اردو ہے جس کا نام ۔ 2

  • اتوار 01 / نومبر / 2015
  • 4726

استنبول یونیورسٹی میں اردو زبان کی تدریس کے سو سال مکمل ہونے پر اکتوبر میں یہاں ایک بین الاقوامی سمپوزیم منعقد کیا گیا تھا ، جس میں مختلف ملکوں سے تقریباٌ ایک سو مندوبین نے شرکت کی تھی۔ ان میں سے بیشتر مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ سطح پر اردو کی تدریس اور تحقیق کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کچھ لکھاری، صحافی اورشاعر بھی یہاں تشریف لائے تھے۔ مقصد سب کا ایک ہی تھا۔اردو سے محبت کا اظہار، جو کھل کر ہؤا۔ اس کی تفصیل ہم پچھلے کالم میں بیان کر چکے ہیں۔

اب نجانے کیوں ایک انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی یہ کانفرس متنازعہ بنادیئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی کوششوں کو کیا کہا جائے۔۔ مذموم ؟
آئیے سب سے پہلے تو ایک سوال خود اپنے آپ سے کریں !
استنبول یونیورسٹی میں اردو کی تدریس شروع ہوئے تو سو سال مکمل ہوئے ، سو ہوئے۔ کچھ اور زبانیں بھی تو یہاں پڑھائی جا رہی ہیں۔ مثلاٌ فارسی، عربی وغیرہ۔
انکی تدریس تو شاید سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے۔
کیا یہاں فارسی یا عربی کی تدریس کا سو سالہ جشن بھی منایا گیا۔ ہم نے تو نہیں سنا !
تو پھرصرف اردو پڑھائے جانے کی صدی مکمل ہونے پرہی اتنا اہتمام کیوں کیا گیا۔

آخرکسی نے تو استنبول یونیورسٹی اور شہر کی بلدیہ عظمیٰ سے اس مقصد کے لئے لاکھوں لیرا کا بجٹ منظور کروانے کی سعی کی ہو گی۔ انہیں قائل کیا ہو گا کہ اس طرح محبتیں بڑھیں گی۔ یونیورسٹی اور شہر کا وقار بلند ہو گا۔ باہمی تعاون بڑھے گا ۔علم و فن کی خدمت ہوگی، اورایسا ہی اور بہت کچھ ۔
اس مقصد کے لئے اسے کتنا وقت دینا پڑا ہو گا۔ کتنی محنت کرنا پڑی ہو گی۔ اتنے لوگوں کو ایک ہی جگہ پر اکٹھا کرنے، ان کے آرام کا خیال رکھنے ، ان کا قیام خوشگوار بنانے کے لئے اسے کیسے کیسے مراحل سے گزرنا پڑ ا ہو گا۔ کتنا کشٹ اٹھانا پڑا ہو گا۔

اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہ سب کچھ کرتا۔ اردو پھلے نہ پھلے اس کی بلا سے۔ اس کی مادری یا قومی زبان تو ہے نہیں ۔ وہ کیوں اسے اپنے سینے سے لگائے رکھے!
اور پھر اب اس پر طنز کے نشتربھی چلائے جا رہے ہیں۔
آخر ہم ہیں کون ! ہمارا خمیر کس مٹی سے اٹھا ہے !
ہو سکتا ہے ہمارے بارے میں یہ سوال استنبول یونیورسٹی میں اس سمپوزیم کا اہتمام کرنے والے ڈاکٹر خلیل طوقار کے ذہن میں بھی اٹھتا ہو۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ آخر یہ کیسے لوگ ہیں جو خود اپنا بھلا بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ جن کی آنکھ کوئی بھی مثبت پہلو دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ جنہیں ہر سو سازش ہی سازش دکھائی دیتی ہے۔

رؤف پاریکھ اور اصغر ندیم سید دو معتبر نام ہیں۔ اردو کانفرنسوں کے حوالے سے جو باتیں انہوں نے اپنے کالموں میں کی ہیں، یقیناٌ درست ہوں گی۔ لیکن ان کا اطلاق استنبول سمپوزیم پر نہیں کیا جا سکتا۔
کیوں ؟
اس لئے کہ ہم خود وہاں موجود تھے اور جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہؤا۔ شرکاء کی بڑی تعداد کا تعلق مختلف ملکوں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تھا اور ان میں سے بھی بیشتر اپنے اپنے شعبوں کے سربراہ یا سینئر استاد تھے۔ یہ اپنے ساتھ عامیانہ اخباری کالم نہیں لائے تھے۔ تحقیقی مقالے لائے تھے جوانہوں نے یہاں پڑھے اور ان پر بعد میں بات بھی ہوتی رہی۔ جو محقق یا استاد نہیں تھے ، وہ بھی کسی نہ کسی حوالے سے اپنی پہچان رکھتے تھے۔ ان میں صحافی تھے۔ لکھاری تھے۔ مترجم تھے اور ایسی ہی چند دوسری علمی ادبی شخصیات جو خاموشی سے اردو کی خدمت کرتی چلی آرہی ہیں ۔

اگر نہیں تھے، تووہ پیشہ ور مداری نہیں تھے جو برسوں سے اپنے اپنے کالموں کی پٹاریاں یا گھسی پٹی بیاضیں بغل میں دبائے“ بھائی جان۔۔ قدر دان “ کی صدائیں بلند کرتے انہی سمندر پار پاکستانیوں کے خرچے پر دنیا کی سیر کرتے پھرتے ہیں جن کی عدم موجودگی میں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنے تئیں علم و دانش کے ستون سمجھنے والے ان مسخروں کی حقیقت ہم جانتے ہیں۔ یہ شاید اس بات پر برہم ہیں کہ ان جیسی عظیم شخصیات کو سمپوزیم میں کیوں مدعو نہیں کیا گیا۔ اپنی ایسی ناقدری ان سے ہضم نہیں ہو پا رہی۔

تو بھائی لوگو ! جان لو اور سمجھ لو کہ اب کم از کم یوروپ میں تو تمہارے بہروپ کی قلعی کھل چکی ہے۔ اب تک تم یہاں رہنے والے ہم وطن محنت کشوں کا تمسخر اڑاتے تھے۔ اب وہ تم پر ہنستے ہیں۔اب تم بھلے ہی اپنے کالموں میں “ بھابیوں “ کے لذیذ کھانوں کا ذکر کرو یا میزبانوں کی لمبی فہرست کے ساتھ ان کی کی لمبی گاڑیوں کا۔ سبھی جانتے ہیں کہ تم چاہتے کیا ہو۔

نجانے کتنے سادہ لوح تمہارے جھانسے میں آ کر “ نئے اور منفرد لہجے “ کے شاعر اور ادیب بنے گھومتے ہیں۔ لیکن یہ جیسے بھی ہیں، اگر اپنی جیب سے خرچہ کر کے کوئی کانفرنس بلائیں یا کسی میں جائیں تو اس میں کسی کا کیا نقصان ہے۔ شاید اسی بہانے ان کی اولاد اپنی زبان و ادب سے جڑی رہے۔ خود نمائی یا آگے بڑھنے کی خواہش کس میں نہیں ہوتی۔ ہماری تو پوری سائیکی ہی اس کے  گردگھومتی ہے۔ اپنے سیاستدانوں کو ہی دیکھ لیں۔ بلکہ وہ تو یہ سب ڈرامے کرتے بھی عوام کے پیسے سے ہیں۔ ایک دوسرے کو پچھاڑتے ان اہل قلم کو دیکھ لیں جو ہر و قت اپنا قلم ہاتھ میں لئے بازار میں گھومتے ہیں۔ جو بولی دے۔ خرید لے۔

بات کچھ لمبی ہو گئی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یونیورسٹی لیول کی ایک ایسی کانفرنس کو متنازعہ بنا دینا جو صرف اور صرف اردو کی محبت میں بلائی گئی تھی، کسی طور بھی منصفانہ نہیں ہے۔ یقین جانیئے اس سے نہ صرف اس کا انعقاد کرنے والوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی بلکہ ان سب کو بھی ذہنی صدمہ پہنچا ہو گاجو اس میں شامل ہوئے اور بہت اچھی یادیں لے کر وہاں سے لوٹے۔

جہاں تک رؤف پاریکھ اور اصغر ندیم سید کے کالموں کا تعلق ہے ، ہم پوری دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ کالم لکھتے وقت ان کے ذہن میں استنبول کانفرنس ہر گز نہ تھی۔ اس کی “ ٹائمنگ “ محض اتفاقیہ ہے جو دکھ کی بات ہے۔ کوئی بھی باظرف صحافی کسی کی دیانتداری اور خلوص پر ایسے شک نہیں کر سکتا۔