انتہا پسندی کے خلاف استقامت ضروری ہے

  • بدھ 04 / نومبر / 2015
  • 5592

سماجی ماہرین کے خیال میں ہندوستان میں جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت وجود میں آنے کے بعد سے اُس نظریہ کو مزید تقویت ملی ہے جس کی بنیادیں راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس سے وابستہ ہیں۔ایک لحاظ سے اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے ۔کیونکہ ایک نظریاتی جماعت کا قیام ہی نظریہ کا فروغ واستحکام ہے۔لیکن دشواری اس وقت ہوتی ہے جبکہ ملک کے آئین ، اس کی بنیادو اسا اور نظریہ میں ٹکراؤ پیدا ہونا شروع ہو جائے۔

یہ ٹکراؤ اگر فکر و نظریہ تک محدود ہو توقابل قبول ہو سکتا ہے ، لیکن اگر اس کے سبب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ملک آج کل ایسے ہی حالات سے دوچار ہے۔ ایک جانب اہل اقتدار اور ان کا نظریہ ہے تو دوسری جانب دیگر اقوام اور ملک کا مروج آئین ہے۔ ہندوستانی آئین میں ملک کو سیکولر اور جمہوری کہا گیا ہے۔جہاں تمام افراد و گروہ کو اپنے مذہب،پرسنل لاء،آزادئ تقریر و بنیادی حقوق و اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔اس کے باوجود ملک کا ایک بڑا طبقہ اِن حقوق و اختیار ات کو سلب کرنا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سامنے آنے والے مسائل پریشان کن ہیں۔اس صورت میں اہل فکر غور بھی کررہے ہیں اور اپنی ناراضگی کو مختلف انداز سے پیش کر نے کی جرات بھی کرتے نظر آرہے ہیں۔حالات کے پس منظر میں ہندوستان کی اس قدیم تہذیب و تمدن ،جس کے احیا کی کوششیں ہو رہی ہیں،کو سمجھنا ہر شہری کے لیے لازم ہوجاتا ہے۔

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور اس کی تہذیب بھی قدیم ترین ہے۔ہندوستانی تہذیب جس پر اسلام سے قبل ہندوؤں کا غلبہ رہا ہے اس کو سمجھنے کے لئے یوں تو بے شمار کتابیں موجود ہیں۔لیکن فی الوقت " البیرونی کا ہندوستان"نامی کتاب کافی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔یہ کتاب قیام الدین احمد نے مرتب کی ہے اور اس کا اردو ترجمہ عبدالحئی نے کیا ہے۔ کتاب کی اشاعت نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا نے کی ہے۔اصل کتاب کا نام'کتاب فی تحقیق ما للہند من مقالہ مقبولہ و مردود'ہے لیکن یہ'کتاب الہند'کے نام سے مشہور ہے۔مصنف کا نام ابوریحان ابن احمد المعروف بہ البیرونی ہے۔لازم ہے کہ اس کا مطالعہ کیا جائے۔ ہندوؤں اور ہندوستانی تہذیب و تمدن کو سمجھا جائے،اور متذکرہ تہذیب سے منسلک مسائیل کا جائزہ بھی لیا جائے ۔ تاکہ ان کے حل کی بھی اسی انداز سے سعی و جہد کی جائے۔ اس کے نتیجہ میں امن و امان قائم ہو تو اہل ملک مسائل سے نجات پائیں۔

آج ہندومعاشرہ میں مختلف طبقات پائے جاتے ہیں لیکن یہ طبقات قدیم ایرانیوں میں بھی پائے جاتے تھے۔ایران کے قدیم بادشاہوں(خسرواں)کی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی واضح ہو تا ہے کہ انہوں نے بھی طبقاتی نظام قائم کیا تھا۔اور اس سلسلے میں ایسے مضبوط انتظامات کئے تھے جو نہ کسی فرد کی خصوصی کارگزاری کے صلے میں ٹوٹ سکتے تھے اور نہ رشورت سے۔یہاں تک کہ جب اردشیرابن بابک نے سلطنت فارس کو دوبارہ قائم کیا تو ان طبقات کو بھی از سر نو بحال کیا۔یہ طبقات اس طرح تھے: i)پہلا طبقہ رئیسوں اور شاہی خاندان پر مشتمل تھا۔ii)دوسرا طبقہ عابدوں، آگ کے خادموں اور وکلا کا تھا۔iii)تیسرا، نجومیوں اور عاملوں کا ،اورiv)چوتھے طبقے میں کسان اور دوسرے اہل حرفہ تھے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان میں آریہ بھی ایران ہی سے آئے تھے جو بعد میں 'ہندو'کہلائے یا اس نام سے مشہور ہوگئے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندو اپنے طبقوں اور ذاتوں کو 'ورن'یا رنگ کہتے ہیں اور نسب کی حیثیت ذات یا پیدائش ہے۔یہاں انہوں نے جوطبقاتی نظام قائم کیا اس میں بھی چار طبقات تھے۔i)سب سے اونچی ذات برہمن،جن کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ برہما کے سر سے پیدا ہوئے ۔ برہما سے مراد وہ قوت ہے جسے وہ فطرت کہتے ہیں۔سر،چونکہ حیوانی جسم کا سب سے بلند حصہ ہے لہذا برہمن اس نوع کا جوہر ہیں۔اسی لیے ہندو اُن کو افضل ترین انسان سمجھتے ہیں۔ii)ان کے بعد کشتری(چھتری یا کھتری)طبقہ ہے۔عقیدہ کی روشنی میں ان کی پیدائش برہما کے کندھوں اور ہاتھوں سے ہوئی ہے۔اور ان کا مرتبہ برہمنوں کے مرتبے سے بہت کم نہیں ہے۔iii)اُن کے نیچے ویش ہیں جو برہما کی ران سے پیدا ہوئے ۔اور آخریiv)شودر ہیں جو برہما کے پیروں سے پیدا ہوئے ۔یہی وہ چاروں طبقات ہیں جو ہندو تہذیب و تمدن میں آج بھی رائج ہیں۔
اس کے برعکس اسلام کی آمد نے ہندوؤں کے عقائد، تہذیب و تمدن اور فکرو نظریہ کو متاثر کیا ہے۔ نتیجہ میں ملک کی بڑی تعدادنے ورن وستھا یا ذات پات کے نظام کے خلاف آواز بلند کی۔

ہندو تہذیب یا مذہب جس کے قیام و استحکام اورنظریہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے نظام کے لئے سعی و جہد کرنے والے افرادیا گروہ،جسے عرف عام میں آر ایس ایس کے نام سے جانا جاتا ہے،کے عزائم کو سمجھنا ہوگا۔جس کے نتیجہ میں وہ روز بہ روز طے شدہ نظریہ کے قیام میں قدم بہ قدم آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔چونکہ یہاں تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے اور نہ ہی اخبارات کی تحریراس بات کا مواقع فراہم کرتی ہے۔لہذا فی الوقت ہم اُس ترانہ کے کلمات آپ کو سنانا چاہتے ہیں جو آر ایس ایس سے وابستہ افراد ،پوری سمجھ بوجھ کے ساتھ،نہ صرف زبان سے ادا کرتے ہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کے مظاہر سامنے آتے ہیں۔وہ الفاظ اس طرح ہیں:اِس عظیم زمین اور وطن کو ہم ہمیشہ سجدہ کرتے رہیں گے جس نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح پیار و محبت دیا ہے۔ اس ہندو زمین پر ہم نے بڑے لطف کے ساتھ پرورش پائی ہے،بڑے ہوئے ہیں،یہ عظیم و مقدس زمین ہے۔ اس زمین کی حفاظت کے لئے ہم اپنے جسم وجان کی قربانی دیتے ہوئے ، اس زمین کو بار بار سجدہ کرتے رہیں گے ۔اے سرو قادر خدا، یہ ہندو قوم جزو کے طور پر تیرے سامنے سجدہ ریز ہے۔آپ ہی کے کام کے لئے ہم پابند عہد ہوئے ہیں۔ ہمیں اس کام کو مکمل کرنے کی صلاحیت عطا فرما۔ ہمیں ایسی غیبی طاقت عطا فرما کہ جس سے پورے عالم میں ہمیں کوئی شکست نہ دے پائے اور ایسی نرمی عطا فرما کہ جس کے نتیجہ میں پوری دنیا انکساری کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائے۔ یہ راستہ کانٹوں بھرا ہے، اس بات سے ہم باخوبی واقف ہیں، اس کے باوجود اس کام کو ہم نے خود قبول کیا ہے۔ اِس فہم کے ساتھ ہمیں کانٹوں پر چلتے ہوئے راستہ طے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ساتھ ہی ایسا روحانی سکون عطافرما اور ایسی عظیم خوشحالی د ے جس کے ذریعہ سب پر سبقت لے جانے کی آگ ہمارے سینوں میں روشن ہو جائے، شدید ترین آگ، یک رنگی، بامقصد، مخلصانہ احساس کے ساتھ ،ہمارے ضمیر کو گرم رکھنے والی آگ، ہمارے اندر پیوست ہو جائے۔ حد درجہ احساس و اخلاص کے ساتھ یہ آگ ہمارے ضمیر کو روشن رکھے۔ اپنے فضل و کرم سے ہمیں مکمل فتح عطا فرما، منظم صلاحیتیں عطا فرما، ہمارے مذہب کا تحفظ کر ، ساتھ ہی اس قوم کو حتمی شان پر لے جانے میں ، ہماری مدد فرما۔ (بھارت ماتا کی جے)۔

یہ اُس دعا کا ترجمہ ہے جو راشٹریہ سیوم سنگھ کی فکر،نظریہ اور عقیدہ کو واضح کرتی ہے۔ساتھ ہی یہ وہ بنیادی دعا ہے جس کے ذریعہ سنگھ کے کارکنان فکری غذا حاصل کرتے ہیں ۔نیز یہ دعا انہیں مقصد و نصب العین سے وابستہ رکھتی ہے۔وہیں لڑکیوں و عورتوں کی شاخا ، راشٹریہ سیویکا سمیتی اوربیرون ملک میں لگنے والی ہندو آر ایس ایس کی دعا مختلف ہے۔سنگھ کی شاخا یا دیگر پروگراموں میں اس دعا کو پڑھنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کے پرچم کے سامنے سلامی بھی دی جاتی ہے ۔

آپ جانتے ہیں کہ ملک میں ہندو نظام یا ورن وستھا کے قیام کی بہت ہی منظم کوششیں سنہ 1925سے جار ی ہیں۔نظریہ کے حامیوں نے نہ صرف بے شمار قربانیاں دی ہیں بلکہ اپنے قول و عمل سے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ مقصد و نصب العین کے لیے ہمہ تن مصروف ہیں۔ان حالات میں ا گرچہ ملک میں ہندوؤں کا ایک ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو ورن وستھاکے قیام میں حائل ہے،اس کے باوجود وہ غیر منظم و سنجیدہ نہیں ہیں۔ٹھیک اُسی طرح جبکہ مسلمانوں پر مظالم توڑے جاتے ہیں اور وہ مسائل سے دوچار ہوتے ہیں،تو چند دنوں کے لیے زبانی جمع خرچ کرتے نظر آجاتے ہیں۔پس چند دن بھی نہیں گزرتے کہ ایک بارپھر خواب غفلت میں کھو جاتے ہیں۔ حالانکہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو نہ صرف قول و عمل میں تضاد سے پاک ہوں بلکہ جن کے حوصلے بلند اور نگاہ بصیرت بھی رکھتے ہوں۔ان حالات میں ورن وستھا کے قیام سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو چاہیے کہ منظم منصوبہ بندی اور فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یکسوئی سے مسائل کا سامنا کریں۔ لیکن اس بات کا لازماً خیال رکھا جائے کہ امن و امان کی فضا مکدر نہ ہو ساتھ ہی آئین کے طے شدہ دائرہ میں سرگرمیاں انجام دی جائیں!