نظام عدل و انصاف کی بنیاد

یہ صحیح ہے کہ ملک،معیشت و معاشرہ ہر سطح پر سیاست کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اہل اقتدار اور ان کا نظریہ معیشت اور معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ذہین و فطین اور بالغ نظر افراد،ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں اور سرگرمیاں بھی معیشت و معاشرہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس طرح مختلف نظریات ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں ۔

گزشتہ دنوں یاست بہار میں اسمبلی الیکشن اختتام پذیر ہوئے۔اس موقع پر دو نظریوں کے درمیان جو کھل کر اختلافات سامنے آئے،ان کی بنیاد پر ایک نظریہ غالب تو دوسرا مغلوب ہوا۔گرچہ بظاہر مغلوب ہونے والوں کے پاس بے شمار وسائل تھے،تعداد کے اعتبار سے وہ اکثریت میں تھے،اہل اقتدار ہونے کے نتیجہ میں بھی انہیں کئی طرح کی آسانیاں فراہم تھیں،اس سب کے باوجود وہ مغلوب ہو گئے۔کیونکہ جس نظریہ و فکر کی بنیاد پر انہوں نے اپنے افرادکی فکری ،نظریاتی اور عملی تربیت کی تھی،وہ ناقص اورحد درجہ کمزورتھی ۔ساتھ ہی وہ خود اندرونی طور پرایک عجیب و غریب کشمکش میں مبتلا تھے اور آج بھی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔کئی مرتبہ ہمیں یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہندو درحقیقت بھارت میں اکثریت میں نہیں ہیں۔کیونکہ خود ان کے درمیان اس قدر طبقات اور عبادات کے مظاہر موجود ہیں،جن کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ایک ہیں۔"یہ تو بس بہت تھوڑے سے لوگ ہیں جو منووادی نظریہ کو فروغ دینا چاہتے ہیں"۔ اس کے برعکس دیگر ہندو ان سے الگ ہیں،ان کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے،وہ مختلف بھگوانوں(مورتیوں ) کی پوجا کرتے ہیں،یہاں تک کہ ان کی مذہبی کتابیں بھی الگ ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اہل علم کی باتیں درست ہیں تو پھر وہ مختلف طبقات و گروہ اپنے شادی بیاہ اور زندگی و موت کے مراسم کون سے طریقہ سے ادا کرتے ہیں؟یہی نہیں بلکہ جس مورتی پوجا کے وہ قائل ہیں اس کی بنیاد کیا ہے؟شاید یہ اُن کے نظریہ،فکراور رسم و رواج کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں ۔پھر یہی دوباتیں شاہد ہیں کہ ہندوا گرچہ مختلف طبقات و گروہ میں منقسم ہیں اس کے باوجود وہ ایک ہیں۔ان کا نظریہ ایک ہے،ان کا عمل ایک ہے،ان کا نصب العین ہے ۔

اسی طرح اگر مسلمانوں کی بات کی جائے تو مسلمانوں کو ہر سطح پر اصلاح کی ضرورت ہے،ساتھ ہی اُس جذبہ ہمددردی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،جس کے نتیجہ میں وہ خود کواور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ،دو الگ خانوں میں تقسیم نہ کریں۔لازم ہے کہ جس ایک خدا نے انہیں پیدا کیا وہی خدا تمام انسانوں کو پیدا کرنے والا ہے لہذا ملک میں پائے جانے والے تمام ہی مذاہب کے افرادایک خدا کے بندے ہیں آدم ؑ کی اولاد ہیں ۔لہذا وہ اور ہم ایک ماں باپ کی اولاد اور بھائی بھائی ہیں ۔

گفتگو کے پس منظر میں ملک و اہل ملک کی بہتری ،اس کے افراد کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ نیز ذمہ داریوں کی ادائیگی تب ہی ممکن ہے جبکہ ہم خود نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوں بلکہ متوجہ بھی ہوں۔ ساتھ ہی غفلت سے پرہیز کریں۔  دوسری جانب جب ہر سطح پر علم بھی بہم پہنچایا جائے، صلاحیتوں کا ارتقاء  ہو، اورمختلف محاذ پر سعی و جہد کا آغاز بھی کیا جائے۔ یہ کام اگر کوئی فرد انجام دینے کا حوصلہ رکھتا ہے تو وہ ضرور کرے ۔ تاہم یہ کام اجتماعی سعی و جہد کے نتیجہ میں ہی ممکن ہے۔ نیتجہ میں غلط فہمیاں دور ہوں گی  ،لاعلمی کا خاتمہ ہوگا، تعصب کی فضا ختم ہویا کم از کم اس کی شدت میں کمی آئے گی ۔لیکن اس موقع پر لازماً یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دعوت و تربیت اور عملی جدوجہد کو سب سے پہلے داعی کی شخصیت اور ذاتی کردار پر مرتب ہونا چاہئیے۔ ورنہ اپنی اصلاح کئے بغیر معاشرہ کی درستی کا بیڑا اٹھایا  جانا ،کامیابی کی جانب پیش رفت نہیں بلکہ تباہی کا آغاز ہی ہے۔