انتہا پسندی اور نواز شریف

  • جمعہ 13 / نومبر / 2015
  • 4571

ملک کی سیاست میں پاکستان کے بدلنے کی باتیں کئی سالوں سے ہورہی ہیں ۔ سیاسی بیان بازی میں پاکستان کے بدلنے کی باتیں طنزیہ انداز یں بھی کی جاتی ہیں۔ عوام بھی اب حقیقی معنوں میں پاکستان کو بدلتا دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ گزشتہ اڑسٹھ برس کی سیاست خون میں آلودہ ہے، غموں ، دکھوں کی داستاں سمیٹے ہوئے ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی اور صحافتی فضا کبھی بھی ایسی نہیں رہی کہ جس میں محبت، اور رواداری کو فروغ مل سکے بلکہ صورت حال اس کے برعکس ہی رہی ہے۔ جس شخصیت یا فرد نے بھی کبھی روشن خیالی کاایک لفظ منہہ سے نکالا، اس کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی وہ اسلام کے منافی ٹھہرا اور کبھی نظریہ پاکستان کا مخالف قرار پایا۔ ایک گورنر پنجاب کو تو جان سے ہی ہاتھ دھونے پڑے۔ کئی دہائیوں سے نفرت اور تعصب سے بھرپور ماحول میں گزشتہ دنوں ایک انتہائی خوشگوار ہوا کا جھونکا وزیر اعظم پاکستان کی ہندوؤں کی دیوالی کی تقریب میں تقریر کی شکل میں سامنے آیا۔ اس طرح گھٹن میں کمی محسوس کی گئی اور وزیراعظم کے اس بیان کو بہت سراہا گیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظوں میں کہا تھا کہ میں ایک مذہبی گروہ کا وزیراعظم نہیں ہوں بلکہ پورے پاکستان کا وزیر اعظم ہوں۔ اس بات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ تقریر لکھنے والا ماضی کی سیاسی اور آئینی غلطی سے بھی بخوبی واقف تھا۔

نوازشریف نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ میں مظلوم کے ساتھ ہوں اور ظالم کے خلاف ہوں۔ اپنے اوپر رنگ پھینکنے کی بات گو موقع مناسبت کی ایک غلطی ہو سکتی ہے لیکن یہ غلطی بھی ایک ایسی رنگین غلطی ہے جس کے واقع ہو جانے سے پاکستان روشن ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں مثبت رویے کی پذیرائی کا کوئی رواج نہیں ورنہ وزیر اعظم کی تقریر کے یہ جملے ٹیبل ٹاکس کا موضوع بنتے۔ گزشتہ تین دہائیوں کی قتل و غارت اور سیاسی قلابازیاں اور حکومتوں کی توڑ پھوڑ ہمیں سبق سکھانے کے لئے کافی ہیں لیکن ہم نے نہ سیکھنے کا حلف اٹھا رکھا ہے ۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ نواز شریف نے پاکستان کی کسی اقلیت کے بارے میں اس قسم کے جمہوری الفاظ استعمال کئے ہوں ۔ نواز شریف اپوزیشن لیڈر کے طور پر بھی اقلیتوں کی حمایت میں ایسے الفاظ کہے تھے ۔ پاکستان میں کوئی سیاست دان اس قسم کے خیالات کا اظہار نہیں کرتا۔ 28 مئی2010 کو جب لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر بیک وقت دہشت گردی کے دو حملے ہوئے اور 90 افراد خون میں نہلا دئے گئے تو چھ جون2010 کو ایک بیان میں نواز شریف نے احمدیوں کو پاکستانی بہن بھائی قرار دیتے ہوئے ان کو ملکی اثاثہ کہا تھا۔ اس بیان پرہونے والے رد عمل سے سبھی بخوبی واقف ہیں۔ وفاق مدارس عربیہ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام نے شدید ترین ردعمل دیتے ہوئے نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کی تھی۔ بیان واپس نہ لینے پر ملک گیر تحریک چلانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ البتہ سب دھمکیاں گیدڑبھبکیاں ثابت ہوئیں ۔ نہ تحریک چلی اور نہ نواز شریف نے بیان واپس لیا۔ آج تک وہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایک مخصوص مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ان فتنہ پرور نیم مذہبی و سیاسی جماعتوں نے پوری سیاست اور صحافت کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ ٹی وی اینکرز اور تبصرہ نگار کیوں اپنی قومی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔ وہ کیوں ہمیشہ ایسا موقع ضائع کر دیتے ہیں جس سے ملک کے اندر کی سیاسی اور صحافتی فضا پر امن ہو سکتی ہے۔ اور حقیقی جمہوری رویے پروان چڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندی کے اس خودساختہ خوف سے نجات سے حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ارد گرد بدلتے ہوئے حالات کے نتیجہ میں اب پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ نئے پاکستان بارے سوچنا ہو گا اور غور و فکر کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف کے ہندوؤں کے بارے میں بیان پر تو تاحال کسی مولوی کا بیان نظر سے نہیں گزرا لیکن ملک کو لبرل کہنے پر مولوی سمیع الحق نے اپنی بے چینی دکھائی ہے اور مذمت کی ہے ۔ تین دہایؤں سے پاکستان کی عزت، سالمیت اور عوامی تمنائیں سبھی کچھ انہی ملاؤں کی سازشوں کی نذر ہو رہی ہیں۔ لاکھوں گھر برباد ہو چکے ۔ قبرستان آباد ہو گئے ۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت اور ریاستی ادارہ انہی ملاوؤں کے دباؤ میں ہے ۔ انہی کے خوف میں مبتلا ہے ۔کسی ایک لیڈر کے روشن خیالی کے بیان پر ان عناصر کو سخت پریشانی ہوتی ہے۔ اورسب اکھٹے ہو کر چیخ وپکار شروع کردیتے ہیں۔ اخبارات میں بیان بازیوں سے طوفان بدتمیزی برپا کر دیتے ہیں۔ یہی ان سب کا طریقہ واردات ہے۔

دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت ایک ایسے ملک کی حثیت سے ہو رہی ہے جہاں سے دہشت گردی پوری دنیا میں سپلائی کی جاتی ہے۔ لہذا اب عملی طور ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے دنیا کو یہ پیغام ملے کہ پاکستان اب واقعی بدل رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو اپنے اس پیغام سے آگے جانے کی ضرورت ہے ۔آسٹریلیا میں ایک مسلم خاتون مونا شنڈے کو آسٹریلوی بحریہ کی پہلی مسلم خاتون کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ سویڈن میں پہلی بار ایک مسلم خاتون منسٹر بنائی گئی ہے۔ کنیڈا کے نومنتخب وزیراعظم کی کابینہ میں نصف عورتیں اور دیگر مذاہب کی نمائندے ہیں۔ جرمنی میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ ان تمام دنیاوی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے باعزت مقام کے لئے پاکستان کومذہب کی چھتری تلے سے نکلنا ہو گا۔ کھلے آسمان دل و دماغ سے ملک و قوم کے بارے بات فیصلے کرنے ہونگے۔

نواز شریف کے خیالات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بدل رہے ہیں۔ اب انہیں یہ بھی ثابت بھی کرنا ہو گا کہ ان کے یہ خیالات محض بیان بازی نہیں تھی بلکہ وہ سچ مچ آپ بدل رہے ہیں ۔۔