سول عسکری تصادم کا خطرہ
- اتوار 15 / نومبر / 2015
- 4473
ہم نے سنا ہے کہ مائیں اپنے بیٹوں کا صدقہ اتارتی ہیں اور عاشق اپنے محبوب کا ۔ اسی طرح 6 ستمبر کو AWGاکیڈمی راولپنڈی میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں ماہر تعلیم و ممتاز پروفیسر محمد صفدر مفتی نے جنرل راحیل شریف کی صحت اور زندگی کے لئے اللہ کے راستے میں 2 لاکھ روپے کا صدقہ دیا۔ اسی طرح اسی ضلع میں ایک مسجد کا نام راحیل شریف رکھا گیا ۔ جنرل راحیل شریف سول شریف کے مقابلے میں مقبول ہیں بلکہ خارجی سطح پر بھی ان کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ مصر کے جنرل عبدالفتح السیسی کو بطور چیف آف سٹاف کیا مقبولیت ملی ہو گی جو ان دنوں راحیل شریف کو حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے فوجی ذرائع پاکستان کی فوج کو نمبرون قرار دیتے ہیں ۔ یہ بات سول شریف کو پسند نہیں ۔ اس وجہ سے تصادم اور اختلافات کی ایک خاص وجہ موجودہے ۔
ملکی سول جمہوری ادارے بری طرح ناکام ہیں ۔ ان کی گورنس پر سوالیہ نشان ہے حکومت نیشنل ایکشن پلان پر نیک نیتی سے تعاون نہیں کر رہی ۔ جس کی وجہ سے فوج کی طرف سے ISPRکا بیان آیا پھر اگلے ہی روز حکومتی بیان آنے پر اس تنازعہ نے تصادم کی صورت اختیار کرلی۔ پارلیمان میں بھی اس حوالے سے بحث ہوئی ہے۔ محمود خان اچکزئی کا بیان بجا لیکن وہ 2سال قبل کہاں تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانات دئیے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے ان کو اور محمود خان اچکزئی نے اپنے بھائیوں کو اس دور میں خوب نوازا ۔ یعنی بہتی گنگا میں انہوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں ۔ ملک کی اسمبلیوں کو دھاندلی کی پیدا وار کہا جاتا رہا ہے۔ جو لوگ الیکشن میں لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کر کے آئیں گے تو ان کی کارکردگی بھی تو ناقص ہی ہو گی ۔ پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ارکان اور چےئر مین نے زور دیا ہے کہ تمام اداروں کی ذمہ داری ہے وہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں ۔ آئین کا تحفظ ہر شہری اور اداروں کی ذمہ داری ہے چئیر مین سینیٹ رضا ربانی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان سے متعلق امور پر بحث کے لئے پارلیمنٹ کے بند کمرے میں مشترکہ اجلاس یا سینیٹ کا اجلاس بلائے۔
اس سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد ISPRکی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے۔ اس بیان کے اگلے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ کور کمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا ہے، وہ آئین کی رو کے منافی ہے۔ انہوں نے اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروانے کی بات بھی کی۔ اس بیان کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے قو می لائحہء عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ملک کے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رہتے ہو ئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ گویا یہ جواب شکوہ ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے یہاں تک کہہ دیا کہ دو شریفوں میں گڑ بڑ ہوئی تو میں سویلین شریف کے ساتھ کھڑا ہو ں گا۔ ان بیانات کے حوالے سے ملک میں سخت بحث چھڑ گئی ہے ۔ ماضی میں بھی جمہوری حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات رہے ہیں اور ہر بار اس کی تردید کی جا تی رہی ہے۔ البتہ یہ عیاں ہے کہ دونوں شروع سے ایک پیچ پر نہیں رہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کیس اور پشاور اسکول کے معاملے میں سرد جنگ جاری رہی ہے ۔
اب پارلیمان اسے جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات اور تصادم سے تعبیر کر رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں شریف بند کمرہ میں یہ باتیں طے کر لیتے ۔ پارلیمان اور میڈیا پر یہ تبصرہ ہونا نہیں چاہئے تھا۔ چونکہ ہماری سرحدوں پر دشمن ہمیں ہر لمحہ کمزور کرنے کی کوشش میں ہے ۔ یہ ٹائمنگ درست نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کا تو یہ حال ہے جیسے چور کی داڑھی میں تنکا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اس کی کارکردگی ناقص ہے۔ اربوں کھربوں کے میگا اسکینڈل منظر عام پر آ رہے ہیں ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اسکینڈل بھی جلد بے نقاب ہونے والا ہے۔ تمام شعبے اقربا پروری، رشوت ستانی اور کرپشن و نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ اسی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان آگے نہیں بڑھ رہا۔ نیپ کا ادارہ انسداد دہشت گرد ی عدالتیں ۔ سرکاری کمیٹیوں کی رپورٹس پر کارروائیاں نہیں ہو تیں۔ فوج نے اپنا پہلا مرحلہ بڑی ذمہ داری اور کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے لئے حکومتیں بالخصوص سندھ حکومت عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ چونکہ ان پر خود نیب کے 12 مقدمات ہیں ۔
نیشنل ایکشن پلان کے 20پہلو ہیں جن پر حقیقی عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔ مثلاََ فوجی اداروں نے مجرموں کو پکڑ کر پولیس اور عدالتوں میں بھیجا ہؤا ہے۔ کرپشن کے کئی سو اور اہم کیسز کے ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ مذہبی منافرت اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کی روک تھام کے لئے اصلاحات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔ اسی طرح معاشی دہشت گردی فنانسنگ اور فاٹا کی اصلاحات اور آئی ڈی پیز کی بحالی پر وفاقی حکومت سنجیدہ نہیں۔اسی طرح صوبہ پنجاب میں کارروائی کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ حالانکہ فوج کے پاس پنجاب کے کئی اہم وزرأ کے خلاف ثبوت موجود ہیں ۔ اور دو صوبائی وزیر وں کے خلاف تو ثبوت میڈیا پر بھی آ چکے ہیں ۔
شریف برادران پنجاب میں کارروائی کی مزاحمت کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا یہ مؤقف درست ہے کہ احتساب کرنا ہے تو کراس دا باڈر کریں Across the border ۔ صرف سندھ میں ہی کارروائی کیوں؟مگر یہ تو چوہے بلی کا کھیل ہے ۔ کیونکہ ان دونوں پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کئے ہوئے ہیں ۔ اس کا مطلب ایک دوسرے کی پردہ داری ہے۔ 2013کے الیکشن میں اس کا ثبوت عوام نے دیکھ لیا ۔ اب بلدیاتی الیکشن میں اس کا واضح ثبوت مل رہا ہے۔ البتہ یہ کھیل ریاست کے لئے بہت خطرناک ہے ۔ جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو سکتا ہے۔ اور وفاق کو کمزور بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اسی لئے فوج نے اپنا راستہ خود متعین کیا اور فیصلے بھی خود کرتی ہے ۔ ملک میں ہر مشکل وقت میں فوج ہی عوام کی خدمت کرتی ہے۔ حالانکہ یہ کام عوامی نمائندوں اور سول اداروں کے کرنے کے ہیں ۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی الوداعی تقریب میں درست کہا تھا کہ جج، وکیل اور حکومت نظام عدل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور فیصلوں کی تاخیر میں جج اور وکیل دونوں ذمہ دار ہیں ۔ عدل سے ہی معاشرے قائم رہ سکتے ہیں ۔ اگر کسی معاشرے میں انصاف نا پید ہو جائے تو پھر آنے والی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ آج اگر پاکستان درجنوں مسئلے مسائل کا شکار ہے تو اس کی بڑی وجہ یہاں عدل نہیں ہے ۔ یہ حکومت ذمہ دار اس لئے ہے کہ وہ عدالتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اپنے من پسند فیصلے کرواتی ہے ۔ حکومت کو کارکردگی بہتر کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں میثاق جمہوریت کی ضرورت نہیں۔میثاق مدینہ اور قرآن کے احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ان جمہوری معاشروں میں جہاں احتساب اور امانتیں ضائع ہو رہی ہوں ۔نا انصافی اور ظلم کی ذمہ داری ایسے اداروں یا افراد پر عاید ہوتی ہے جو بنی نوع انسان اور اللہ تعالیٰ دونوں سے کئے ہوئے وعدے کو توڑتے ہیں ۔ جب بھی کوئی منتخب تنظیم یا فرد اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا لازمی نتیجہ مختلف معاشرتی برائیوں کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
اسی لئے قرآن کریم ہر قسم کی حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس احساس کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہوئے۔ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔جمہوری حکومت نے اپنی فوج کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کے عہدو پیمان کئے ہیں۔ ان کی پاسداری ضروری اور لازمی ہے۔ عہد شکنی کرنے والوں کو قرآنی تعلیم کے مطابق سزا ملتی ہے۔