خونچکاں پیرس۔۔۔

کیا پیرس کا المیہ جلد ہی بھلا دیا جائے گا !
کچھ لوگ شاید ایسا ہی سمجھتے ہوں۔ اور اگر سمجھتے ہیں تو یقیناًاحمقوں کے دوزخ میں رہتے ہیں۔ انہیں وہیں رہنے دیجئے۔

آئیے ہم آپ کو کل کا ایک چھوٹا سا اور بظاہر غیر اہم واقعہ سنائیں۔ یہ پیرس المیے سے اگلے روز کی بات ہے۔
ہم انڈر گراؤنڈ لوکل ٹرین سے شام کو گھر لوٹ رہے تھے۔ ہمارے ساتھ والی نشست پر یونیورسٹی کی تین پاکستانی طالبات بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ اس عمر کی لڑکیاں یہاں آپس میں عام طور سے نارویجین میں گفتگو کرتی ہیں۔ لیکن یہ دانستہ اردو بول رہی تھیں تاکہ باقی مسافر ان کی بات نہ سمجھ سکیں۔ ان میں سے ایک بتا رہی تھی کہ وہ آج اس ڈرسے حجاب پہن کرگھر سے نہیں نکلی کہ پیرس واقعے کے بعد کوئی انتہا پسند، اسے مسلمان سمجھ کر کہیں اس پر حملہ نہ کر دے۔ باقی دو نوں بھی اس سے پوری طرح متفق نظر آتی تھیں اور خاصی سہمی ہوئی تھیں۔

ہمارے خیال میں ان کے خدشات بالکل درست ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیئے کہ یہاں ان ملکوں میں تعلیم پانے والے بچے بچیاں حالات حاضرہ سے خاصے با خبر ہوتے ہیں ۔ ان کی تعلیم سوال کی حرمت اور ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوتی ہے، نہ کہ ہمارے ٹی وی چینلوں پر اچھل کود کرتے مسخروں اور کٹھ ملاؤں کی لغویات پر۔
اب اگر وہ ایسا سوچ رہے ہیں تو یہ ان کی ذہنی پختگی کی دلیل ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ اس موضوع پر کئی گھروں میں بات ہوئی ہو گی ۔ اور ہونی بھی چاہئیے۔ یہ تارکین وطن کی نوجوان نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

ان نوجوانوں کے لئے نہ تو یہاں کی معاشرت اجنبی ہے اور نہ ہی یہاں کی زبان اور جو مقامی سماج میں اس حد تک رچ بس چکے ہیں کہ اب خواب بھی یہیں کی زبان میں دیکھتے ہیں۔ سوچنے کی بات تو بہرحال ہے ہی کہ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے، یہ خود کو اجنبی اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ شرمندہ شرمندہ سے دکھائی دیتے ہیں۔ غیر ارادی طور پر دفاعی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ صفائیاں پیش کرنے لگتے ہیں۔
آخر کیوں ! اور کب تک۔ یہ تو بہت تھکا دینے والا عمل ہے۔
اپنا ر نگ ر وپ تو وہ تبدیل کر نہیں سکتے۔ اپنی برادریوں سے بھی کم از کم اس نسل تک تو ان کا تعلق کسی حد تک قائم رہے گا۔ مذہب کا رشتہ بھی ابھی برقرار ہے۔

لیکن اگر ایسے واقعات کا سلسلہ جاری رہا تو کیا یہ دینی ادارے اور خونی رشتے اتنے مضبوط ہیں کہ وہ آزاد اور منطقی سوچ رکھنے اور سوال کرنے والے ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ رکھ پائیں گے۔ اورتا بہ کے !!!
جب بھی ضروری کاموں سے فرصت ملے، اس پر سوچیئے ضرور۔ یہ آپ ہی کے بچے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو اب “ ۔۔ نہیں نہیں ! کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔۔ اور اسلام تو امن کا مذہب ہے۔۔ یا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ، جیسے دلائل اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔ یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ پڑھے لکھے معقول نوجوان اب اس سے کچھ زیادہ مانگتے ہیں۔ اور ٹھیکیداروں کے پاس دینے کوکچھ ہے نہیں !

حیرت ہوتی ہے شکست خوردہ ذہنیت پر کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے، تقابل اور موازنے کی تلواریں لئے بہت سے کاغذی حق پرست میدان میں اتر آتے ہیں۔ صدیوں سے جوتے کھاتے چلے آنے والے گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنی عظمت رفتہ اور اسلاف کے کارنامے بیان کرنے لگتے ہیں۔ مظلومیت کے رونے روئے جاتے ہیں کہ وہاں ہمارے اتنے مارے گئے ۔ یہاں اتنے شہید ہوئے کوئی نہیں رویا ۔اب اپنے چند مارے گئے ہیں تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہاں جب اپنے شہیدوں کا ذکر کرتے ہیں تو یہ نہیں بتاتے کہ ان میں سے کتنے کافر قرار دے کر مارے گئے۔ کتنے فلاں فلاں دائرے سے خارج کئے گئے۔ مارنے والے اچھے مسلمان تھے کہ مرنے والے۔ کون جنت میں جا رہا ہے۔ کون جہنم میں۔

اور پھر امہ امہ کرنے اور خلافت کی باتیں کرنے والے اتفاقاٌ یہ بتا نا بھی بھول جاتے ہیں کہ خلافت ٹوٹی کیسے۔ وہ جو کلاہ لالہ رنگ تھی وہ زمانے میں رسوا ہوئی کیوں کر۔ اور یہ جو کشت بنیاد کلیسا ہے اس کے سل بند یعنی بھٹہ مزدور تھے کون اور کہاں سے مٹی لائے تھے۔
اور پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بھٹہ مزدوروں نے نئی اینٹیں بنانی چھوڑ دی ہیں۔ بلکہ لگتا تو یہی ہے کہ اسی مقدس مٹی سے نئی نئی اینٹیں بنائے جا رہے ہیں۔ روزگار جو ہؤا !!

واقعہ یہ ہے کہ قاتلوں، بردہ فروشوں، ریپسٹ اور جلادوں کا ایک منظم ٹولہ ہے جو جیتے جاگتے انسانوں کے گلے کاٹنے، عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح منڈیوں میں میں فروخت کرنے ، کمسن بچیوں سے درندگی کرنے اور شدید جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچا کر شیطانی تلذز حاصل کرنے کے مکروہ عمل میں مصروف ہے اور اس پر اسلام کا ٹھپہ لگا کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ذلت ا و رسوائی کا سبب بن رہا ہے۔

حیف صد حیف ان پر جو اس کی کھلی یا درپردہ حمایت کرتے یا اسے ناپختہ ذہنوں کا ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، یہ المیہ اتنی جلدی بھلایا نہ جا ئے گا۔ فرانس ہی میں آنے والے انقلاب نے دنیا کا نظام بدل دیا تھا۔ فرانس کا صدر جب یہ کہتا ہے کہ مجرموں کا بے رحم احتساب ہو گا ، تو وہ کوئی لطیفہ نہیں سنا رہا ہوتا۔ اب یوروپ وہ نہیں رہے گا جو وہ اب تک تھا۔ پیرس اور اس سے پہلے ہونے والے ایسے تمام واقعات یوروپ کے اجتماعی حافظے میں محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ جو سرحدیں کھل رہی تھیں اور جس شینگن میں پاسپورٹ کے بغیر سفر کرنا آسان بنایاجا رہا تھا، وہاں اب کنٹرول کی کوئی صورت دوبارہ لانے کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ اور تب برسوں کی جدو جہد کے بعد یہ ساری آزادیاں اور سہولتیں حاصل کرنے والے یوروپین انہیں دوبارہ کھو دینے پر اتنے خوش نہیں ہوں گے۔ اور جنہیں وہ اس سارے فساد کی جڑ سمجھیں گے، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں کون ہوں گے۔

تو پھر ایسے میں اگر ٹرین میں سفر کرنے والی طالبات فکر مند نظر آئیں تو اچنبھے کی کیا بات ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن پناہ گزینوں کے لئے یوروپ نے اپنے دل اور دروازے کھول دیئے تھے ، ان کے لئے اب اس کے دل میں جگہہ شاید تنگ ہونے لگے۔