سانحہء پیرس اور یورپی مسلمان

  • ہفتہ 14 / نومبر / 2015
  • 4073

کل رات پیرس پر قیامت ٹُوٹ گئی ۔  مسلمان دہشت گردوں کے ہاتھوں  کم و بیش ڈیڑھ سو فرانسیسی شہری بڑی سفاکی اور بے رحمی سے موت کے گھاٹ  اُتر گئے یعنی اُتار دئے گئے ۔ فرانس اس واقعے پر سوگ میں ہے اور فرانس کے حکمران بے رحمانہ  انتقام کی دھمکی دے چکے ہیں ۔

ان  اموات پر سوگ منانے والوں کے درمیان وہ تارکینِ وطن یورپی مسلمان بھی ہیں جو  خوف اور دہشت کی فضا میں سہمے سہمے سانس لے رہے ہیں اور اس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں  کہ اب وہ گھر سے باہر نکلے تو قہر آلود نظریں گلی کوچوں میں اُن کا تعاقب کریں گی ۔ ممکن ہے کہیں جوابی انتقام کا نزلہ اُن پر بھی گرے اور وہ تشدد کی کسی بھیانک  کاروائی کا شکار ہو جائیں ۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ صورتِ حال ہے جس میں  امن پسند  یورپی مسلمانوں کو ایک گہری تشویش کا سامنا ہے اور وہ اپنے بچوں کے بارے میں فکر مند ہیں کہ اگر امن غارت ہو گیا تو اُن کا مستقبل کیا ہوگا ؟  فرانس کی وزارتِ داخلہ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے جرم میں شہریت بھی منسوخ ہو سکتی ہے ۔

شہریت کی تنسیخ کی صدا پیرس سے سنائی دی ہے ۔ اور اگر پیرس کو زکام ہو جائے تو پورا یورپ چھینکتا ہے۔  پیرس سے آتی یہ آواز سب کے سینے میں سنسنی دوڑا دینے کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ یورپی مسلمان  والدین اب اس اندیشے سے چھٹکارا نہیں پا سکتے  کہ کہیں  اُن کا بیٹا یا بیٹی مسجد کے راستے میں  دہشت گردوں کے  ہتھے نہ چڑھ  جائیں اور اُن کے بھرتی کے دفتر کا رُخ نہ کرلیں ۔ ایسا ہؤا تو وہ  داعش کے بھیڑیوں کا نوالہ بھی بن سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال کیوں اور کیسے پیدا ہوئی اور اس کے ذمہ دار کون ہیں؟
ہمارے ہاں یہ روایت عام ہے کہ ہم اپنی تمام سیاسی نالائقیوں اور  انتظامی غیر ذمہ داریوں کا الزام یہود و ہنود اور امریکہ اور اُس کے حلیفوں کے سر منڈھ دیتے ہیں۔ اور وہ ہمارے اپنے جو دولت اور عہدوں کے لالچ میں محولہ بالا کیمپوں کی دلالی کرتے اور ملک میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں ، ہر الزام سے بچ جاتے ہیں ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ داعش امریکہ نے بنوائی ۔ بنوائی ہو گی مگر ہم نے بنائی کیوں ؟ ہم خُدا کا دامن چھوڑ کر امریکہ اور اس کے حواریوں کے ہاتھ میں بکے کیوں؟ ایسا بکاؤ سیاسی اور عسکری مال کس طرح سے مذہبی ہو سکتا ہے ۔ مذہب تو اُمت کو ہر بے حیائی سے پاک کرنے کا نام ہے لیکن ہمارے ہاں یہ کیوں ہو رہا ہے ؟

کرپشن اور صرف کرپشن ۔ خُدا اور رسول ﷺ کے نام پر کرپشن اور یہ دہشت گردی مذہبی کرپشن کی بھیانک ترین شکل ہے اور اس کے ذمہ دار عالمِ اسلام کے نالائق ، نا ہنجار ، غیر ذمہ دار اور خصی حکمران ہیں جو اپنے اپنے ملکوں میں خُدا اور رسول ﷺ کے ناموس کو بیچ کر حکمرانی تو کرتے ہیں مگر وہ اسلام کے نام پر عالمی وحدت کا وہ نظام قائم نہیں کر سکے جو تمام مسلمان ملکوں اور لوگوں  کو  باہمی اخوت کے رشتے میں پرو کر  ملی وحدت کا مرکزی ستون قائم کر  سکتا ۔

اگر تمام مسلمان ممالک ایک ملی وحدت کے رشتے میں منسلک ہوتے تو وہ کتنی بڑی عالمی طاقت ہوتے ؟ مگر نہیں صاحب ! دنیا کو اللہ کے نور سے دیکھنے والا مومن تو فی زمانہ موجود ہی نہیں ۔ یہ سب امریکہ اور اُس کے حلیفوں کے ہاتھ بکنے والے اور کٹھ پتلیوں کی طرح امریکی اشاروں پر ناچنے والے لیڈر ہیں جو عوام کو بار بار بیچ کھاتے ہیں ۔

ابھی ایک عشرہ پہلے  سابق آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ حافظ سعید اور اسامہ بن لادن اُن کے ہیرو تھے اور یہ کہ انہوں نے کئی عسکری تنظیمیں بنائی تھیں  مگر یہ الگ بات کہ وہ  آج پاکستان کی جان کو آئی ہوئی ہیں ۔ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کے پاس اس صورتِ حال کا  جو ایک بحرانی کیفیت ہے ، کوئی شافی علاج اور حتمی حل نہیں ہے ۔ ضربِ عضب ، امریکہ کے دورے ۔ اور اب  پھر جنرل راحیل شریف امریکہ چلے ہیں حالانکہ ایسے وقت میں  اپنے گھر میں رہنا چاہیے۔ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنی جنگ خود لڑنی چاہیے ۔  اپنے عوام کا اعتماد جیتنا چاہیے اور اُن کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا چاہیے لیکن ہمارے  حکمرانوں کا طرزِ عمل  ہمیشہ عجیب  اور ناقابلِ فہم رہا ہے :
بُتوں سے تجھ کو امیدیں ، خُدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

عالمِ اسلام کی اِس  ناقص ملی سیاست کا اثر مسلمان ملکوں سے باہر ایکسپورٹ ہو رہا ہے اور اس کا رُخ اُن تارکینِ وطن کی طرف ہے جو ملکوں ملکوں بیٹھے پاکستان کے لئے زرِ مبادلہ فراہم کرنے کا نہ ختم ہونے والا وسیلہ بنے ہوئے ہیں  جو ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ایسے وقت میں  اپنے آبائی وطن سے محبت کے ساتھ نئے وطن میں  اپنی بقا اور اپنے بچوں کے مستقبل کا سوال اُٹھ کھڑا ہوتا ہے  ۔ اُن بچوں کا جو اب پاکستانی نہیں رہے بلکہ یوپی یا امریکی ہو چکے ہیں ۔ ہم یورپی مسلمان ہیں ۔ مجھے اصرار ہے کہ میں نارویجین مسلمان ہوں ۔ ہم  صرف ناروے میں دس بار ہ مسجدیں تعمیر کر چکے ہیں اور اپنے اعمال نامے اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں ۔ ہماری یہ مسجدیں پیرس کی  اُس مسجد کے مقابلے میں بہت نئی ہیں ، جس  پر علامہ اقبال نے نظم لکھی تھی ۔ ہمیں یہاں مذہبی آزادی ہے اور اس بات کی بھی فکر نہیں کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہم سے امتیازی سلوک کیا جائے گا ۔

یورپ نے ہمیں زندگی کرنے کی مکمل آزادی دی ہے ۔ اب یہ ہمارا وطن ہے اور ہم اپنے وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور دہشت گردی کے ہر طوفان کا مقابلہ کریں گے۔ اور اپنے بچوں کی خاطر ، مسلمانوں کی نئی نسل کی خاطر،  یورپ کے گلی کوچوں کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھیں گے ۔ یہ ہمارا پیمان ہے اور ہم اس پر  پورے ایمان سے قائم ہیں ۔ اسلام زندہ باد ۔