لاہور کی کون سنے گا
- منگل 10 / نومبر / 2015
- 7907
میرا دوست اے حمید بہت رومان پسند آدمی تھا۔ نفیس، خوش لباس، خوش اطوار۔ ہمیشہ خواب کی گود میں سر رکھ کر سونے والا۔ درختوں، پھولوں، دیوار پر چڑھی بیلوں کو دیکھ کر رومینٹک ہو جاتا تھا۔ چائے سے عشق تھا۔ دنیا جہاں سے طرح طرح کی چائے لا کر جمع کرتا رہتا تھا۔ جب میں جاتا ان سے ملنے تو کہتے: برما کی چائے پلاتا ہوں یا کہتے سیلون ٹی تمہارے لئے رکھی ہے۔
اے حمید نے لاہور سے عشق کیا۔ امرتسر سے پاکستان کے قیام کے بعد لاہور ریلوے سٹیشن پر لٹے پٹے قافلے کے ساتھ آیا تھا اور پھر سارے لاہور کو پیدل سلام پیش کیا۔ لاہور اسے ایسا پسند آیا کہ ہر گلی کوچے سے لگ کر پہروں گیان میں گم رہا۔ لاہور کے تمام چائے خانوں، کافی ہاﺅسوں اور ریستورانوں کو اس نے شرف بازیابی بخشا۔ اے حمید نے ’لاہور کی یادیں‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ لاہور کے شاعروں، ادیبو ں، موسیقاروں، فنکاروں، صوفیوں ، گلوکاروں اور اہل علم کے شب و روز کو ان چائے خانوں اور دن کے ٹھکانوں میں ایسے دیکھا کہ لاہور ایک سانس لیتا ہؤا، جیتا جاگتا ثقافتی اور علمی مرکز کے طور پر دمکتا ہؤا سامنے آتا تھا۔
پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر کے آنے والے بے آسرا شاعروں، موسیقاروں، فنکاروں اور مصوروں نے لاہور کے کسی نہ کسی محلے، گلی کوچے اور ہندوﺅں کی چھوڑی ہوئی آبادیوں میں پناہ لی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ کبھی ریڈیو پاکستان لاہور میں، تو کبھی پاک ٹی ہاﺅس میں یا کافی ہاﺅس میں اور ذرا بعد میں کسی فلم سٹوڈیو میں مل بیٹھتے اور نئے خوابوں کی فصلیں کاشت کرنے میں مصروف ہو جاتے۔ یہ کون لوگ تھے جو ہجرت کر کے آتے ہی اچھی اچھی شاعری، افسانے، گیت اور دھنیں بنانے میں مصروف ہو گئے۔ ان پراسرار صلاحیتوں کے لوگوں میں میری زندگی کے قیمتی لمحے گزرے ہیں۔
اے حمید نے سب سے محبت کی اور ہمیں محبت کرنا سکھایا۔ یہ کتنے بڑے لوگ تھے جو پاکستان کے لئے ادبی، علمی، ثقافتی اور تہذیبی ورثہ تشکیل دینے میں مصروف تھے۔ منیر نیازی، اشفاق احمد، شاکر علی، انتظار حسین، ناصر کاظمی، خواجہ خورشید انور، سیف الدین سیف، فیض احمد فیض، حسن لطیف، استاد امانت علی خان، استاد سلامت علی خان، ظہیر کاشمیری، محمد صفدر میر اور کس کس کو یاد کریں کہ سب لاہور کے دیوانے، لاہور کی مٹی کو سونا بنانے پر آمادہ تھے۔ اور لاہور کے مال روڈ سے کرشن نگر، چوبرجی، سمن آباد، رنگ محل ، موتی بازار، انار کلی ، بھاٹی ، لوہاری، موچی دروازہ تک یادوں کے دئے اے حمید نے جلا دیئے۔
آج اگر اے حمید زندہ ہوتے تو اپنے اس گمشدہ لاہور کو دیکھتے تو اداسی کی ایک لمبی نیند ہمیشہ کے لئے سو جاتے۔ لاہور جیسے شہر دنیا میں جہاں جہاں پر ہیں وہاں ایسے قوانین حکومتیں بناتی ہیں کہ شہر کی کسی بھی اینٹ کو ہاتھ لگانے سے پہلے سو قسم کے قوانین سے گزرنا ہوتا ہے۔ لیکن کسے معلوم تھا لاہور کو ایسا حاکم ملے گا جو صرف اپنے دماغ سے سوچتا ہے۔ جسے کسی مشورے ، کسی سائنس ، کسی ٹاﺅن پلانر ، کسی کنزرویشن کے قاعدے قانون کی ضرورت نہیں ہو گی۔ لاہور بہت بڑی تاریخ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔ جناب شہباز شریف صاحب، اسے سوچ سمجھ کے ہاتھ لگانا تھا۔ افسوس آپ نے اس کی تاریخ، ثقافتی، مزاج کو نہیں سمجھا۔ آپ جاتی امرا سے تشریف لائے تھے۔ کاروبار کرتے ہوئے۔ کاروبار کامیاب ہو گیا۔ اس پر آپ کو مطمئن ہو جانا چاہیے تھا۔ آپ نے لاہور کو لوہے کے جال میں کیوں جکڑنے کی کوشش کی۔
سر جی لاہور تو دھیمے سُروں کا شہر تھا۔ اسے تو ہوا کے ہلکورے چاہئیں تھے۔ آپ نے اسے آہنی جکڑبندی میں کیوں جکڑ لیا۔ لاہور تو داتا کی نگری ہے جہاں مستانے، دیوانے دھمالیں ڈالتے ہیں۔ یہ تو شاہ حسین کے چراغوں میں جاگتا ہے۔ یہ تو میاں میر کے والہانہ مزاج میں تمام مذاہب کو اپنے دامن میں سکون دیتا ہے۔ یہ تو حضرت شاہ جمال کے ملنگوں کا ڈیرا ہے۔ یہ تو بھگت سنگھ اور حسن ناصر کی شہادت کا گواہ ہے۔ یہ تو نجم حسین سید کے نوحے ’ تخت لہور دے ‘ کا ایک باغی لہجہ ہے۔ اس فقیر شہر کو شہباز شریف صاحب آپ نے کیوں چھیڑ دیا ہے۔ آپ کو کیا چاہیے۔ آ پ کو سگنل فری سڑکیں کیوں چاہئیں۔ یہاں لندن والا ٹریفک تو نہیں ہے۔ پھر آپ نے کیوں لندن شہر سے نہیں سیکھا۔ جہاں شہر کو اپنے تاریخی مزاج کے ساتھ قائم رکھنے کے لئے انڈر گراﺅنڈ بنا دی گئی اور زمین پر خوبصورت سکائی لائن کے ساتھ شہر صدیوں سے مسرت کے جھولے میں انگڑائی لے رہا ہے۔
لاہور کو اول تو میٹرو بس کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ اس کے بننے سے لاہور کے قدیم محلوں کے باسیوں سے ان کی یادوں کا لاہور چھین لیا گیا ہے۔ انہیں اب گھروں میں آکسیجن مشکل سے بس سونگھنے کو ملتی ہے۔ یہ شہر جیسا بھی تھا اپنے اندر دنیا کو جگہ دے سکتا تھا۔ لاہور کی یادوں پر مشتمل سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور لاہور ان کی یادوں میں آج بھی ہنستا بستا ہمارے دھیان میں موجود ہے۔ وزیراعلیٰ صاحب اگر صرف اردو کی کتابوں کا حساب کتاب کریں تو پھر دیکھ لیں کیسے کیسے لکھنے والوں نے لاہور کا قصیدہ پڑھا ہے۔ خوشونت سنگھ، گوپال متل، پران نیول، انتظار حسین، شہرت بخاری، یونس ادیب، اے حمید، حمید اختر، ناصر کاظمی اور اشفاق احمد جنہوں نے ” اچے برج لہور دے “ نام کی ٹی وی سیریز لکھ کر لاہور کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعلیٰ صاحب لاہور کو محسوس کرنا سیکھتے۔ اسے ادھیڑنا نہ سیکھتے۔ ہمارے پیارے نبی کا فرمان ہے کہ اگرشہر بھر جائیں تو نئے شہر آباد کر لینے چاہئیں۔ ادیبوں اور مصوروں نے اب لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے ذریعے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مشہور کارٹونسٹ ننھا کے صاحبزادے اعجاز انور جو خود بھی ایک بڑے مصور ہیں اور لاہور کو انہوں نے بے شمار مصوروں کی طرح شاہکار پینٹنگز میں محفوظ کر رکھا ہے، میدان میں نکل آئے ہیں۔ اس لئے کہ اب اورنج ٹرین منصوبے نے لاتعداد فلائی اوورز اور میٹرو بس کے ٹریک کے اندر سے اپنا راستہ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ تو سوچئے لاہور کہاں دکھائی دے گا۔ اگر لاہور کو ہیلی کاپٹر سے دیکھیں گے تو کنکریٹ کا جال اس خوبصورت شہر کو بری طرح قید کر چکا ہو گا۔
ایسے میں جو درخت کٹ گئے۔ پرندے ہجرت کر گئے وہ نقصان کس کا ہے۔ ان شاعروں کا ۔ ان لاہوریوں کا جو اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوتے تھے۔ اورنج ٹرین کے منصوبے نے شالیمار باغ، چوبرجی، تاریخی جی پی او اور کپورتھلہ ہاﺅس کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ دنیا کا کون سا شہر اپنے تاریخی ورثے کو اس طرح پامال کرتا ہے۔ مستقبل کا سیاح یہاں کیوں آئے گا۔ آپ نے تو لاہور کو پوری دنیا سے چھین لیا ہے۔ آہ ہمارا لاہور کہاں گیا۔ وہ جہاں پیدل چل کر یا تانگوں میں یا گاڑیوں میں گھوم کر ہم لاہور کو محسوس کر سکتے تھے۔ اب ہم کس لاہور کی تلاش میں نکلیں گے۔ اورنج ٹرین اور میٹرو بس میں بیٹھ کر ہم کہاں جائیں گے۔ ہمیں کہاں پہنچنا ہے۔ جب اپنا بانکا سجیلا شہر ہی نہ رہا تو ہم کہاں جائیں گے۔
چیف منسٹر صاحب کبھی کبھی کلچر اور تہذیب ہمیں وہ عزت دیتے ہیں جو ہمیں سڑک چھاپ ترقی سے نہیں مل سکتی۔ آپ گنیز بک آف ریکارڈ میں نام درج نہ کرائیں۔ لاہوریوں کے دلوں میں نام لکھوائیں۔ لاہور کو سانپ سیڑھی والی لوڈو میں تبدیل نہ کریں۔ اسے باغوں، شاعروں، پرندوں، پھولوں اور پارکوں کا شہر رہنے دیں۔ اسے مزنگ، کرشن نگر، سنت نگر، پرانی انار کلی، لکشمی چوک ، قلعہ گوجر سنگھ، بھاٹی لوہاری، ٹکسالی ، گوال منڈی اور اکبری منڈی کا لاہور رہنے دیں۔ آنے والا سیاح یہی ٹھکانے ڈھونڈے گا۔ یہاں ہماری تہذیب چھپی ہوئی ہے۔
(بشکریہ dunyapakistan.com لاہور)