بہارالیکشن ۔۔۔ دعوے، خواہشات ونتائج

  • سوموار 09 / نومبر / 2015
  • 5070

9؍ستمبر2015 کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بہار میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کا اعلان کیا ہی تھا کہ ملک و بیرون ملک رہنے والے شہریوں کی نظریں بہار پر مرکوز ہو گئیں۔پانچ مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کی تاریخیں 28, 16 12 اکتوبر اور یکم و 5 نومبر قرر ہوئیں۔ سب سے پہلے آرجے ڈی اور جے ڈی یو نے ، جو مہاگٹھ بندھن کے بڑے چہرے تھے، پانچ مرحلوں میں الیکشن پر نکتہ چینی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں جاتے ہوئے ووٹر فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کریں گے ۔ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں نے اس معاملہ پر نے خاموشی اختیار کی تھی ۔

تاہم انتخابی مہم کا آغاز پر جوش اور بلند حوصلوں کے ساتھ ہوا۔ بی جے پی اور اس کی معاون آرایس ایس نے بھی بھر پور انتخابی مہم چلائی۔ دھواں دھار مقرر بلائے گئے اور ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 51ریلیوں میں شرکت کا وعدہ کیا۔ انہوں نے صرف چھ دنوں میں ریلیوں سے خطاب کیا۔بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بہار کو ہی اپنا گھر بنا لیا اور دوران مہم وہ پوری طرح بہار الیکشن پر توجہ دیتے رہے۔ بی جے پی یا ان کے ہمدردوں نے بے شمار دولت صرف کی۔ ریاست کے تمام اخبارات میں پہلے صفحہ پر اشتہارات دیئے گئے ۔ خصوصاً اردو کے اخبارات بی جے پی کے اشتہاروں سے بھرے رہے۔

پانچ نومبر کو آخری مرحلے کا الیکشن مکمل ہوتے ہی ایگزٹ پول کا مرحلہ شروع ہو گیا۔زیادہ تر پول کمپنیوں نے مہاگٹھ بندھن کو نتائج کے اعتبار سے آگے دکھایا ۔دوسری جانب چانکیہ ایگزٹ پول نے بی جے پی اور ان کے حلیفوں کے حوصلہ بلند کئے۔ اور155سیٹوں پر بی جے پی اور ان کے ساتھیوں کو آگے دکھا کر سیکولر پارٹیوں کے جوش کو کچھ کم کر دیا۔ 8نومبر کی صبح ہوئی تو الیکٹرانک میڈیا نے رجحانات بتانا شروع کئے ۔ پہلے ہی مرحلے میں یوں لگتا تھا کہ مہاگٹھ بندھن کی امیدوں پر پانی پھرگیا ہے۔صبح گیارہ بجے تک 108سیٹوں میں سے 71پر بی جے پی اور ان کی حلیف آگے تھیں۔ اور صرف 35سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن کی کامیابی کی پیشین گوئی کی جا رہی تھی۔نتیجہ میں بی جے پی کے آفس کے باہر شنکھ کی آوازیں آنے لگیں،پٹاخے پھوڑے جانے لگے،لوگ جشن کے موڈ میں آگئے۔ٹی وی اینکرز اور عوام نے بتانا شروع کیا کہ بی جے پی اور مہا گٹھ بندھن کے درمیان اتنا واضح فرق سامنے آگیا ہے کہ اس کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔

تاہم دن چڑھا اور10:30بجے تک یہ صورتحال تبدیل ہوتی نظر آئی۔236سیٹوں کے رجحانات میں مہاگٹھ بندھن 124 سیٹوں پر آگے تھا اور بی جے پی اور ان کے حلیف103پر جیت رہے تھے۔ تاہم جب حتمی نتیجے سامنے آئے تو مہاگٹھ بندھن178، بی جے پی58اور دیگرنے 7 نشستیں حاصل کیں ۔ اس طرح سب اندازے اور دعوے غلط ثابت ہوئے۔ بہار میں الیکشن کے دوران ملک میں بدامنی کی فضا عام رہی۔دادری کے اخلاق احمد کو صرف افواہ کی بنیاد پر پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔چند دن ہی گزرے تھے کہ دلتوں کو زندہ جلایا گیا۔چھوٹے موٹے ایسے واقعات جنہیں میڈیا میں زیادہ جگہ نہیں ملی ، ان کی وجہ سے بھی امن و امان کی صورت حال خراب ہوئی۔ نتیجہ میں اہل ملک نہایت رنج و افسوس میں مبتلا ہو گئے,پریشان ہوئے اور ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ناراضگی کے اظہار کا ایک ذریعہ ایوارڈ کی واپسی تھا۔ ادب و لٹریچر کے معروف ترین حضرات کے علاوہ ملک کے سائنسدانوں ،فلم انڈسٹری کے فنکاروں ،سماجی کارکنوں اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ دوسری جانب بی جے پی اور ان کے حلیف نہ صرف خاموشی اختیار کیے رہے بلکہ بہار الیکشن میں مزید اشتعال انگیزی اختیار کی۔ بی جے پی نے پاکستان دشمن نعرے بلند کئے اور گائے کو سیاسی نعرہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ الیکشن مہم میں 'مقدس گائے'کواشتہارات میں جگہ دی جانے لگی۔نتیجہ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانہ پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے اشتہارات پر پابندی لگائی۔

اس پورے پس منظر میں چند باتیں قابل توجہ ہیں۔1: کیا ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت بہار کے نتائج سے کم ہو سکے گی۔2 :مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے مسائل اور ان کے حل میں بہار کے نتائج مثبت ثابت ہوں گے یا نہیں ۔ 3 :دہلی کے بعد بہار میں بی جے پی کی بڑی شکست کیا آئندہ ہونے والے اترپردیش اسمبلی الیکشن پر اثر انداز ہوگی۔ اور کیا یہ سیاسی صورت حال سماجی یا بہوجن سماجی افراد وگروہوں کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے میں معاون ہوگی۔ 4 : بہار الیکشن میں ترقی و خوشحالی کا تذکرہ سننے کو ملتا رہا ہے۔ بہار کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیا واقعی ملک ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکے گا۔ 5: آخری بات یہ کہ فرقہ وارانہ فکر کے حاملین کو بہار کے نتائج مزید منظم اور سرگرم ہونے پر مجبور کریں گے یا وہ خاموشی کو ہی غنیمت جانیں گے۔ ان تمام صورتوں میں بحیثیت مسلمان ہماری ذاتی،خاندانی،معاشرتی ،مذہبی اور ملی و ملکی زندگی پر کیا کچھ اثرات رونما ہوئے اور آئندہ ہونے والے ہیں۔کیا ہم منظم ہو ئے ہیں؟بامقصد زندگی کی جانب پیش قدمی کر رتے نظر آرہے ہیں؟یا م تقسیم در تقسیم ہوتے جا رہے ہیں؟ساتھ ہی کیا ہم اپنی ذمہ دار یوں سے عہدہ برا ہو سکیں گے۔ ان میں برادران وطن تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا فرض بھی شامل ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ مسلمان اقلیت ملک کی تعمیر و ترقی،امن و امان کی بحالی،اور مسائل کے حل میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ کامیابی کے لئے ان سوالوں کا مثبت جواب اہم ہے ورنہ انتخابی نتائیج سے کوئی مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی حیثیت کو پہچانیں،صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ،بامقصد زندگی سے وابستہ ہوں،اور ملک و اہل ملک کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کے حصول کا ذریعہ بنیں۔ممکن ہے بہار الیکشن اور اس کی سیاسی بساط پر کھیلی جانے والی بازی کے درمیان یہ باتیں عجیب محسوس ہوں۔اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ مسلمانوں کو بطور گروہ اپنے رول کا تعن کرکے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ اخلاق احمد کی موت یا ان جیسے دیگر مسائل میں اظہار رنج و غم میں شریک ہوتا ضرور نظر آتا ہے لیکن مسلمانوں کو خود اس صورت حال میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

فرقہ پرست قوتوں کے بری طرح ناکام ہونے پر جشن جائز ہے۔ لیکن تبدیلی کے لئے اس سے آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت نریندر مودی اپنی مقبولیت کھو تے نظر آرہے ہیں ۔ دہلی اور بہار کے الیکشن نے ثابت کردیا ہے کہعوام انہیں مسترد کررہے ہیں۔ تاہم ریاست بہار میں بننے والی نئی حکومت کو دہلی جیسی صورت پیدا نہیں کرنی چاہیے،جہاں مرکز وریاستی حکومت میں رسہ کشی ہو رہی ہے۔ تصادم کی صورت حال میں بہر حال عوام ہی خسارے میں رہتے ہیں۔