کرنے کی بجائے ایسے نئے لکھنے والوں مگر گم نام لوگوں کو مدعو کرنا شروع کیا ہے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ جو حقیقتاً اور صحیح معنوں میں اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان میں شعراء، نئی نسل کو اردو سیکھانے والے اساتذہ اور مقامی ادب کے تراجم کرنے والے ، مقامی ریڈیو اور ٹی وی پر اردو کے پروگراموں کے پروڈیوسر، گمنام مگر لوکل اخباروں میں کام کرنے والے صحافی اور ایسے ہی بے شمار دیگر دانشور شامل ہیں۔
میں پاریکھ صاحب ، سید صاحب اور ان کے قبیلے کے دوسرے افراد سے ایک سوال کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے اب تک اردو زبان کی کون سی عالمی کانفرنس منعقد کی؟ کیا ایسا کوئی سیمپوزیم منعقد کرنے کا ارادہ ہے؟ کب تک؟ نیز یہ کہ آ پ نے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر اردو کی ترویج و ترقی کے لئے اب تک کیا خدمات انجام دیں؟ حالیہ ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں کے منتظمین نے اس اجارہ دار گروہ کو یکسر نظر انداز کر کے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے، جس پر ان کا تلملانا قابل فہم ہے۔
اب اگر ان بین الاقوامی اردو کانفرنسوں کے منتظمین نے عالمی طرز پر دور جدید کے مطابق براہ راست دعوت نامے بھیجنے کی بجائے ایک کھلی دعوت کے تحت دانشوروں کو اپنے مقالہ جات بھیجنے کی دعوت دی ہے، جن کے مقالہ جات بورڈ نے منظور کئے انہیں مدعو کر لیا گیا۔ دوسری بات یہ کہ جدید طرز کے مطابق یورپی ادارے اب مندوبین کو ہوائی ٹکٹ پیش نہیں کرتے۔
بس یہی وہ دکھ ہے کہ جو لوگ مقالہ بھیجنے کے قابل نہیں یا اپنے اخراجات خود برداشت نہیں کر سکتے، ان کی آہ و بکاہ قابل فہم ہے۔ البتہ اس غصے میں بیچارے مندوبین پر انواع و اقسام کی الزام تراشی قابل مذمت ہے۔