نیشنل ایکشن پلان اور مشکلات
- اتوار 15 / نومبر / 2015
- 4258
پاکستان میں شدت پسندی و انتہا پسندی کا مسئلہ نیا نہیں البتہ اس نے گزشتہ ایک عشرے میں وطن عزیز کو نقصان پہنچایا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی معاملات اور ادارے مفلوج اور اس میں بسنے والے لوگ مفلوک الحال ہوگئے ہیں ۔ کسی بھی ادارے کی کارکردگی سیکورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں ہورہی۔
ملکی معیشت شدید دباؤ میں ہے ۔ کسی بھی شخص کو مذہبی ، سماجی ، اقتصادی و معاشرتی سرگرمیاں انجام دینے کیلئے آزادانہ ماحول میسر نہیں ہے ۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جس آزادی کا تصور لیکر ہمارے اجداد اور اکابرین ایک مکمل مذہبی اور جمہوری ریاست کا قیام عمل میں لائے تھے ، وہ اس طرح کی کیفیت و نتائج سے خالی ہے ۔ گڈ گورننس تو کجا گورننس جیسی کوئی شے ملک میں دستیا ب نہیں۔ فی زمانہ تو اس کا فقدان بہت شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ان دنوں ملک میں ایک جمہوری حکومت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ہر دور میں یہاں غیر ملکی و غیر جمہوری قوتوں نے مداخلت کی جس سے کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت نہیں پوری کرسکی ۔ اسی لئے نہ جمہور کی حالت بدلی اور نہ ملکی تعمیر و ترقی میں کسی قسم کی مثبت پیش رفت ہوسکی ہے ۔بہت سوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بار بار کی آمریت نے قوم کا ستیا ناس کردیا۔ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ دراصل یہ فوجی ادوار ہی ہیں جن کی بدولت وطن عزیز کی حفاظت ہوئی اور انہی کے کار حکومت سنبھالنے سے قوم متحد اور ملک کسی بھی انتشاری قوت سے بچا رہا ہے ۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کا مؤقف ہے کہ ہمارے جمہوری اداروں نے یا منتخب نمائندوں سمیت حکمرانوں نے کبھی ملکی ترقی و خوشحالی کی جانب عملی قدم نہیں بڑھایا اگر کوئی اقدام کیا بھی گیا تو اس میں زیادہ تر ذاتی نوعیت کا مفاد شامل حال رہا ہے ۔ انہوں نے کبھی کوئی ایسی حکمت عملی وضع نہیں کی جس سے جمہوری اداروں کو فروغ ملا ہو یا ریاست تر قی کی راہ پر گامزن ہوئی ہو۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ لوگ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا کام کرتے تاکہ پاکستان دنیا میں ایک ترقی یافتہ ملک کی پہچان پا سکتا۔ لیکن حکمرانوں کو اپنے کنبوں کی فلاح و بہبود نے اس قدر غافل کردیا کہ وہ عوام کا حق بھول گئے۔ اس کا مظاہرہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے سابقہ دور میں دیکھنے کو ملا۔ یہ دور ملکی سا لمیت اور ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے بہتر نہیں رہا ہے ۔ سیکیورٹی کے مسائل مشرف دور سے کئی گنا زیادہ تھے ۔ایک خوف کی فضا قائم ہوگئی تھی۔ شدت پسندی ، فرقہ واریت اور انتہاپسندی سمیت تما م تر تخریبی قوتوں کو جلا ملی۔ پی پی دور کے وزیر داخلہ اٹھتے بیٹھتے اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کو طالبان سے منسوب کرتے ۔اس طرح ایک ایسا ماحول بنایا گیا جو ملک و قوم کے لئے خطرناک ثابت ہؤا۔ وزیر موصوف نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے دہشت گردوں کی سرکوبی ہو سکتی۔
ہمارے ملک میں اکثریت کی رائے ہے کہ یہاں کوئی تخریب کاری کی کارروائی ہوتی ہے تو اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتا ہے۔ اس کو خارج امکان نہ بھی تصور کیا جائے تو بھی اس تاثر کا سب سے زیادہ فائدہ آج تک حکمرانوں نے ہی اٹھایا ہے ۔ انہوں نے جان لیا کہ معصوم اور بے شعور عوام کو جس جانب ہانک دو کام چل جائے گا ۔ حکومتی سطح پر داخلی و خارجہ پالیسی پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ریاست مخالف قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی ، کوشش کرتی ہیں کہ دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا چلن عام ہو، داخلی سطح پر امن وامان کی صورتحال خراب ہو، اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی میں دراڑیں ڈالی جائیں ۔ تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملک میں قائم سیاسی حکومت کا ریاست کی بقا کیلئے قائم مشترکہ میکینزم ٹوٹ جائے ۔
ضرب عضب سمیت ملک کے دہشت زدہ علاقوں میں جاری آپریشن کے اہداف یہی ہیں کہ ملک میں کہیں بھی انتشار کی کیفیت نہ ہو ، لوگ آزادانہ زندگی بسر کریں اور ملکی سلامتی اور اس کی ترقی میں مؤثر اور بھر پور کردار ادا کرسکیں ۔ ضرب عضب سمیت ملک میں جاری تمام آپریشنز دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کرنا مقصود ہے تاکہ تحفظ سے متعلق تما م خدشات دور کئے جاسکیں ۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اس طرح کے آپریشنز سے ملک میں تخریب کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ریاستی رٹ قائم کی جائے جس سے کسی بھی قسم کی اندرونی اور بیرونی مداخلت یا مصلحت پسندی کی روک تھام ہوسکے اور حکومتی سطح پر امن وامان کی صورتحال بہتر بنائی جاسکے۔ کیونکہ گمراہ کن طاقتوں کی کمر اسی وقت کی توڑی جاسکتی ہے جب سیاسی اور عسکری طاقتوں کے مابین ہم آہنگی ہو اور سیاسی سطح پر آپریشن سے متعلق امور طے ہوجائیں۔ اور عسکری قوت کو رسد پہنچانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
اس وقت ملک میں جاری شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کو عوامی سطح پر بھر پور پزیرائی حاصل ہے اور عوام ان کارروائیوں پر عسکری قیادت کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔ جس سے فورسز کے حوصلے بھی بلند نظر آتے ہیں۔ البتہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حکومت سے شکایت کی ہے کہ حکومتی سطح پر کئے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں ۔ آرمی چیف ٓپریشن کے نتائج سے مطمئن ہیں۔ لیکن منطقی انجام تک پہنچنے کیلئے انہیں حکومت کے مکمل اور بروقت تعاون کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔ خدشہ ہے کہ اگر گورننس کی بہتری نہ ہوئی تو جاری آپریشنز کی راہ میں رکاوٹیں آسکتی ہیں ۔جو قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ آرمی چیف کے اس خدشہ سے ایوان سیاست میں ہل چل سی مچ گئی ہے۔ ، سینٹ و قومی اسمبلی میں اراکین گورننس کی عدم دستیابی کی جانب اشارے کو مارشل لاء سے تعبیر کررہے ہیں ۔ کئی اراکین نے یہاں تک محسوس کرلیا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت آمریت کا راستہ ہموار کررہی ہے۔ انہی لوگوں نے باہمی اتفاق سے آپریشنز کی حمایت کی تھی اور فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئینی ترمیم بھی عمل لائی گئی تھی۔ مگر اب اس سے روگردانی کرکے قوم کو پھرسے خطرناک دوراہے پر کھڑا کیا جارہا ہے۔
یہ ایک اٹل اور نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے کہ ملک بہت سنگین حالا ت سے گزر رہا ہے اور کسی بھی ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھی آپریشن قلیل مدتی نہیں ہوتا ۔ اس کیلئے بھرپور اور وسیع پیمانے پر وسائل درکار ہوتے ہیں ۔ ان کا حصول پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے مشکل ضرور ہے لیکن اللہ کے نام پر قائم اس پاک سر زمین اور اس کے باشندے ہر طرح سے قربانیاں دینے کو تیار ہیں ۔ نیشن جس طرح ل ایکشن پلان کے لئے اتفاق رائے پیدا ہ[ا تھا ، اب بھی تمام اسٹیک ہولڈر ز کو مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کام کر نے کی ضرورت ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں دیر پا امن اور فوجی آپریشن کے طویل مدتی فوائد سمیٹنے کیلئے ہم آہنگی پیدا کرے۔ فوج کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے۔ تاکہ یہ آپریشن جلد مکمل ہو اور بے گھر خاندان اپنے گھروں میں جاکر آباد ہوں۔ تب ہی ملک ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکے گا ۔