یورپی مسلمانوں پر پیرس سانحہ کے اثرات

  • سوموار 16 / نومبر / 2015
  • 4252

14۔ نومبر 2015 کو پیرس میں خونخوار دہشت گردی میں 129 نہتے انسان زندگی سے ھاتھ دھو بیٹھے۔ دہشت گردی میں ملوث ہونے والوں میں ایک کی شناخت ہوچکی ہے۔ 29 سالہ عمر اسماعیل مصطفی نام کے اس شخص کا تعلق انتہا پسند سلفی وہابی مذہبی گروہ سے بتایا جاتا ہے۔ یہ شخص انتہا پسندانہ سلفی گروہ میں شامل ہونے سے پہلے مختلف قسم کی مجرمانہ کاروایئوں میں ملوث رہا ہے۔ مجرمانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ قریبی مسجد میں بھی باقاعدگی سے جایا کرتا تھا۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس مسجد میں ہی وہ انتہا پسندانہ سلفی اسلام کی جانب راغب ہؤا ۔ بعد ازاں اس نے 2013 ۔ 2014 کا عرصہ مشرق وسطی کے ملک شام میں گزارا۔ پیرس حملے ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا کہ ان حملوں میں ملوث آٹھ دہشت گرد بھی سلفی وہابی نظریات کے پیروکار تھے۔

سلفی وہابی شدت پسند نظریہ پر کاربند دہشت گرد تنظیم داعش نے پیرس میں وحشیانہ خونریزی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور ایسی ہی مزید خونریزی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ فرانس کے صدر نے پیرس میں قتل عام کو فرانس کے خلاف اعلان جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی مسلمان خوف کا شکار ہیں۔ ہر کوئی سمجھ رہا ہے کہ شدت پسند مسلمانوں کی دہشت گرد کاروایئوں سے یورپی عوام میں عام مسلمانوں کے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گا، سماجی خلیج وسیع تر ہو گی۔ نسل پرست گروہ مزید طاقتور ہوں گے، امیگرنٹس اور مسلمان مخالف سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ اس صورت حال میں آئیندہ عام مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت اورانتقامی کاروایئوں کے بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مسلمان ممالک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ مغربی مملک میں بھی اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ یورپی ممالک میں کئی انتہا پسند گروہ سرگرم عمل ہیں۔ یہ خدشات اکثر ظاہر کئے جاتے ہیں کہ ان میں سے کئی افراد یا گروہوں کا تعلق القاعدہ، طالبان، داعش، الشباب، بوکوحرام اور ان جیسی دہشت گرد تنظیموں سے ہو سکتا ہے۔ پیرس میں ہونے والی خوں ریزی اس کی تازہ مثال ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سلفی وہابی اسلامی نقطہ نظر مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائشیا، ایران، افریقہ اور مشرق وسطی کے ممالک میں واضع اکثریت اس شدت پسند اسلامی تشریح کو نہ صرف تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس کی شدید مخالف ہے۔ مگرسلفی انتہا پسندی نے بندوق کے بل بوتے پرمسلم ممالک میں اپنا حلقہ اثر بڑھانےکی کوشش کی ہے اورکئی مسلم نوجوانوں کو نام نہاد جہاد کے رومان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ باتیں بھی کہی جاتی ہیں کہ شدت پسند گروہوں کو طاقتور بنانے میں سعودی عرب، امریکہ اور کئی دیگر یورپی ممالک بھی حصہ دار رہے ہیں، جس کہ پیچھے ان ممالک کے سٹریٹیجک مفادات ہیں۔

امریکہ، یورپ اور سعودی عرب کے مفادات اور سلفی وہابی دہشت گردی کا شکار نہتے انسانوں کو بننا پڑ رہا ہے۔ یورپی اور مسلم ممالک میں نام نہاد جہاد کے نام پر نہتے شہریوں کو زندگیوں سے محروم کیا جا تا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بھی نہتےعوام زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

یورپ میں پیدا ھونے والے کسی مسلم نوجوان کا شدت پسندی کی طرف راغب ہونے اور پھر داعش جیسی خونخوار دہشت گرد نتظیم کی دہشت گردی کا عملی حصہ بننے سے ۔۔۔۔ یورپ میں کام کرنے والی مسلم مذہبی تنظیموں، مسلم علما اور والدین کے مذہبی رجحان، سرگرمیوں، کوتاہیوں اور یورپین معاشروں کے بارے میں ان کی سوچ کے بارے میں  کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

والدین اورعلما اپنے آبائی وطنوں کے سماج اور اسکی سماجی و ثقافتی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے یورپ میں پیدا اور پرورش پانے والے مسلم نوجوانوں کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ اور اس کے مطابق مذہب کی تشریح کرتے ہیں۔ جس سے کئی نوجوانوں میں ان معاشروں سے بیگانگی کا احساس بڑھتے بڑھتے انہیں معاشروں سے نفرت کرنے تک لے جاتا ہے۔ یہی مذہبی شدت پسندی  بعد ازاں دہشت گردی کی جانب رغبت کا باعث بنتی ہے۔
 
شاید یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو کہ یورپ میں پیدا ہونے والے مسلم نوجوانوں کے والدین اور ان کو مذہبی تعلیم دینے والے علما اپنے ذمہ داری سے جان بوجھ کر کوتاہی کر رہے ہیں۔ مگر یہ کہنا تو مناسب ہو گا کہ جن طریقوں سے یورپین مسلم بچوں کو مذہبی تعلیم دی جارہی ہے، اس میں بہت سی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یورپ میں بسنے والے مسلم والدین اور علما کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ یہاں پیدا ہونے والے بچے یورپین ممالک کے شہری ہیں اوران کا مستقبل ان ممالک سے ہی وابسطہ ہے۔ یہ بھی جلد باور کر لینا چاہئے کہ تنگ نظری پر مبنی مذہبی تعلیم یا سماجی و ثقافتی رویے ہمارے ہی بچوں کے مستقبل کی راہوں کے کانٹے بن جائں گے۔