اردو کانفرنسیں، کالم نگار اور وارداتئے

  • اتوار 01 / نومبر / 2015
  • 7089

یہ 1985 کا قصہ ہے۔ میں نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ناروے میں مشاعرے کا آغاز کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ احباب کے تعاون اور حکومت ناروے کی مالی امداد کی وجہ سے ہم اس مقصد میں کامیاب ہو سکے۔ میرے سمیت اس انتظام میں شامل سب لوگوں کا ادب سے صرف اتنا رشتہ تھا کہ ہم اردو سے محبت کرتے تھے اور ادب کے طالب علم تھے۔ ہم میں سے کسی کو شعر گوئی یا کسی اور طرح سے ادیب ہونے کا دعویٰ نہیں تھا۔ لہٰذا ہم اس مشاعرے میں ان مستند شعرا کو بلوانا چاہتے تھے جنہیں سن کر اور جن کے ساتھ مل کر ہم کچھ سیکھ سکیں۔

اسکینڈے نیویا کے اس باقاعدہ مشاعرہ کے لئے ہم نےعلی سردار جعفری، قتیل شفائی، ضمیر جعفری، حمایت علی شاعر، جمیل الدین عالی، شریف کنجاہی، احمد فراز، افتخار عارف، شاہد نقوی اور احمد فقیہہ کو مدعو کیا تھا۔ ان کے علاوہ اردو کے ممتاز نقاد محمد علی صدیقی کو بلایا گیا تھا۔ یہ چوں کہ ہمارا پہلا تجربہ تھا اور ناروے جیسے دور دراز ملک میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے ہم یہ اہتمام کر رہے تھے، اس لئے ہم نے اردو ادب کو نارویجن شاعروں اور ادیبوں سے متعارف کروانے کا اہتمام بھی کیا۔ اس مقصد کے لئے باقاعدہ مشاعرہ سے قبل ایک گھنٹے کا انگریزی سیشن منعقد کیا گیا۔ اس میں اردو کے علاوہ نارویجن شعری روایت کے بارے میں مضمون پڑھے گئے اور چند اردو اور نارویجن شعرا نے اپنا کلام مع انگریزی ترجمہ پیش کیا۔

تمہید ذرا طویل ہو گئی۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری خواہش تھی کہ انتظام بہت اعلیٰ ہو، اردو کے دانشوروں اور مقامی ادیبوں اور لوگوں کے درمیان مواصلت اور ڈائیلاگ کی صورت بھی پیدا ہو اور انگریزی سیشن کے علاوہ مشاعرہ پورے وقار اور اہتمام کے ساتھ انجام پا سکے۔ سب دوستوں نے اس مقصد کے لئے سخت محنت کی اور ہم نے ایک باقاعدہ پروگرام ترتیب دیا جس پر عمل کرنا لازمی تھا۔

مشاعرہ کے آغاز سے چند منٹ پہلے شریف کنجاہی نے مجھ سے کہا کہ ان کا ایک شاگرد سویڈن سے آیا ہے اور وہ شاعر بھی ہے۔ اس لئے اسے بھی مشاعرے میں پڑھوا لیا جائے۔ یہ میرے لئے بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ شریف کنجاہی مرحوم کے لئے میرے دل میں بے پایاں احترام تھا۔ میرے لئے ان کی بات مسترد کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن میں پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے ناروے میں مشاعرہ کی روایت کے آغاز سے پہلے ہی اس کے انتظام میں خلل ڈالنے کا بھی روادار نہ تھا۔ اس لئے میں نے نرمی سے شریف کنجاہی سے معذرت کر لی۔ مشاعرہ ہؤا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک کامیاب مشاعرہ تھا جس میں شعرا نے دل کھول کر شعر بنائے اور داد وصول کی۔ اسی طرح سامعین نے تین گھنٹے پر محیط اس نشست کے ایک ایک لمحہ کا لطف لیا۔

مشاعرہ ختم ہونے کے فوراً بعد شریف کنجاہی میرے پاس تشریف لائے اور معذرت خواہانہ انداز میں فرمایا کہ: “ آپ نے میری بات نہ مان کر اچھا کیا۔ اس انتظام میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں تھی۔ میرا شاگرد اس پروگرام میں فٹ بھی نہیں ہوتا تھا “۔ ان کی یہ بات مجھے کبھی بھول نہیں سکتی کیوں کہ یہ رویہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب کی اعلیٰ ظرفی کا برملا اظہار تھا۔ انہوں نے یہ تسلیم کرنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کیا کہ وہ غلطی پر تھے۔

اب ایسے اعلیٰ کردار کے لوگ چراغ لے کر ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ یہ پس منظر اور واقعہ سنانے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ مجھے حال ہی میں استنبول یونیورسٹی میں اردو تدریس کی ایک صدی مکمل ہونے پر ڈاکٹر خلیل طوقار کی قیادت میں منعقد ہونے والے سہ روزہ سمپوزیم میں شرکت کا موقع ملا۔ میں یہاں اس سمپوزیم کا زیادہ ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ حسن انتظام، میزبانی اور مہمانداری کے علاوہ وہاں پیش کئے گئے مقالہ جات اور کی جانے والی باتوں کا علمی معیار نہایت اعلیٰ درجے کا تھا۔ اس طرح صاحبان علم کے علاوہ طالب علموں نے بھی اس سمپوزیم کو مفید اور کارآمد پایا۔ اس طرح یہ بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ حسن انتظام اور معیار کی پرکھ کسی ایک فرد، تنظیم یا ادارے کی میراث نہیں ہے بلکہ جو لوگ بھی خلوص دل سے کچھ اچھا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔ 1985 میں ہم اسی طرح کامیاب ہوئے تھے۔ 2015 میں اسی خلوصِ نیت کی بنا پر یہ کامیابی اور اعزاز خلیل طوقار کے حصے میں آیا ہے۔ ورنہ اردو نہ ناروے کی بولی ہے اور نہ ہی ترکی میں اسے جاننے والے بہت بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔

استنبول سے میں پاکستان پہنچا تو مجھے خبر تھی کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام کراچی میں ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ خواہش کے باوجود میں اس میں شرکت سے قاصر رہا۔ لیکن 30 اکتوبر کو شروع ہونے والی اس کانفرنس سے دو روز قبل ایک مقامی اخبار میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے متحارب گروپ کی طرف سے کراچی کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ادیبوں کا اجتماع قرار دیا گیا تھا۔ یہ افسوسناک اعلان تھا مگر اردو اور اس سے وابستہ لوگوں کے درمیان اس قسم کی دھینگامشتی روز کا معمول ہے۔

اسی دوران روزنامہ ڈان میں رﺅف پاریکھ اور دنیا پاکستان میں اصغر ندیم سید کے کالم یکے بعد دیگرے شائع ہوئے۔ ان کالموں میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنسوں اور ان کے غیر ملکی شرکاء کو تختہ مشق بنایا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ اصغر ندیم سید جیسے سقہ لکھنے والے کو مضمون تلاش کرنے اور اس کی دلیل دینے کے لئے اس بات کا انتظار کرنا پڑا کہ رﺅف پاریکھ ڈان میں کالم لکھیں تو وہ بھی طبع آزمائی کریں۔ آسان اردو میں سید صاحب کا مضمون پاریکھ کے مضمون کا ترجمہ ہے۔ بس یہ اضافہ ضرور ہے کہ اس میں اردو زبان میں لکھی گئی تحریروں کے رواج کے مطابق بعض بے بنیاد اور بے مقصد باتوں کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔ ان دونوں صاحبان علم و قلم کا موضوع سخن وہ کم فہم اور نیم پختہ ادیب ہیں جو بقول ان کے کانفرنسوں کے انعقاد یا ان کے موسم کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور پھر منتظمین سے ” گٹھ جوڑ “ کر کے صرف ایک ایئر ٹکٹ کے بل بوتے پر دانشور، ادیب اور لکھاری بن بیٹھتے ہیں۔ اور اصغر ندیم سید جیسے ادیبوں کے ساتھ تصویریں بنوا کر اپنی توقیر میں اضافہ کرتے ہیں اور اپنے احباب اور خاندان کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ بھی مستند ادیب ہیں۔

ان دونوں حضرات نے دراصل بات نامکمل چھوڑ دی۔ اگر وہ یہ بھی بتا دیتے کہ مستند ادیب کس قسم کا ہوتا ہے اور اس کی پہچان کے لئے کون سے اقدام کرنا ضروری ہے تو بہت سے نادان اور انجان لوگوں کا بھلا ہو جاتا اور ایسے سادہ لوح منتظمین جو صرف برطانیہ، ناروے، امریکہ، کویت، سعودی عرب یا خلیجی ممالک وغیرہ کا نام سن کر جھٹ سے دعوت نامہ بھیج دیتے ہیں تاکہ ان کی کانفرنس کو “ انٹرنیشنل “ کا نام مل جائے اور اس ایک جادوئی لفظ کی بدولت وہ سارے وسائل سمیٹنے کا موقع مل سکے جو حضرت اصغر ندیم سید کے بقول یہ منتظمین ان غیرملکی جعلی مندوبین کے سہارے ” آگے پیچھے “ کر لیتے ہیں۔

بات تو رﺅف پاریکھ اور اصغر ندیم سید کی کئی لحاظ سے نامکمل ہے۔ اسی لئے یہ دونوں مضمون یک طرفہ اور ہتک آمیز ہیں۔ ان میں بیرونی ملک مقیم پاکستانی نژاد ادیبوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں جعلی اور وارداتیا کہا گیا ہے۔ جبکہ ملک کے اصلی اور حقیقی ادیبوں کے بارے میں یہ دونوں خاموش ہیں جو کسی لالچی پبلشر کے کہنے پر شاعری کی ناقص کتابوں پر ” معتبر“ تبصرے لکھتے ہیں۔ نہ ان پروفیسروں کا پردہ فاش کرنے کی کوششش کی گئی ہے جو بیرون ملک سے آنے والوں کے ڈالر اور پونڈ دیکھ کر دھڑا دھڑ اپنے طالب علموں سے ناقص اور گھٹیا ادیبوں پر ایم فل کے مقالے لکھوا رہے ہیں۔ اور نہیں تو اگر یہ دونوں بڑے ادیب یہ ہی بتا دیتے کہ  اردو زبان اور اس میں اظہار کرنے والے چند پاکستانی ادیبوں میں آخر وہ کون سی خوبی ہے کہ وہ سال کے چھ مہینے بیرون ملک سے آنے والی دعوتوں کے طفیل مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں۔  یہ لوگ بعد ازاں میزبانوں کے بچوں، بیویوں یا شوہروں، گاڑیوں، کاروبار، مکان، دکان یا تنظیم کے بارے میں اپنے کالموں یا تحریروں میں ایسی رنگ آمیزی کرتے ہیں کہ قیاس ہوتا ہے کہ اصل ادب تو بس ان گھروں میں ہی تخلیق ہو رہا ہے۔ یا یہ کہ سات سمندر پار رہ کر بھی یہ لوگ کیسے اپنی روایت اور اصل سے جڑے ہوئے ہیں اور خاتون خانہ ایسا لذیذ کھانا بناتی ہیں کہ مصنف موصوف نے شاید صرف اپنی اماں یا دادی کے ہاتھ کا بنا ہؤا اتنا لذیذ کھانا کھایا تھا۔

یا پھر ان وارداتیوں کا ہی ذکر ہو جاتا جوکسی اخبار میں چھپنے والے کالم کے سہارے دنیا بھر میں آباد محنت کش پاکستانیوں سے رابطے بڑھاتے ہیں۔ پھر ان کی دعوت پر مشاعرہ پڑھنے کے لئے مانگے کی غزلیں اور نظمیں لے کر وطن سے روانہ ہوتے ہیں۔ یہ مانگے کا لفظ اصطلاحاً آ گیا ورنہ یا تو یہ سرقہ ہوتا ہے  یا ایسے “ فنکار “  نقد قیمت چکا کر کسی گمنام مگر بے وسیلہ شاعرکا کلام ہتھیاتے ہیں۔

یہ بھی بھلا ہوتا اگر اس ضمن میں ان اجڑے گھروں کا بھی ذکر ہو جاتا جو اردو کے ادیبوں کی خدمت کرتے کرتے اپنے کاروبار تباہ کر بیٹھے کیوں کہ ذاتی مفاد کے حصول کے لئے “ اصلی تے وڈے “ ادیبوں نے ان محنت کشوں کو یہ جھانسہ دیا تھا کہ وہ اعلیٰ پائے کے ادیب اور شاعر ہیں۔ اصغر ندیم سید ضرور ایسی سینکڑوں نہیں تو درجنوں محفلوں کے بارے میں جانتے ہوں گے جو ان کے شہر لاہور میں بیرون ملک سے آئے ہوئے ” ناقص اور جعلی“ ادیبوں کے اعزاز میں برپا ہوتی رہتی ہیں اور جن میں عام طور سے اردو ادب کے نامور ستارے رونق افروز ہوتے ہیں۔  اس موقع پر  درآمد شدہ ادیب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ مبادا کل کو ان کی باری آ جائے اور وہ مفت کا ٹکٹ اور میزبانی کا شرف حاصل کر سکیں۔

یہ حروف لکھنے کا مدعا صرف یہ ہے کہ یہ ایک جائز مسئلہ ہے کہ سماجی احتیاج کے مارے بے شمار تارکین وطن، ادیب بن کر اپنا اکیلا پن دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اصلی مگر نوسرباز ادیبوں یا ان کے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ کر ناقص تحریروں کو شائع کروانے پر لاکھوں روپے صرف کر دیتے ہیں۔ راقم الحروف اس قسم کے کئی کرداروں کو جانتا ہے۔  تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اصل جعل ساز کون ہے جسے اپنے بڑا “ ادیب یا شاعر “ ہونے کا گمان ہو گیا ہے یا وہ سکہ بند ادیب جو ان معصوموں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ واقعی بڑا معیاری ادب تخلیق کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی اپنی دال روٹی اور بیرون ملک سفر کا دھندا چلتا رہے۔ یہ درست ہے کہ کوئی بھی معاملہ یک طرفہ نہیں ہوتا۔ نہ بیرون ملک آباد سارے پاکستانی ادیب جعلی اور وارداتیے ہیں اور نہ لاہور، کراچی، اسلام آباد وغیرہ میں رہنے والے سارے ادیب اصلی، حقیقی  اور سعد ہیں۔

اوپر میں نے ناروے کے 1985 کے مشاعرہ کا ذکر دو وجہ سے کیا تھا۔ ایک تو یہ کہ سلیقہ سے کسی جلسہ یا فنکشن کا اہتمام کہیں بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کام پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ لیکن اس کے لئے منتظمین کو باصلاحیت اور دیانت دار ہونا چاہئے۔ اگر کسی تقریب کے انعقاد کا مقصد صرف یہ ہو گا کہ اس کا آنکھوں دیکھا حال مع قصیدہ خوانی کے نشر یا تحریر ہو،  تو اس تقریب پر نحوست کا سایہ پڑنا لازم ہے۔ نجانے پاکستان میں منعقد ہونے والی ایسی کتنی تقریبات اس نحوست سے پاک ہوتی ہیں۔ یہ بھی میرے علم میں نہیں کہ کانفرنسوں کا اہتمام کرنے والے کتنے ادیب شہرت اور پبلسٹی کی خواہش سے عاری ہوتے ہیں۔ کوئی ایسی کانفرنس یا تقریب برپا ہوتی ہو تو راقم الحروف بھی اس سے استفادہ کرنے کے لئے سر کے بل جائے گا۔

اصغر ندیم سید نے بیرون ملک مقیم پاکستانی ادیبوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ ٹیکسیاں چلا کر اور دکانوں پر کام کر کے چار پیسے کمانے کے بعد ادیب بنے ہیں۔ اس تبصرہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ٹیکسی چلانا یا اسی قسم کا کوئی دوسرا کام کرنا اتنا گھٹیا پیشہ ہے کہ اس سے منسلک شخص اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔ مجھے یقین ہے سید صاحب خود بھی اس پہلو سے اپنی تحریر پڑھیں گے تو اس پر پچھتائیں گے۔ کیوں کہ کام سے کسی انسان کو ماپا یا تولا نہیں جا سکتا۔ ورنہ چک جھمرے کا  6 کتابوں کا مصنف شاعر بدستور موچی کا کام نہ کر رہا ہوتا اور ملک کا ممتاز ترین اخبار ڈان اس کی خبر شائع کرنا ضروری نہ سمجھتا۔ اور نہ ہی مزدور پیشہ لاغر اور بیمار شاکر شجاع آبادی کسی تحسین کا مستحق قرار پاتا۔ سید صاحب کی معلومات کے لئے درج کرتا چلوں کہ جب راقم نے فیصل آباد میں مقیم پنجابی کے ممتاز شاعر عبیر ابو ذری کو 90 کی دہائی میں پہلی بار کسی غیرملکی دورہ پر ناروے آنے کی دعوت دی تھی تو وہ پیٹ پالنے کے لئے فیصل آباد کے ایک محلے میں خود تیار کردہ خوشبودار تیل فروخت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح لاہور کے قد آور پنجابی شاعر اختر سائیں کو ناروے بلوایا گیا تھا تو وہ اسی ادب نواز شہر کی کچہری میں ہرکارے کا کام کرتے تھے۔ کیا ان  شاعروں کے پیشہ کی وجہ سے ان کے کام کی قدر و قیمت کم ہوگئی ہے؟ یا ادب اور ادیب کا احترام نہ کرنے والے معاشرے کا بھیانک چہرہ سامنے آتا ہے؟

مختلف ملکوں میں آباد پاکستانی نژاد ادیبوں کا مکمل تعارف اور تفصیل بتانا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے لیکن اس ضمن میں، میں اگر صرف ناروے کے حوالے سے بات کروں تو عرض کر سکتا ہوں کہ وہاں پر  مستند عالم، دانشور اور ادیب ، اردو و پنجابی کا اعلیٰ درجے کا شاعر مسعود منور آباد ہے۔ پنجابی کابے پایاں شاعر خالد تھتھال وہاں رہتا ہے۔ اردو زبان میں چونکا دینے والا  ایوارڈ یافتہ ناول ” جنگل میں منگل“ کا مصنف انیس احمد بھی اوسلو میں ہی مقیم ہے۔ ارشد شاہین تو لاہور میں اپنا لوہا منوا کر روزگار کی مجبوری میں ناروے گیا ہے اور اب وہاں آباد ہے۔ ہمارے شہر اوسلو میں اردو نظم کا بااعتماد نام فیصل ہاشمی رونق افروزہے اور یہ اعزاز بھی ناروے کو حاصل ہے کہ جواد شیخ جیسا مکمل شاعر اور اردو غزل کی تازہ اور توانا آواز بھی اسی کی فضاﺅں میں سانس لیتا ہے۔ پھر وہاں جمشید مسرور بھی رہتے ہیں۔ ارشد بٹ جیسا سیاسی و ثقافتی مبصر ہمارا ہموطن ہے۔ اگر اہل پاکستان یا یہاں آباد دیدہ ور ان لوگوں کے نام اور کام سے نا آشنا ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سچے ادیب دکانیں سجا کر مال فروخت نہیں کرتے۔ اور بیرون ملک ادب کے نام پر محو سفر ادیبوں ، شاعروں اور کالم نگاروں کو وہی ادیب بھاتے ہیں جو ان کے لئے سہولتیں اور وسائل فراہم کر سکیں۔ باقی رہا اصل ادب کی تلاش اور خواہش تو پاکستان میں ادیبوں اور ادبی تنظیموں نے عہدے اور رتبے کے حصول کا جو دھندا شروع کر رکھا ہے ، اس کے ہوتے یہ جنس بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔  کسی کو اس بات کی آرزو نہیں ہے کہ وہ اردو میں کئے جانے والے اچھے کام کو تلاش کرے اور متعارف کروائے۔ البتہ اس کام کے نام پر عہدوں کا لالچ بہت سے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ایسے میں اگر  وطن کے فاضل کالم نگار بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی صلاحیت اور کارکردگی سے لاعلم ہیں تو اس کا الزام دوسروں کو دینا، نا انصافی ہے۔

نہ اچھے حرف کسی کی جاگیر ہیں اور نہ اعلیٰ ادب حدود و قیود کو مانتا ہے۔ اردو کی کامیابی اسے چند لوگوں یا ملکوں تک محدود کرنے میں نہیں بلکہ اسے عام کرنے اور اس کا حلقہ وسیع کرنے سے ہے۔ اردو کے ادیبوں کو ان تمام پاکستانیوں کا شکرگزار ہونا چاہئے جو تلاش رزق میں بیرون ملک گئے لیکن سخت محنت اور نامساعد حالات میں بھی اپنی ثقافت اور لسانی تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تو آپ نے تین نسلوں کی یوں پرداخت کی ہے کہ وہ اردو اور اس میں لکھے جانے والے ادب سے کوسوں دور ہو چکی ہیں۔ یہ نسلیں نہ اردو  لکھ سکتی ہیں، نہ پڑھ سکتی ہیں اور نہ سمجھ سکتی ہیں۔ جتنی اردو ان نوجوان نسلوں کو آتی ہے، وہ بھارتی ہندی فلموں یا پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کی مرہون منت ہے۔ اس لحاظ سے اصغر ندیم سید بھی کسی حد تک اردو کے محسن ہیں۔

حرف آخر کے طور پر یہ عرض کروں گا کہ کوئی کانفرنس کسی زبان کی ترویج و ترقی کے لئے کلیدی حیثیت نہیں رکھتی۔ اصل کام وہ ہے جو تحقیق کے شعبہ میں یا تخلیقی محاذ پر سرانجام دیا جا رہا ہے۔ کانفرنسیں تو ایسا پلیٹ فارم ہوتی ہیں جہاں نئے لکھنے والے یا ادب سے محبت کرنے والے سیکھنے یا اپنے پسندیدہ ادیبوں کو دیکھنے اور ملنے آتے ہیں۔ ان کو دھتکار کےاور ان کا راستہ روک کر نہ ادیب کا فائدہ ہے اور نہ ادب کا بھلا ہو گا۔ یہ استدلال غلط اور بے بنیاد ہے کہ نوآموز لوگوں کو کانفرنسوں میں نہ آنے دیا جائے یا ایسی تقریبات کو ڈی گریڈ کرکے انہیں ادبی میلہ کہا جائے۔

ادب تو راستے کھولنے، دلوں تک راہ بنانے اور گلے لگانے کا نام ہے۔ معاشرے میں گروہ بندی کرنے والے بے شمار لوگ ہیں۔ اردو کے نام پر توقیر پانے والوں کو اس راستے پر چلنا زیب نہیں دیتا۔