جرمنی کی بہادر چانسلر
- سوموار 09 / نومبر / 2015
- 4027
جرمنی اس وقت سیاسی اور معاشی طور پر ایک کڑے امتحان سے دو چار ہے ۔ چانسلر انگیلا میر کل نے مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا اس کے ردعمل کا اب ان کو سامنا بھی ہے۔ 2013 کے جنرل الیکش میں کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی تھی اور کسی بھی مخلوط حکومت کے لئے وسیع پیمانے پر غیر ملکیوں کو ملک کے اندر بلا لینا کوئی آسان کام نہیں ہوسکتا۔
لیکن اس جرمن خاتون چانسلر نے اس موقع پر بھی غیر معمولی سیاسی بہادری اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وقت ان کو اپنے ملک کے اندر عوام اور اپنے سیاسی اتحادیوں کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ دوسری طرف یورپ کی دیگر حکومتوں کی طرف سے بھی مہاجرین کی آباد کاری پر عدم تعاون کیا جا رہا ہے ۔ ان تمام تر مسائل کے باوجود ابھی تک خاتون چانسلر کے عزائم میں کوئی لغزش دکھائی نہیں دیتی۔ وہ ان بے گھر مہاجرین کی آباد کاری میں مکمل پرعزم ہیں۔
اگر جرمنی کی اندرونی صورت حال پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت عوام کی طرف سے مہاجرین کی حمایت اور مخالفت دونوں کے لئے مظاہرے کئے گئے ہیں۔ احتجاج اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ میں ذاتی طور جن جرمن شہریوں سے اس موضوع پر بات کی ہے، انہوں نے مہاجرین کی حمایت کی ہے۔ خاص طور سے نوجوان لڑکے لڑکیاں مہاجرین کی امداد میں پیش پیش ہیں۔ فرینکفرٹ ریلوے اسٹیشن پر 2 ماہ سے جاری امدادی کیمپ میں رضاکارانہ کام کرنے والوں کی آمد اور عام لوگوں کی طرف سے امدادی سامان کی ترسیل سے یہ واضع ہو رہا ہے کہ جرمن لوگوں کی اکثریت مہاجرین کے ساتھ ہے اور وہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنی چانسلر کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے ابھی تک جرمن چانسلر کو بھر پور طریقے سے اپنے فیصلے پر قائم رکھا ہؤا ہے۔
دسمبر تک جرمنی میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد ایک ملین ہو جائے گی۔ اس بارے میں کئی ماہ قبل ہی برلن کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا جا چکا تھا۔ مہاجرین کی آمد کی مخالفت کرنے والوں میں نیو نازی گروپ پیش پیش ہیں۔ جرمنی کی نیوز ایجنسیوں اور اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سال رواں کی تیسری سہہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران مہاجرین کے کیمپوں پر حملوں کی تعداد میں دو گنا ہو گئی ہے۔ جولائی سے قبل ان حملوں کی تعداد136تھی جو ستمبر تک بڑھ کر274 ہو چکی ہے۔ ان حملوں میں دھماکہ خیز مواد پھینکنا، رہائش گاہوں پر آتش زنی، انفرادی حملے وغیرہ شامل ہیں۔ یہ امر قال ذکر ہے کہ مہاجرین کے خلاف ان مظاہروں میں نازی گروپ زیادہ ملوث ہیں اور ان کی تعداد میں بھی آضافہ ہو رہا ہے۔ ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق دوسری سہہ ماہی میں880 نئے نازیوں نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ جبکہ تیسری سہہ ماہی میں ان کی تعداد بڑھ کر5500 سے زائد ہو چکی ہے۔ اب اس تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
دی لنکے سے تعلق رکھنے والے برلن میں وفاقی پارلیمان کی رکن اولا ژیلپکے نے ایک جرمن اخبار کے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ دائیں بازو کے نیو نازی انتہا پسندوں نے مہاجرین کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو سب سے بڑے موضوع کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس مہم کے ذریعے اپنے ہم خیالوں کی تعداد میں آضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ بائیں بازو کی اس رکن پارلیمان نے یہ بھی کہا کہ ان نیو نازیوں کی تشدد آمیز سرگرمیاں تشویشناک ہیں۔ جرمنی کی موجودہ صورت حال کا یہ ایک رخ ہے۔ تاہم اگر غیرجانبدارانہ دیکھا جائے تو جرمن چانسلر کو خاموش اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ یہی ان کی طاقت بھی ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ مہاجرین کی آمد کے دنوں میں لوگوں کی طرف سے چانسلر کو بھرپور خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ خوش آمدید کہنے والوں میں بچے ، بوڑھے عورتیں اور نوجوان سبھی شامل ہوتے ہیں۔ سترہ اکتوبر کو برلن میں ان مہاجرین کے حق میں ایک بھرپور مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے موم بتیاں ، لائٹرز اور ٹارچز جلا کر مہاجرین کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس مظاہرہ میں آٹھ ہزار سے زائد جرمن اور دیگر اقوام کے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اور اپنی خاتون چانسلر کی حمایت کی تھی۔ اسی طرز کا کا ایک مظاہرہ جرمن کے شہر کولون میں بھی کیا جا چکا ہے۔ ان مظاہروں میں جرمنی میں آنے والے اجنبیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو مسترد کیا گیا ہے۔ جرمنی کی سیاست اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ جرمنی کے مہاجرین کے بارے میں قوانین میں بھی ترامیم ہو رہی ہیں۔ آنے والا وقت جرمنی کی سیاسی اور مہاجرین کے بارے میں پالیسی سے پورے یورپ پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ تاہم اس کا فیصلہ بھی آنے والا وقت ہی کرے گا کہ کیا غلط تھا اور کیا درست۔۔۔