” اللہ اس ہجوم کا حامی و ناصر ہو“
- منگل 03 / نومبر / 2015
- 5555
31 جنوری 2015 کی صبح میں اس وقت خوشگوار حیرت میں مبتلا ہؤا کہ جب میں نےفیس بک پر استنبول یونیورسٹی کی جانب سے اردو کے صد سالہ تدریسی عمل مکمل ہونے پر منعقد کی جانے والی ایک کانفرنس کی تشہیری مہم دیکھی۔ بحیثیت پاکستانی یہ میرے لئے ایک قابل فخر بات تھی کہ دنیا میں اردو زبان کے فروغ کے لئے کام کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی حضرات بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک ڈاکٹر خلیل طوقار بھی ہیں جو ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک نہایت ہی قابل اور نفیس انسان ہیں ۔ اور استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ جناب خلیل کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ استنبول شہر میں اردو تدریس کا عمل زور شور سے جاری ہے۔
بحیثیت پاکستانی میں نے اس بات کو اپنا فرض سمجھا کہ اردو کی ترقی کے اس سفر میں اپنے ترک دوستوں کا ساتھ دوں۔ لہٰذا میں نے ایک مقالہ لکھ کر بذریعہ e-mail استنبول بھیج دیا۔ یہ مقالہ چند ہی دنوں میں منظور ہو گیا اور مجھے استنبول یونیورسٹی کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہو گیا۔
کانفرنس چونکہ 12 سے 14 اکتوبر کو منعقد ہونی تھی لہٰذا استنبول یونیورسٹی نے استنبول کی مقامی حکومت کے ساتھ مل کر گیارہ سے سولہ اکتوبر تک کانفرنس میں موجود سبھی شرکا کے لئے رہائش اور دیگر ضیافتوں کا اہتمام کیا ہؤا تھا۔ ترکی پہنچ کر بہت جلد اس بات کا احساس ہو گیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے کم از کم ایک سال کے عرصے سے کاوشیں کی جا رہی ہوں گی۔ جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ 31 جنوری 2015 کو میں خود اس کانفرنس کی تشہیری مہم دیکھ چکا تھا۔ کانفرنس کی ابتدائی تقریب میں پاکستانی اور بھارتی سفیروں اور دیگر معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔ دریں اثنا کانفرنس میں امریکہ ، برطانیہ ، روس ، ناروے ، ڈنمارک، یو اے ای ، کویت ، کینیڈا ، پاکستان ، بھارت ، ایران اور دیگر ممالک سے شرکا کو مدعو کیا گیا تھا۔ اور یہ سب کارنامہ جناب خلیل طوقار اور ان کے رفقا نے سرانجام دیا تھا جس کے لئے پوری پاکستانی قوم اور اردو سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔
بہرحال احسان فراموشی تو ہمارے اس قوم نما ہجوم کی پرانی عادت ہے اور اب تو ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہماری صفوں میں کوئی میر جعفر یا میر صادق چھپا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ہماری صفوں میں کوئی ٹیپو یا سراج الدولہ چھپا ہے۔ کیونکہ اب ہماری ذہنیت میر جعفر یا میر صادق کی ذہنیت سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ خلیل طوقار اور اپنی مصروف زندگیوں میں سے اردو کے لئے وقت نکال کر آنے والے بیرون ملک مقیم اردو کے ادیبوں اور شعرا کے ساتھ بھی یہی ہؤا۔ کانفرنس کے اختتام پر ہی کچھ لوگوں نے کالم لکھنے شروع کر دئیے جن میں کانفرنس کے منتظم حضرات اور شرکا پر بے جا تنقید شروع کر دی گئی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک تو ہم خود کچھ نہیں کرتے اور اگر کوئی دوسرا یا کوئی غیر ملکی ہمارے لئے کچھ کرنے کا ارادہ کرے یا کچھ کر کے دکھائے تو بہت جلد ہی ہم میں سے کچھ لوگ اٹھ کر اسے اس بات کا احساس دلانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ میر جعفر اور میر صادق اور ان کے نور نظر اور نور چشم لوگوں کا ایک گروہ ہے۔ اور وہ بقلم خود اکیلا ہی اس گروہ کے درمیان ٹیپو یا سراج الدولہ کی مانند کھڑا ہے۔
ایک کالم نگار نے تنقید کرنے والے صاحب سے اپنے کالم میں پوچھا ہے کہ آخر انہوں نے اردو کی ترقی کے لئے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے یا انہوں نے کتنی کانفرنسوں کا انعقاد کرایا ہے؟ لیکن میں تنقید کرنے والے ان صاحب سے یہ سوال ہرگز کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ کیونکہ بحیثیت تاریخ کے ایک طالب علم، میں یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ میر جعفر اور میر صادق کبھی کسی کو کچھ دیا نہیں کرتے بلکہ صرف لیا کرتے ہیں۔ تو ان سے یہ سوال کرنا بھی بیوقوفی ہے کہ انہوں نے آخر کیا کیا؟
ان حالات میں نہ تو میں کوئی سوال کر سکتا ہوں اور نہ کوئی جواب دے سکتا ہوں۔ میں تو بس صرف ایک دعا کر سکتا ہوں اور وہ یہ کہ:
” اللہ اس ہجوم کا حامی و ناصر ہو“ آمین۔