قہقہے کو موت کیسے آئی؟

  • منگل 03 / نومبر / 2015
  • 6370

حیدر رضوی مر گیا۔ اچھا ہی ہؤا۔ دنیا کے درد کو حیدر رضوی سے نجات مل گئی۔ اس بات کو کئی دن ہو گئے ہیں۔  دماغ سے حیدر رضوی کو نکالنا چاہتا ہوں، اس کے مرنے کو کھرچ کر دماغ سے الگ کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن جتنا کھرچتا ہوں، وہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے، کرچی کرچی ہوکر پھیلتا جاتا ہے، چبھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں: نہ کر یار، پہلے پیڑاں گھٹ نیں، . . . ہا ہا. . . ہا ہا. . . ہا ہا، او جگر! اسیں پیڑ آں، اسیں پیڑاں دا گھر آں، ایسّے لئی تے ساریاں پیڑاں :
 (او جگر! ہم ہی تو درد ہیں، ہم درد کا گھر ہیں، اسی لیے تو یہ تما م دھتکارے ہوئے اور ٹھوکریں کھاتے درد جنھیں کہیں اور جگہ نہیں ملتی ، ڈھونڈتے ہوئے ہمارے اندر آ بستے ہیں۔ ) وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہتا ہے۔

سردی شدید ہوتی جا رہی تھی۔ بارہ بج رہے تھے۔ یہ دو تین سال پہلے کی بات ہے۔ شاید 2012 ء کی یا شاید اس سے بھی پہلے کی۔ بی بی سی نے ابھی بش ہاؤس نہیں چھوڑا تھا۔ میں مڈ شفٹ میں تھا۔ بش ہاؤس پہنچا تو شاید ثقلین امام نے بتایا کہ حیدر رضوی آیا ہؤا ہے۔ اچھا ، کہاں ہے؟ میں نے پوچھا۔ وہ امریکہ میں ہوتا تھا۔ لیکن اس کا آنا اور بغیر اطلاع آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ تقدیر کا لکھا، جسے ہونا ہی ہو، کب اور کیسے، اس پر بھی بس نہ ہو، مقدر کے اس تصور میں بس یا اختیار نامی کوئی چیز نہیں، یہ ایک طرح کا وجودی معاملہ ہے۔ آپ کو اس کے ساتھ نباہ کرنا ہے۔ اس میں انتخاب کی کوئی گنجائش نہیں۔

میں نے ابھی کام شروع بھی نہیں کیا تھا کہ استقبالیے سے حیدر رضوی کے پہنچنے کی اطلاع ملی۔ میں نیچے گیا اور اسے اور اس کے ایک اٹیچی کیس کو اوپر لے آیا۔ اسے بش ہاؤس پہنچے ہوئے کئی گھنٹے ہو گئے تھے۔ کسی نے اسے اوپر نہیں بلایا تھا۔ کیوں نہیں بلایا تھا؟ مجھے اس کا اندازہ تھا۔ لیکن جب وہ اوپر آیا تو کئی ساتھی اسے بڑی خوش دلی سے ملے۔ رات آٹھ بجے میری ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ اس کی فرمائش پر اس کا اٹیچی کیس وہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہم باہر نکلے، ایک اسٹور پر گئے اور پھر لوٹ کر بش ہاؤس کی ایک بیرونی منڈیر پر آ بیٹھے۔

“ یہاں سے تبت جاؤں گا، وہاں ایک انسٹیٹیوٹ ہے، وہاں میڈیا پڑھاؤں گا۔ بس اب تبت میں رہوں گا۔ پہاڑوں میں رہوں گا۔ شہروں کی ویرانی سے تنگ آ گیا ہوں۔ پہاڑ زیادہ اچھے دوست ہوتے ہیں “۔
 پھر وہ اپنے منصوبے بتاتا رہا۔ نیو یارک اور واشنگٹن کے دوستوں کا حال سناتا رہا اور گلے شکوے کرتا رہا۔ اس دوران پتہ نہیں کس وقت ہم وہاں سے اٹھ کر چل پڑے۔ بش ہاؤس کے سامنے بھی کچھ اور دوستوں سے ملاقات ہوئی لیکن اس کی تفصیل سے کچھ دوستوں کی دل آزاری ہوگی۔

حیدر رضوی مجسم دل آزاری تھا۔ اگر اسے اور دل آزاری کو الگ کیا جا سکتا تو پتہ نہیں کیا بچتا۔ یہی رشتہ اس کا محبت سے بھی تھا۔ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ محبت کب دل آزاری اور دل آزاری کب محبت میں بدلے گی۔
 شاید جون ایلیا کا شعر ہے:
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھاہے
 جس سے ملئے اسے خفا کیجئے
خیال آتا ہے کہ دل آزاری تو شاید اس کے لئے سخن کا پردہ تھی۔ دراصل اسے قہقہہ لگانے سے پیار تھا۔ اس کی عام گفتگو میں بھی ایک قہقہہ مسلسل سسکی بھرتا رہتا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ لندن میں دو دن رہے گا۔ کہاں رہو گے؟ میں نے پوچھا۔ اس نے حیرانی اور بے یقینی سے میری طرف دیکھا۔
 میں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا: “ میں کراچی جا چکا ہوں، عذرا بھی وہیں ہیں۔ عارضی طور لندن آیا ہؤا ہوں اور ایلیا (میری بیٹی) کی طرف ٹھہرا ہؤا ہوں “۔
“ تو کیا ہؤا۔  میں بھی ایلیا کے ساتھ رہوں گا۔ وہ صرف تیری بیٹی ہے؟ “ اس نے چلاتے ہوئے کہا
“ اب اس کی شادی ہو چکی ہے۔ خاصی دیر بحث کے بعد بات اس کی سمجھ میں آئی۔

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ انڈر گراؤنڈ ملنے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ ہم کوونٹ گارڈن کے علاقے میں کھڑے تھے۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ہونے کی وجہ سے رونق زیادہ تھی۔ میں نے اپنی جیب اسے پیش کی اور اس نے صبح ملنے کے وعدے پر مجھے جانے کی اجازت دے دی۔
صبح سویرے ہی اس کا فون آ گیا۔ میرے جانے کے بعد اس نے ایک دوست بنا لیا تھا۔ رات کا باقی وقت اس کے کمرے میں گذارا اور بتایا کہ وہ شام پانچ بجے آئے گا۔

دوسرے دن میں اس کے کچھ مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور وہ چلا گیا۔ مجھے یہی کہہ کر گیا کہ تبت جا رہا ہے۔ اس کے بعد ہماری آخری ملاقات جنوری 2015 میں کراچی پریس کلب میں ہوئی۔ وہ اور فیکا ساتھ تھے۔ سارا وقت امن و امان قائم رکھنے میں گذر گیا۔ اس نے دوسرے دن میری طرف آنے کی اطلاع دی اور نہیں آیا۔ اس کے بعد فروری میں فیس بک پر اس کا پیغام آیا: “ پنجابی زبان کے بارے میں کچھ لکھو “۔ میں کہا: “ مجھے پنجابی کہاں آتی ہے؟ “ وہ ناراض ہو گیا۔

29 اکتوبر کو انوار حسن کا پیغام آیا۔ سنا ہے حیدر رضوی کا انتقال ہو گیا ہے۔ کیا آپ تصدیق کر سکتے ہو؟
 میں نے معلوم کیا لیکن معلوم نہ کر سکا۔ اس کی تصدیق ارشد وحید سے دو دن بعد ہونے والی گفتگو میں ہوئی اور بے ساختہ میرے ذہن میں ایلن گنز برگ کی نظم Howl کا ابتدائی مصرع گونجنے لگا:
I saw the best minds of my generation destroyed by madness, starving hysterical naked
کیوں؟ مجھے نہیں پتہ۔ لیکن شاید یہ مصرع زیادہ موزوں ہے اور یہ مجھے حیدر رضوی نے ہی سنایا تھا۔ پتہ نہیں کس کا ہے؟
جینا اس رنگ دا اسیں کیتا نامنظور

( یہ مصرع جدید پنجابی شاعری کے امام نجم حسین سید کا ہے ۔ پنجابی سے نا آشنا دوستوں کے لئے اس کا اردو  ترجمہ یوں ہوگا:  “ہمیں اس رنگ میں جینا منظور نہیں “۔ ( وجاہت مسعود ) ۔
 (بشکریہ Dunyapakistan.com)