چین کی مسلمان اقلیت

چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کے جلاوطن ایغور مسلمانوں کی عالمی تنظیم نے وارننگ دی ہے کہ دہشت گردی کو کچلنے کے نام پر سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی جبر و تشدد، دباﺅ، قتل و غارت اور مسلم تہذیب کو ختم کرنے کی چینی مہم نے اس سارے علاقے کو ایک ” ٹائم بم “ میں تبدیل کر دیا ہے۔

ادھر ہالینڈ کی ایک نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ چین کی پالیسی کے خلاف ایغور مسلمانوں نے سگریٹ، شراب اور دوسری منشیات خریدنے سے ہاتھ کھینچ کر چینی پالیسی کو ناکام بنا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے شراب اور سگریٹ کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایغور دکانداروں نے صارفین کو منشیات اور الکوحل فروخت کرنا بند کر دیا ہے۔ ایغور مسلمانوں کے خیال میں سنکیانگ میں اسلام کو کمزور کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور شراب کی فروخت اسی مہم کا حصہ ہے۔ ایک مسلم ایغور رہنما نے ایجنسی کو بتایا کہ ہم تمام منشیات شراب، سگریٹ کی مکمل حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ یہ اشیا اور ہر طرح کے نشے کو اسلام میں ممنوع اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔

گذشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ قرآن کی تعلیمات حاصل کرنے والے 37 طلبا  اور ایک استاد (امام) کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ہالینڈ کی ایک خبر کے مطابق چینی خبر رساں ادارے ژینوا نے کہا ہے کہ جرمنی میں قائم ایک ادارے کی ایک رکن خاتون کو اکثریت رکھنے والے مسلم صوبے سنکیانگ میں اپنے تعلیمی ادارے میں قرآن پاک پڑھانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ چینی پولیس نے چھاپے کے دوران 37 طلبہ کو بھی حراست میں لے لیا جن کی عمریں سات سال سے 20 سال تک ہیں۔ پولیس کے چھاپے کے دوران قرآن پاک کی مختلف کاپیاں، اسلامی کتب اور اسلام پر مبنی کیسٹ بھی ضبط کر لئے ہیں۔

ترکی بولنے والے لگ بھگ ایک کروڑ مسلمان ایغور نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو چین کے شمال مشرقی صوبہ سنکیانگ میں بستے ہیں۔ یہ صوبہ 1955 سے خودمختار ہے لیکن چینی حکام اس صوبے کو بار بار اپنی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ چند سال پہلے سنکیانگ میں ”حزب اللہ“ کے تین رہنماﺅں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان افراد نے سنکیانگ میں ”جدوجہد آزادی“ میں معروف حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔ حال ہی میں صوبے کے ایک گاﺅں میں سینکڑوں چینی مسلمانوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ چینی حکام کے مطابق حزب اللہ نے دہشت گردی کی ٹریننگ چین کے ہمسایہ ملک پاکستان میں حاصل کی تھی۔ ان سب پر قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنکیانگ میں حزب اللہ کی بنیاد 1997 میں رکھی گئی تھی جس میں جنرل حمید گل کی سربراہی میں آئی ایس آئی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ حزب اللہ پر ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور علیحدگی پسندی کے الزامات ثابت ہونے پر چینی حکام نے تین افراد کو پھانسی کی سزا دے دی تھی۔ سنکیانگ کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ چین کے بانی ماﺅزے تنگ نے مشرقی ترکستان کے عوام سے انہیں حق خود اختیاری دینے کا وعدہ کرتے ہوئے 1955 میں ژنجیانگ کا قیام لایا تھا لیکن ماﺅزے تنگ کی موت کے بعد بھی آج تک مشرقی ترکستان میں چین کے دفاعی، سیاسی اور معاشی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چین کے سابقہ اور موجودہ قائدین مغربی ترکستان، جس کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ ہے اور جو انہیں ملک کا سب سے بڑا اقلیتی گروپ بناتا ہے کو مکمل طور پر چین کی ’ نوآبادی‘ بنانے اور ایغور مسلمانوں کی ثقافت کو ختم کرنے اور تیل و قدرتی گیس کے بہت سے ذخائر پر مشتمل قدرتی وسائل کا معاشی استحصال کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ترکستان تاریخی طور پر ان علاقوں کو کہا جاتا ہے جو سائبریا، تبت، برصغیر پاک و ہند اور افغانستان و ایران کے مابین شمال میں واقع ہیں۔ ماضی میں اس کی سرحدیں بحیرہ کیسپئن، منگولیا اور صحرائے گوبی تک  پھیلی ہوئی تھیں۔ اس وسیع و عریض علاقے کا مشرقی حصہ چینی ترکستان (اب سنکیانگ) اور مغربی حصہ روسی ترکستان کہلاتا تھا جس میں سابق سوویٹ یونین کی اکثر مسلم ریاستیں شامل تھیں جو اب روس سے الگ ہو چکی ہیں۔ مشہور مورخ ابن الاثیر نے مشہور سپہ سالار قتیبہ بن مسلم اور شاہ چین کے مابین نامہ و پیام کی تفصیل لکھی ہے۔ قتیبہ نے فتح چین کا ارادہ کیا تھا مگر دمشق میں خلیفہ ولید کے انتقال کے بعد اسے یہ حملہ ملتوی کرنا پڑا۔ اس نے ایک وفد چین کے دربار میں بھیجا اس طرح چین میں اسلامی اثرات کی ابتدا ہوئی۔

آج سنکیانگ کی مجموعی حالت اتنی خراب ہے کہ چینی اسے اپنا ” سائیبریا “ کہتے ہیں۔ بالعموم چینی قیدیوں کو سخت سزا بھگنے کیلئے یہاں کے مشقتی کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے جس کا انتظام براہ راست وزارت امن و عامہ کے سپرد ہے۔ یہاں ہزارہا قیدی پابند سلاسل ہیں۔ اگر ترک مسلمان قیدی اپنی سزا پوری بھی کر لے تو بالعموم انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تاوقتیکہ ان کے آبائی شہر یا علاقے کی کمیونسٹ پارٹی کے عہدے دار اس کے حق میں قرارداد منظور نہ کرلیں۔  ایسے مواقع کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ” چینی قیدیوں“ کو رہائی کے بعد سنکیانگ کے علاقے ہی میں بمع اہل و عیال آباد کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہاں چینی نسل کے ہزارہا باشندے آباد ہوتے جا رہے ہیں اور ایغور مسلمان حسب معمول، حسب روایت اور حسب عادت لڑائی میں کام آ رہے ہیں۔

چین کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے پر ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں چین کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1931 میں جاپان نے یغوریا پر فتح حاصل کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ چین نے اس معاملہ کو لیگ آف نیشن میں اٹھایا تو جاپان نے بات چیت کرنے کی بجائے لیگ آف نیشن سے ہی استعفیٰ دے دیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے جرمنی اور اٹلی کے ساتھ مل کر چین پر حملہ کر دیا۔ چین کی تاریخ نسبتاً مختلف رہی ہے۔ چین کا ایک بے حد دشوار اور پریشان کن مسئلہ اپنی طویل سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی سنکیانگ میں الجھتا نظر آتا ہے، کبھی بھارت کی سرحدوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے اور کبھی تبت کے دلائی لامہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتا ہے۔ یہ مسائل نئے چین یا کمیونسٹ چین یا جو بھی آپ سمجھ لیں کے نہیں ہیں بلکہ لگ بھگ دو ہزار سال قبل چن راج گھرانے کے بادشاہوں نے اسی مقصد کے لئے دیوار چین (گریٹ وال) تعمیر کی تھی۔  تاکہ قبائلی حملہ آوروں اور دراندازوں کو داخل ہونے اور لوٹ مار سے روکا جا سکے۔

دوسری جنگ عظیم میں چین کا گھیراﺅ کر لیا گیا۔ ویت نام میں فرانس، برما میں انگلستان، منچوریا میں روس اور کوریا میں جاپان۔ چین نے اپنی حکمت عملی سے نہ تو انگلینڈ کا ساتھ دیا اور نہ ہی جرمنی کا۔ لیکن چین نے تبت پر قبضہ کر کے آدھی دنیا سے زیادہ کو اپنا مخالف بنا لیا۔ 1240 سے تبت پر لامہ کا قبضہ چلا آتا تھا۔ کیوںکہ یہ علاقہ منگول حکومت کا حصہ تھا۔ مگر والئ چین نے 1908 میں تبت پر قبضہ کر لیا ۔ بعد ازاں 1950 میں کمیونسٹ چین کی حکومت نے اس پر مکمل قبضہ کر لیا اور دلائی لامہ کو بھارت جلاوطن کر دیا گیا۔ یہ سچ ہے کہ چین نے سنکیانگ کی طرح تبت میں بدھ بھکشوﺅں پر مظالم کئے لیکن یہ میرے حساب سے ایک الگ موضوع ہے۔ اس سے چین کا اقتصادی و سیاسی و داخلی مزاج ختم نہیں ہو جاتا۔

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ سیاست کو سمجھنا مشکل کام ہے اور چینی سیاستدان کو سمجھنا تو اس سے زیادہ مشکل کام ہے۔