باعث شرم رویہ

  • اتوار 08 / نومبر / 2015
  • 4409

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوق بناکر اسے کائنات کی ہر شے سے برتر بنایا ہے۔اس اعلیٰ مقام کے باعث اس کی فطرت میں خود نمائی کا پہلو از خود پیدا ہوگیا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی حصہ کیوں نہ ہو ،جہاں کہیں بھی انسانی زندگی کا وجود ہو گاخود نمائی کا عنصراس کا لازمی جزو ہوگا۔ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں جسے وہ اپنی قابلیت گردانتا ہے کی بدولت کوئی نہ کوئی ایسا کام ضرور انجام دیتا ہے جو اس کے عزت و وقار کی وجہ بنتا ہے اور اس کی پزیرائی سے وہ خوشی اور مسرت محسوس کرنے لگتا ہے ۔

اللہ کا فرمان ہے کہ ہم نے تمہیں گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ یہ تمہاری پہچان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مختلف گروہوں اور قبلیوں میں رہ کر اپنی پہچان بنانے کیلئے مختلف کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں جو ان کی معاشی آسودگی کے علاوہ ان کی شہرت کا بھی باعث ہوتے ہیں ۔ ہر ذی روح کو اپنی شناخت معاشرے میں کروانے کی خواہش ہے کہ لوگ اسے اعلیٰ مرتبہ و مقام دیں اور اس کی تکریم کریں ۔انسانی فطرت میں دیگر چیزوں کی طرح خود نمائی ایک اہم عنصر بن چکا ہے ۔ فنون لطیفہ سے وابستگی بھی بنیادی طور خود نمائی یا کسی اچھی شناخت کی خواہش کی تکمیل ہے ۔ تاکہ لوگ اس کی ذات سے متعلق محفلوں اور مجلسوں میں اس کے کارناموں کی بات کریں ، اس کی ذات پر گفتگو کی جائے اور اس کے متعلق اچھی رائے قائم کی جائے ۔

شہرت کے متمنی افراد میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کارنامے عوام کیلئے فلاح و بہبود کا باعث ہوتے ہیں ، بعض کی وجہ سے لوگوں کو تفریح ملتی ہے اور ان کی کارکردگی افراد کی راحت کا سبب بنتی ہے ۔ بعض کے افکار کی بدولت معاشرہ اپنی راہیں متعین کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؔ کی شاعری سے آج بھی لوگ استفادہ کرتے ہیں اور دنیا میں اپنے مقام کو پہچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اقبال کی شاعری نے اسلا م کی تعلیمات کو لوگوں پر آشکار کیا ہے ۔ شاہ لطیف ، سچل سرمست ، بابا بھلے شاہ و دیگر کا کلام صوفیانہ ہے جس سے روحانی آسودگی میسر آتی ہے ۔ اس کے برعکس مرزا غالب و دیگر شعراء کرام کی شاعری سے انسانی جذبات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ یہ لوگ اپنے دور کے اعلیٰ پائے لوگوں میں شمار تو ہوتے ہی ہیں لیکن ان کی عزت آ ج بھی ایک معتبر شخصیت کی طرح کی جاتی ہے اور ان کا کام آج بھی پہلے کی طرح سراہا جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح ، خان لیاقت علی خان ، مولانا محمد علی جوہر ، سرسید احمد خان سے لیکر ذولفقار علی ، بھٹواورپھر ان کی صاحبزادی بینظر بھٹو تک سب سیاست دان عوامی امنگوں پر پوار اترنے کے باعث ملکی سطح علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ۔ فنون لطیفہ میں کردار نگاری ان دنوں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ کردار نگاری کے باعث بے شمار لوگ عوام میں نہ صرف مقبول ہیں بلکہ زیر بحث بھی رہتے ہیں ۔ لوگ ان اداکاروں سے والہانہ محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ کردار نگار ایک طرف معاشی طور پر بہت آسودہ ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی سب سے اہم خواہش شہرت کی صورت میں پوری ہوتی ہے۔ جوں جوں یہ لوگ شہرت کی بلندیوں پر جاتے ہیں ویسے ہی یہ لوگ عوام کی میراث بھی بن جاتے ہیں۔ یعنی جو لوگ انہیں پسند کرتے ہیں گویا وہ ان کی نجی زندگی بھی عمل دخل کا اختیار پالیتے ہیں ۔ اب وہ اپنے محبوب کی ہرہر سرگرمی پر نظر رکھتے ہیں ، اس کی پسند و ناپسند کا انہیں بخوبی علم ہوتا ہے۔ وہ کیا کرتے ہیں ، کہاں جاتے ہیں ، کس سے ملتے ہیں اور کس سے کیا تعلق رکھتے ہیں، سب پر ا ن کی گہری نظر ہوتی ہے ۔

موجودہ دور میں سیاستدان بھی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے کئی طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں اور مختلف انداز سے خود کو عوام کے قریب لانے کیلئے ذرائع ابلاغ کو خاص طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوجائیں ۔ فی زمانہ ہمارے ملک میں مسلم لیگ ن ، پی پی پی ودیگر جماعتوں کے بعد ایک اور سیاسی جماعت عوامی مقبولیت حاصل کرچکی ہے جس کانام تحریک انصاف ہے۔ اس کے روح رواں معروف سابق کرکٹر عمران خان ہیں جن کی وجہ شہرت عالمی کپ جیتے کے بعد بہت بڑھ گئی تھی ۔ اس کے بل بوتے پر انہوں نے کینسر ہسپتال بنایا اور اب سیاست کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔ وہ2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے ہیں۔ ان کی جماعت ملک میں تیسری بڑی جماعت بن کرابھری ہے اور کے پی کے میں حکومت چلارہی ہے ۔ عمران خان کرکٹ میں جس قدر مقبول تھے اس سے کئی گنا اب وہ سیاست میں عوامی پزیرائی حاصل کرچکے ہیں ۔ 2014 ء میں چار ماہ سے زائد کا اسلام آباد کا دھرنا ان کی مقبولیت کا باعث بنا ہے جس میں وہ عوام سے زیادہ قریب ہوگئے تھے ۔ وہ لوگوں کے اور لوگ ان کے اتنے قریب ہوگئے تھے۔ عمران خان نے انہیں اپنا خاندان گرداننا شروع کردیا تھا ۔ وہ اپنی نجی زندگی کے کئی معاملات اور واقعات بتادیتے،یہاں تک کہ انہوں نے دھرنے میں اپنی شادی کا اعلان بھی کردیا تھا۔ یہ اعلان کسی اچھنبے سے کم نہ تھا۔ کئی دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں ۔بے شمار حسیناؤں نے رشتے بھیجنے شروع کردئے ۔ کئی کے سوئے ہوئے ارمان جاگ گئے تھے ۔ لیکن انہوں شادی کہیں اور کی ۔

بہت سوں کے دلوں کو توڑنے والے عمران خان پھر بھی مقبولیت کی بلندی پر تھے۔ ان کی شادی عوام کے لئے خوش کن تھی ۔ عمران خان کی سیاسی اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے ان کی شادی بھی ایک خانگی معاملہ نہیں رہا تھا بلکہ وہ عوامی اشو بن چکا تھا۔ اب ان کی ریحام سے علیحدگی بھی ان کا نجی معاملہ نہیں رہا ہے ۔ ملک کاہر فرد اس بارے میں گفتگو کررہا ہے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں اس سے متعلق کئی سوالات ہیں ۔ انہوں نے اپنی جانب سے عوامی حلقوں میں اس معاملہ پر بحث کرنے سے منع کیا ہے ۔ وہ اس بارے میں سوالات سے ڈرتے ہیں ۔ عمران سخت لہجے میں کہتے ہیں کہ ان کی بیوی ریحام کے بارے کوئی سوال نہ کیا جائے ۔ ان کا اپنے تئیں یہ خیال ہے کہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے جسے ان کی ذات تک محدود رکھا جائے۔ ذاتی نوعیت کے سوال پوچھنے کو وہ ثقافت کے منافی قرار دیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بات درست ہو لیکن وہ بھول رہے ہیں ، انہوں نے عوام کو اپنا خاندان قراردے رکھا ہے۔ اب بتا ئیے کیا کوئی اپنے خاندان والوں سے کوئی بات چھپاسکتا ہے ۔وہ شاید جانتے نہیں کہ اب وہ ایک کرکٹر نہیں رہے بلکہ وہ ایک سیاست دان ہیں جو عوام میراث بن چکے ہیں ۔ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ایک سیاست دن بن کر سیاست کریں نا کہ آمر بن جائیں ۔ ان کی آمرانہ پالیسیوں کی بدولت نہ صرف ان سے کئی مخلص ساتھی بچھڑ چکے ہیں بلکہ پارٹی کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔

عمران خان نے جو رویہ سوال پوچھنے پر ایک صحافی کے ساتھ روا کر رکھا ہے وہ درست نہیں ۔ دھرنے سے قبل ، دھرنے کے دوران اور بعد میں بھی کئی صحافیوں سے ان کے تعلقات ناخوشگوار تھے۔ اب ریحام سے طلاق کے بعد جس طرح انہوں نے صحافی کو ڈانٹا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے ایک سلجھے ہوئے سیاستدان کو زیب نہیں دیتا ۔ شرمناک کالفظ استعمال کرنے پر وہ عدالت عظمیٰ کے سامنے شرمسار ہوچکے ہیں۔ اب انہیں ازخود شرم آجانی چاہئے کہ وہ کرکٹ کے میدان میں کسی کھلاڑی کو بے نقط نہیں
سنارہے بلکہ ملک کے سب سے زیادہ معتبر اور باشعور طبقے کا سامنا کررہے ہیں۔ صحافی وہی بات کررہا ہے جس کا تقاضہ عوام کررہے ہیں۔ انہی عوام کو عمران خان اپنا خاندان گردانتے ہیں۔