مہاجرین کا بے قابو جن اور یورپ کا امتحان
- اتوار 08 / نومبر / 2015
- 4342
شام سے شروع ہونے والی لڑائی کہاں تک جا پہنچے گی اس کا کسی کو اندازہ نہ تھا ۔ ابتداء میں یہ محض شام کا ایک اندرونی مسئلہ تھی جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس خانہ جنگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ دنیا میں آخری جنگ کی باتیں ہونے لگیں۔
معاملہ شاید اس حد تک نہ بگڑتا لیکن بیرونی ممالک کی مداخلت اور اپنے اپنے حمایت یافتہ گروہ کو شام کا حکمران بنانے کی آرزو نے شام کا ستیا ناس کر دیا ۔ شامی لوگ بے گھر ہو کر در بدر کی ٹھوکرے کھانے لگے ۔ سب سے پہلے اقوام متحدہ کے قانون کے تحت شامی مہاجرین کو شام کے آس پاس کے ممالک میں عارضی کیمپوں میں رکھا گیا۔ لیکن پھر شام کی لڑائی میں اسلامی انتہاپسندوں کی پیش قدمی اور ترکی میں کردوں کے خلاف فوجی کاروائی سے شام کے اندر کی صورت حال اس تیزی سے بگڑی ۔ اس طرح شامی مہاجرین کا نہ رکنے والا سیلاب امڈ کر سمندروں اور خشکی کے راستے سے اپنی اپنی جان بچانے اور بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کی طرف بہہ نکلا۔ پھر کسی کے قابو میں کچھ نہ رہا ۔ یورپ کی حکومتوں کی تمام تر کوشش کے باوجود انسانی مہاجرین کا بد ترین المیہ رونما ہو کر رہا جس نے یورپ کی بڑی بڑی طاقتوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ۔ سب حکومتیں مل کر بھی شامی، افریقی اور افغانی مہاجرین کو یورپ میں داخلے سے نہ روک سکیں اور ابھی تک جنگ کی بدلتی صورت حال کے ساتھ ساتھ شامی لوگوں کا ملک چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے ترجمان نے میڈیا سے باتیں کرتے ہو ئے یہ انکشاف کیا ہے کہ ماہ اکتوبر میں مہاجرین کی آمد کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے ۔ صرف ماہ اکتوبر میں یورپ میں آنے والوں کی تعداد2014 میں کل آنے والے مہاجرین کے برابر ہ ہو چکی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق ان مہاجرین میں سے دو لاکھ دس ہزار سے زائد مہاجرین یونان میں داخل ہوئے ہیں ۔جب کہ رواں برس اب تک یورپ میں داخل ہونے والوں کی تعداد سات لاکھ چوالیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے یکم جنوری تا اکتوبر تک کے مختلف اعدادو شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اس عرصہ کے دوران اب تک 3440افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایلان کردی نامی شامی بچے کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ایسے ہی واقعات میں مزید77 بچے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو ئے ہیں۔
اس وقت یورپ کی سیاست کا محور صرف اور صرف مہاجرین کا مسئلہ ہے ۔ نہ صرف حکومتوں کے مابین بلکہ عام گھروں دفاتر اور دیگر مقامات پر مہاجرین ہی کا مسئلہ زیر بحث ہو رہا ہے۔ شام کے اندر سے حکومت اور اپوزیشن کی آپس کی لڑائی اب نہ صرف دو بڑی طاقتوں کی ضد اور آنا کا مسئلہ بن رہی ہے بلکہ اس کے اثرات یورپ سے نکل کر ایشیا تک پہنچنے شروع ہو گئے ہیں ۔ اس کا اندازہ حال ہی میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان نے یورپین یونین کے ساتھ تارکین وطن کی واپسی کے معاہدے کو معطل کر دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ یورپین ممالک نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ سال80000 پاکستانیوں پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔ اور انہیں واپس پاکستان بھجوا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدہ کے مطابق ان لوگوں کو پاکستان واپس بھجوانے سے قبل ان پر الزامات کی تصدیق ضروری تھی ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی وزیر داخلہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دوسروں کو انسانی حقوق کا لیکچر دینے والے پہلے خود بھی انسانی حقوق کا احترام کریں۔ مہاجرین کی شکل میں بوتل سے نکلنے والاجن کیسے بوتل میں بند ہو گا۔ اس وقت سب کے سامنے یہی ایک بڑا مسئلہ ہے مگر جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اس وقت یورپ میں مہاجرین کی سب سے بڑی امید اور حامی ہیں۔ ابتداء ہی سے ان کا کردار غیر معمولی حد تک فعال رہا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینوں کی امداد میں وہ اس حد تک آگے چلی گئی ہیں کہ خود ان کے اپنے ملک میں اس کے خلاف رد عمل شروع ہو چکا ہے۔ پناہ گزینوں کے کیمپوں پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں اور بعض شہروں میں ان مہاجرین کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دوسری طرف ان کی اتحادی جماعت بھی ایک حد سے آگے جا کر ساتھ سے انکاری ہو گئی ہے۔ جرمنی میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق میر کل کی اتحادی جماعت سی ایس یو اور صوبہ باویریا کے وزیراعلیٰ بورسٹ ذے ہوفر نے مہاجرین کے مسئلہ پر وفاقی حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے یقیناًمیر کل کے مسائل میں اضافہ ہو گا ۔
سی ایس یو یعنی کرسچن سوشل یونین اس صوبہ کی حکمران جماعت ہے جس کی سرحدیں آسٹریا سے ملتی ہیں جہاں سے مہاجرین جرمنی میں داخل ہوتے ہیں۔ پھر وفاقی محکمہ انہیں دوسرے صوبوں کو بھجواتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود جرمنی کی بہادر اور انسان دوست انگیلا مرکیل بہت حوصلے سے اندرون و بیرون جرمنی ان بے گھر مہاجرین کی آباد کاری کے لئے سر گرم ہیں ۔ یورپ اور خاص کر جرمنی میں مہاجرین کی صورت حال اس حد تک نازک ہو چکی ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل نے ایک حالیہ تقریر میں ڈبلن قوانین میں ترمیم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کے موجودہ بحران سے نپٹنے کے لئے موجودہ ڈبلن قوانین ناکافی ہیں۔ ان میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ موجودہ قواعد کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ یاد رہے ڈبلن قوانین سے مراد ایسے قوانین ہیں جن کے تحت تارکین وطن کو یورپ میں پناہ دی جاتی ہے۔
مہاجرین سے متعلق اس وقت یورپین ممالک کو جن جن مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ لیکن اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور وہ شام میں جاری جنگ کو روکنا ہے۔ تاہم یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ
اس جنگ کو کیسے روکا جائے۔ جنگ کے خاتمے سے ہی مہاجرین کے سیلاب کے آگے بند باندھا جا سکے گا۔ بصورت پورا شام خالی ہو جائے گا اور ایک ملک کے اندر دوسرے ملک کا بسیرا ہو گاخواہ وہ مہاجرین ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو۔۔۔