لیجئے! یہ صاحب بھی امن کے خواہاں ہیں
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 17 / نومبر / 2015
- 7951
روسی صدر نے اے کے 47 اسالٹ رائفل کے موجد میخائل کلاشنکوف کو ان کی 90ویں سالگرہ پر ”روس کا ہیرو“ کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ صدر نے کہا کہ ”اس طرح کے غیرمعمولی واقعات ہر روز رونما نہیں ہوتے“۔ انہوں نے میخائل کلاشنکوف کی ایجاد کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ کلاشنکوف نے پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے دنیا کے ہر کونے میں اس رائفل کی آواز سنی جاتی ہے اور اس کی گونج پر روس جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کلاشنکوف“ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے روسی الفاظ میں سے ایک ہے۔
ادھر عالمی سطح پر مشہور AK-47 کے موجد کلاشنکوف اپنی سالگرہ کی خوشی کے موقع پر بھی بعض باتوں پر افسوس ظاہر کرنے سے نہیں چوکے۔ ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ کلاشنکوف نے اپنی سالگرہ کی تقریب میں احباب سے کہا ہے کہ طویل عمر کی بظاہر کوئی معنویت نہیں، ابھی مجھ میں زندگی کی حرارت باقی ہے تاہم یہ دن ایک اہم دن ہے اور اس موقع پر جشن کا اہتمام ضروری ہے۔ اس غیر معمولی شخص نے اپنی 90ویں سالگرہ کی تقریب میں جو ٹائی باندھ رکھی تھی اس پر AK-47 کی شکل کی ٹائی پن لگی تھی۔ دنیا کو دہشت زدہ کر کے رکھ دینے والی اس ایجاد کے موجد نے ماسکو سے 1300 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع اپنے آبائی شہر اژیوسک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی ایجاد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ دوران گفتگو انہوں نے اپنی حب الوطنی کے گیت گائے اور امن کی توقع کی۔
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ آج جب دنیا میں ایک شے دہشت گردی کی علامت بن چکی ہے اسی شے کا موجد دنیا میں امن کا خواب دیکھ رہا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں بات کر رہا ہوں اے کے 47 کلاشنکوف رائفل کے موجد میخائل کلاشنکوف کی (جسے جمیل الدین عالی اپنی درفنطنی سے کلاش نکوف کہتے ہیں) اس رائفل کے ستھ ہمیشہ کیلئے اپنا نام جڑ جانے پر فخر کرنے والے شخص نے آرزو کی ہے کہ ”میں دنیا کو چھوڑ کر جانے سے پہلے چاروں طرف امن دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری آرزو و تمنا ہے کہ دنیا میں قتل و غارت اور جنگ بند ہو جائے اور سیاستدان اپنے مسائل بات چیت و مکالمے سے حل کرنا سیکھ لیں“۔
دہشت گردوں کے لئے آج کے سب سے بڑے کارآمد ہتھیار کے موجد نے اے کے 47 رائفل بنانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتاتھا کہ یہ رائفل ایک روز تشدد پھیلانے کا ذریعہ بن جائے گی، میں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن افواج کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے ملک کے فوجیوں کیلئے یہ رائفل بنائی تھی تاکہ ان کے پاس ایک نیا اور قابل اعتماد ہتھیار ہو سکے۔ روسی فوج میں کمانڈر رہ چکے میخائل نے ان الزامات کی تردید کہ وہ یا ان کی رائفل دنیا میں ہوئی لڑائیوں کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف رائفل جنگ کاسبب نہیں بن سکتی آج کل دنیا میں بے شمار ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں اس لئے کلاشنکوف کو کسی جنگ کے ساتھ منسلک یا منسوب کر کے دیکھنا غلط ہے۔
میرے حساب سے میخائل کلاشنکوف اپنی رائفل کے بارے میں خواہ کچھ بھی صفائی دے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہشت کی علامت رائفل اپنی ساخت اور تکنیکی صلاحیت کی وجہ سے آج دہشت گردوں، انتہاپسندوں، عسکریت پسندوں، فدائیوں اور قاتلوں کا من پسند ہتھیار بن چکی ہے، دنیا کے کچھ حصوں میں تو یہ گھڑیوں، شیونگ بلیڈ، فونٹین پن اور چھریوں سے بھی زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ پانی مٹی ریت اورہوا کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا، سائز کی وجہ سے اس کی اسمگلنگ بھی آسان ہے۔ ہتھیاروں کی ایک کمپنی کے مطابق اے کے 47 دنیا کی سب سے اہم اور سب سے زیادہ استعمال میں آنے والا ہتھیار ہے۔ دنیا میں اب تک 25 کروڑ سے زائد AK-47 فروخت ہو چکی ہیں۔اس سوال پر کہ افریقہ اور ایشیا کے کئی دہشت پسند گروپوں نے اپنے گروہ میں شامل بچوں کے ہاتھوں میں یہ خطرناک ہتھیار دے رکھا ہے۔ ناراض میخائل نے کہا کہ ”انہیں اس بارے میں علم نہیں وہ اس کے بارے میں قطعی نہیں جانتے، اس کے باوجود اگر ایسا ہے تو یہ ان کا قصور نہیں کیونکہ انہوں نے بچوں کے ہاتھ میں فائل نہیں تھمائی، شاید غربت نے ایسا کیا ہو“۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان رائفلوں کی فروخت سے جہاں اسمگلروں، ہتھیار بنانے والی کمپنیوں اور دہشت گردوں کو مال سپلائی کرنے والے اسلحہ کے ڈیلروں نے کروڑوں ڈالر کمائے ہیں وہاں میخائل نے صرف 593 ڈالر کی سرکاری پنشن پر گزارہ کر رہے ہیں، یعنی کوئلے کی دلالی میں منہ کالا۔ میخائل کلاشنکوف کو خود اس رائفل کی ایجاد سے ایک پیسہ نہیں ملا کہ سابقہ سوویت یونین میں موجدوں کو اپنی دریافت اور ایجاد کو عوام کے نام پیٹنٹ کروانی پڑتی تھی، ان پر ان کا ذاتی کوئی حق نہیں ہوتا تھا، یہ ایک الگ بات ہے کہ میخائل پیسے کو زندگی کی سب سے اہم چیز نہیں مانتے، ایک سوشلسٹ کی طرح ان کی نظر میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے، وہ امن کے خواب دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں دنیا بھر میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے جنگ کی تمنا ہو گی کہ وہ لوگ جو جنگ کے مضمرات اور خوفناک حالات سے واقف ہیں وہ دل ہی دل میں جنگ کے خطرناک نتائج سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ کلاشنکوف کا موجد کہتا ہے ”یقین جانئے اگر دنیا اس کوشش میں لگ جائے تو ہتھیاروں پر برباد ہونے والی ساری دولت انسانوں کے بہتر کاموں پر خرچ ہو گی اور لوگ راحت و سکون، امن و شانتی کی پُرلطف زندگی جی سکیں گے اور اس کے نتیجہ میں وہ دنیاوجود میں آئے گی جس کیلئے انسان کو بنایا گیا ہے۔
نوے برس کے اس بوڑھے کو جو سائبیریا کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوا اپنی ایجاد پر تھوڑا سا پچھتاوا بھی ہے، وہ کہتے ہیں ناں کہ ابھی تک ایسی کوئی گن ایجاد نہیں ہوئی جو صرف ایک سمت میں چلتی ہو۔ یاد رہے کہ اس وقت لگ بھگ 87 ملکوں میں یہ رائفل قانونی طور پر استعمال ہورہی ہے۔
کاش! جمہوریت کے پاس بھی کوئی ”کلاشنکوف“ ہوتی..... کاش.....