پی ٹی آئی کا قبضہ گروپ اور ریحام خان

  • بدھ 11 / نومبر / 2015
  • 5361

عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دینے کے اعلان کے بعد اس کے اخلاق اور کردار کی بہت تعریف کی اور اسے انتہائی قابل احترام قرار دیا۔ مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر عمران خان کے سپاہیوں نے ریحام خان کی کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

ہمارے معاشرے میں شادی شدہ جوڑے میں طلاق کے بعد قصور وار صرف عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ بے قصور ہونے کے باوجود عورت کو ہی  حالات کو طلاق تک پہنچانے کی ذمہ دار قرار پاتی ہے۔ ریحام خان کے معاملہ میں بھی اسی گھسی پٹی اور پسماندہ مردانہ سوچ کا اظہارکیا گیا۔ پاکستانی میڈیا میں بغیر تحقیقات کئے ریحام خان کی غیرموجودگی میں اس پر یک طرفہ الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی۔ عمران خان نے ابھی تک ریحام خان پر کسی قسم کا الزام لگانے سے پر ہیز کیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ترجمان کے ذریعے کچھ الزامات کی تردید کروانے کی کوشش بھی کی ہے۔  اس کے باوجود ایک مخصو ص ذین رکھنے والے اینکر، نام نہاد دانشور اور عمران خان سے دوستی کے دعویدار ریحام خان پر الزام تراشی کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔  

با خبر لوگوں کا کہنا ہے کہ ریحام خان کے خلاف منفی مہم کے پیچھے پی ٹی آئی کے راہنما اور عمران خان کے معتمد خاص جہانگیر ترین اوراس کے حواریوں کا ہاتھ ہے۔ طلاق تک حالات پہنچانےمیں بھی انہی لوگوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جماعتی الیکشن میں کارکنوں کے ووٹ خریدنے کے الزامات ثابت ہونے کے بعد جہانگیر ترین پی ٹی آئی میں متنازعہ ہو چکے ہیں۔ عمران خان نے پارٹی الیکشن میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لئے سابق جسٹس وجیہہ الدین کی قیادت میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ کمیشن نے جماعتی الیکشن میں کرپشن اور دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر جہانگیر ترین، پرویز خٹک اور انکے دیگر حواریوں کے پی ٹی آئی سے اخراج کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلہ پر سابق جسٹس وجیہہ الدین ابھی تک اٹل مؤقف رکھتے ہیں۔ مگرعمران خان اب بھی جہانگیر ترین کو سب سے قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ عمران خان نے جہانگیرترین کی قربان گاہ پر پارٹی کے بانی راہنما حامد خان اور ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین کی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ 

ریحام خان کےساتھ شادی کے بعد عمران خان نے ایک انڑویو میں کہا تھا کہ اگر ریحام خان کا سیاسی رجحان اور ذہن نہ ہوتا تو شاید میں اس سے شادی نہ کرتا۔ شادی کے بعد ریحام خان کی تحریک انصاف کی سرگرمیوں میں شمولیت اور چند تقاریر کے بعد عمران خان کے حامی دو معروف صحافیوں نے اپنے کالموں میں ریحام خان کی سیاسی فہم و فراست اوردانشمندی کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دئے تھے۔ عمران خان کے قریبی دوست ہونے کے دعوے دار ایک باریش صحافی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ: “ دیکھتے ہی دیکھتے ریحام خان پی ٹی آئی کی دوسری اہم لیڈر بن گئی ہیں۔“۔ یہ محترم یہاں تک لکھ گئے کہ : “ ریحام خان پارٹی میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کی اہل ہیں اور عمران خان کو انہیں اپنی انا پر قربان نہیں کرنا چاہے۔“  مزید لکھا کہ:  “ ریحام خان چیئرمین کے بعد سب سے اہم شخصیت ہیں اور جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک سے کہیں زیادہ اہم “ ۔ یہ صاحب یہاں تک کہہ گئے کہ:  “ ریحام خان یقینی طور پر سیاست کو اپنے شوہر سے زیادہ سمجھتی ہیں “۔

اس میں شک نہیں کہ عمران خان کے بعد ریحام خان پی ٹی آئی کے کارکنوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی تھیں۔ جہانگیرترین، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی اور صوبائی راہنماؤں کے چراغ ریحام خان کی شخصیت کے سامنے ٹمٹمانے لگے تھے۔ عمران خان کے ذریعے پارٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا ریحام خان جیسی ذہین، سیاسی عزائم رکھنے والی خوبصورت خاتون کے لئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔ بقول شخصے عمران خان جیسے کچے کانوں والے آدمی پر اثر اندازہونا ریحام خان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
 بقول جسٹس وجیہہ ا لدین: “ جہانگیرترین اور پرویز خٹک کی صورت میں کریمنل اور کرپٹ مافیا “  پی ٹی آئی پر قابض ہو چکا ھے۔ جاوید ھاشمی، فوزیہ قصوری، حامد خان، سابق جسٹس وجیہہ الدین اور پی ٹی آئی کے دیگر پرانے راہنماؤں کی پارٹی میں تنزلی اور بے اثر کئے جانے کے بعد یہ مافیا پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ عمران خان اس گروہ کے گھیرے میں آچکے ہیں اور ان کے علاوہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔

جاوید ہاشمی، حامد خان اور سابق جسٹس وجیہہ کو راستے سے ہٹا کر یہ گروہ پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرچکا تھا۔ ریحام خان کا اپنی علیحدہ پہچان کے ساتھ ایک لیڈر کی صورت میں ابھرنا، اس قبضہ گروپ کو سخت ناپسند تھا اور وہ ریحام خان کو اپنی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھ رہے تھے۔ اس گروہ کو یہ باور ہوتا جا رہا تھا کہ ریحام خان کی موجودگی میں ان کا پارٹی پر قبضہ کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔   فوزیہ قصوری، جاوید ہاشمی، حامد خان اور جسٹس وجیہہ کا عمران خان کے ہاتھوں زوال، اس گروہ کے سامنےعمران خان کی پہلی شکست سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ریحام خان کا راستے سے ہٹایا جانا عمران خان کا اس سازشی گروہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے متراد ف ہے۔ عمران خان اور ریحام خان کی طلاق کا معاملہ یقیناً ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ اس طلاق کے اصل محرکات سیاسی ہیں نہ کہ ذاتی۔ آنے والا وقت طلاق کے اصل محرکات پر سے  ضرور پردہ اٹھائے گا۔

اس وقت عمران خان صرف ملکی سیاست میں ہی تنہائی کا شکار نہیں ہیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کے اندر بھی تنہا ہو چکے ہیں۔ وہ کارکنوں سے دور ہٹتے جارہے ہیں۔ پارتٰی کے معاملات چلانے کے لئے وہ صرف چند لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ترین ۔ خٹک ٹولہ اس گروہ کا سرغنہ ہے۔ عمران خان پارٹی کے مرکزی اور صوبائی تنظیمیوں کو جماعتی اور سیاسی فیصلوں میں شامل کرنے کی زحمت گورارہ نہیں کرتے۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ بقول سابق جسٹس وجیہہ “ کریمینل اور کرپٹ مافیا “ کب تک پارٹی پر قبضہ برقرار رکھ سکے گا۔ اب کس کو پی ٹی آئی سے نکالنے، معطل یا معزول کرنے کی باری آتی ہے۔ اب دیکھتے ہیں پہلا نمبر کس کا ہے چوہدری سرور، شاہ محمود قریشی یا کسی اور کا۔