وزیراعظم ..... ہوش کے ناخن لیں

  • ہفتہ 14 / نومبر / 2015
  • 4608

کورکمانڈر کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے سے ملکی سیاست کا رخ موڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک جانب وفاقی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں نظر آتی ہیں اور دوسری جانب افواج پاکستان۔

اس سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری کئے گئے اعلامیے میں اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ دراصل وزیراعظم آفس سے جاری کیا گیا یہ اعلامیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے پاس افواج پاکستان کی جانب سے عائد کردہ اس الزام کا کوئی جواب نہیں ہے۔  حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے لہٰذا حکومت نے اپنی کارکردگی بتانے کی بجائے آئین کے پیچھے چھپنے کا فیصلہ مناسب سمجھا ہے۔

جنا ب وزیراعظم آئین اور قانون کی بالادستی کے خواب اور اس کے حق میں دلائل اپنی جگہ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آج پاکستان میں جنرل راحیل کسی بھی جمہوری رہنما سے زیادہ مقبول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بلدیاتی انتخابات میں امیدوار اب جمہوری رہنماؤں کی تصاویر کی بجائے جنرل راحیل کی تصاویر کا سہارا لے کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

جنرل راحیل کی مقبولیت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ عام انتخابات کے دوران سیاست دانوں کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا جس کی جیتی جاگتی مثال بجلی کے بحران ہے۔  لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا  وعدہ حکمران جماعت پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور نہ ہی عوام کو کوئی نیا خیبرپختونخوا بنتا نظر آ رہا ہے۔ جنرل راحیل کی مقبولیت کی دوسری وجہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی  ہے۔ پاکستانی عوام میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف، عمران خان اور دیگر سیاسی رہنما شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے خلاف تھے اور شدت پسندوں سے مذاکرات چاہتے تھے۔ یہ جنرل راحیل ہی تھے جنہوں نے اس قوم کو دہشت گردی کے عفریت  نجات دلائی ہے۔ 

آئین اور قانون کی بالادستی کے خواب اپنی جگہ لیکن پاکستان کے عوام آج شدت پسندوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور آپ کی حکومت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہی ہے۔ عوام کی اکثریت نیشنل ایکشن پلان پر عمل  کر کے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے، جس میں حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ آج بھی اس ملک میں نفرت آمیز تقاریرکی جا رہی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف فتوے دیئے جا رہے ہیں۔ آج بھی اس ملک میں پولیس کا کام رشوت لینا ہی ہے۔ اور عدالتوں کا کام مجرموں کو سزا سے بچانا ہو گیا ہے۔ آج بھی اس ملک میں کسی کو انصاف نہیں مل رہا۔ آج بھی لاکھوں بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

جناب وزیراعظم ہوش کے ناخن لیں اور اس بات کو تسلیم کریں کہ اس ملک میں اب بھی گڈگورننس سب سے بڑا  مسئلہ ہے۔ یہ سمجھ کر آپ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔