سبز پاسپورٹ صرف کاغذ نہیں۔۔۔

سبز پاسپورٹ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ۔ بلکہ ایک فخر ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے پاس سبز پاسپورٹ ہے۔کیوں کہ میں ایسے ملک کا شہری ہوں جس کی بنیادوں میں اپنی جانوں کی قربانیں دینے والے ایسے گمنام شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے جنہوں نے موت کو مسکرا کر گلے لگایا ۔ مجھے آج اپنے ایک عزیز رانا صاحب کے لفظوں کی سمجھ آ رہی ہے جو ایک طویل عرصہ دیارِ عرب کے باسی رہے۔ وہ اکثر جب ہمیں بتاتے تھے کہ تقسیم کے اس وقت کا میں گواہ ہوں جب پردے لٹ رہے تھے۔ جب گردنیں کٹ رہی تھیں۔ جب سروں کے مینار قائم ہو رہے تھے۔

رانا صاحب اس وقت اپنے بزرگوں کے کندھوں پہ سوار نئے دیس میں پہنچے ۔ ایک جگہ پہنچے تو دشمن نے حملہ کر دیا۔ لاشوں کے درمیان گرتے پڑتے پاکستان پہنچے ۔ اسی لئے آج پاکستان کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں۔ وہ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ وطن ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جن کی رگوں میں بے وفائی کا بیج تناور درخت بن چکا ہے۔ بلکہ یہ دیس ان لوگوں کی وراثت ہے جن کی رگوں میں شہیدوں کا لہو آج بھی زندگی بن کر دوڑ رہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ عدنان سمیع خان کے بوجھ سے اس دھرتی کو نجات ملی کیوں کہ یہ دھرتی کم عقلوں کو بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ایک بازو قلم کروا چکی ہے۔ قصور عدنان سمیع کا ہرگز نہیں وہ افغان و کشمیر کا ایسا امتزاج شخص تھا جو کبھی بھی پاکستانی نہیں بن سکا۔ " سرگم " کی تخلیق ہرگز ممکن نہ ہوتی اگر پاکستان نہ ہوتا۔ یہ جو آج لہک لہک کر سُر بکھیرے جا رہے ہیں، یہ ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر پاکستان کا سبز پاسپورٹ موصوف کے پاس نہ ہوتا۔ لیکن یہ دھرتی تو ایسے میر جعفر و صادق کا بوجھ اٹھاتی آئی ہے۔ اسی لئے تو اس دھرتی نے قیامت تک رہنا ہے کیوں کہ یہ اپنے سینے میں نگینوں کے ساتھ ایسے کھوٹے سکوں کو بھی سمو لیتی ہے جو اس کے قابل بھی نہیں ہوتے ۔

کچھ عرصہ پہلے ایک حسین حقانی عقل کل سمجھے جاتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ ان کے ہاتھ میں خنجر تھا اور وطن عزیز کی کمر تھی۔ جتنی اعلیٰ جگہ پر حقانی پہنچا اتنی اہم جگہ پر پہنچنا شاید کسی محب وطن پاکستان کے بس کی بات بھی نہیں۔ کیوں کہ حقانی جیسے غدار ہی شاید اعلیٰ ترین دستاویز تک پہنچنے کی سکت رکھتے ہیں۔ آج کیا کسی کی بھی توجہ اس جانب ہے کہ حقانی جیسا غدار کیسے وطن عزیز میں اہم ترین عہدے تک پہنچا؟ وہ دوران ملازمت کیسے پاکستان کا ملازم ہونے کے بجائے اپنے آقاؤں کو خوش کرتا رہا؟ وہ کن کن لوگوں سے ملا؟ وطن عزیز کو کس کس طرح سے نقصان پہنچایا؟ کون سی اہم دستاوایزت اس کی دسترس میں تھیں؟ وہ کہاں کہاں پہنچائی گئی ہوں گی؟ اور ان سے وطن عزیز کی بنیادوں کو کس طرح آج تک کھوکھلا کیا جاتا رہا ہو گا۔

عدنان سمیع کو بھی ہم حقانی پارٹ ٹو کہیں تو شاید بے جا نہیں ہو گا۔ محترم کو شاید اس بات کی خبر نہیں کہ غداری انہوں نے اس دیس کے ساتھ نہیں کی بلکہ شاید اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون سے کی ہے کیوں کہ شاید وہ یہ بھول گئے کہ ان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان کی فضائیہ کا اہم حصہ رہتے ہوئے اپنی بہادری کی بنیاد پر ستارہء جرات پا چکے ہیں۔ عدنان سمیع کو تو شاید اپنے والد سے آگے کسی کا نام تک یاد نہ ہو لیکن انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریت ترک کی ہے بلکہ اپنے دادا جنرل محفوظ جان کی وراثت سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ عدنان سمیع خان جس سبز پاسپورٹ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بنیادی طور پر انہوں نے اپنے باپ کی توہین کی ہے کیوں کہ اسی سبز پاسپورٹ رکھنے والے ان کے والد کو کم و بیش سات میڈلز سے نوازا گیا۔ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ جو کوئی کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتے ہیں ، اس کا احسان زندگی بھر نہیں بھولتے لیکن عدنان سمیع خان شاید احسان فراموشوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو احسان پر بھی حق سمجھتی ہے۔ اسی لئے تو وہ یہ بھول بیٹھے کہ ان کے والد کو علاج کے لیئے بیرون ملک اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے ہی بھجوایا تھا۔

عدنان سمیع خان کو صرف سبز پاسپورٹ نہیں بلکہ ان اکیس توپوں کی سلامی سے بھی دستبرداری کا اعلان کر دینا چاہیے جو ان کے والد کی وفات پر ان کو ملی۔کیوں کہ جو شخص سبز پاسپورٹ کے قابل نہیں وہ کیسے ایک ایسے شخص کی وراثت سنبھال سکتا ہے جس کے بدن پر وردی رہی ہو۔ عدنان سمیع خان کے جانے سے اس دھرتی پر کوئی حرف نہیں آئے گا کیوں کہ یہ دیس حقانی، عدنان، اور بہت سے ایسے دیگر لوگوں کو اپنے پاؤں پر چلنا سکھا چکی ہے جو اسی کی جڑیں کھوکھلا کرناکے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عدنان سمیع نے تو شاید اس قوم کو ایک تحفہ دیا ہے۔ اس دھرتی سے ایک ایسا بوجھ ہٹا کر جو اس پر مسلط تھا۔

پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہنے کے لیے کسی بھی ایک شخص کا محتاج نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو اتنی وسیع دھرتی ہے جو اپنے دشمنوں تک کو پالتی ہے۔ اور پھر ان کی زبان کے نشتر بھی سہتی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آستینوں کے سانپ پہچانیں۔ ہم اپنے اندر موجود ایسے دشمنوں کو پہچانیں جو صرف کوٹ کا کالر پہرسبز ہلالی پرچم سجاتے ہیں لیکن دلوں میں دشمن سے وفاداری کے عہد نبھا رہے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی شناخت بہت ضروری ہے۔ عدنان جیسے لوگوں کی منزل شاید پاک دھرتی ہو ہی نہیں سکتی جو سبز پاسپورٹ کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے اپنے باپ کے مردہ وجود کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا بھی نہیں دیکھ پاتے۔