فرسودہ نظریاتی ڈھانچہ
مسلمان کی قانونی و مذہبی تعریف اور احمدی مسئلے کی مذہبی، سماجی اور سیاسی جہتوں سے اس بحث کا کوئی تعلق نہیں کہ ایک سماج عمومی طور پر عدل و انصاف، حق گوئی اور فرد کے بنیادی حقوق کے سماج کے اندر سے ہونے والے دفاع کے کیا کم سے کم معیارات رکھتا ہے۔
فی الحال مسئلہ یہ ہے کہ سماج کے ایک طبقے کے خلاف صرف مذہبی بیانئے کے ذریعے اس حد تک نفرت پھیلائی گئی ہے کہ ایک ایسا فرد جو کسی مذہبی بیانئے سے بالاتر ہو کر اسی معاشرے کے کسی دوسرے ایسے فرد کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہونا چاہے، خود بھی نفرت کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ ایسے میں پولیس اور ریاست کو قصور وار ٹھہرانا، اس لئے غیرمعقول ہے کہ یہاں پر کم از کم ایک غیرشعوری طور پر ہی سہی، اپنے آپ کو فخر سے سنی یا شیعہ کہنے والا مسلمان اپنے اندر اتنی اخلاقی قوت مجتمع کرنے سے قاصر ہے کہ کسی احمدی کو مظلوم سمجھتے ہوئے اس پر ہونے والی زیادتی کی کسی اگر مگر کے بغیر مذمت ہی کر سکے۔ کم و بیش یہی حالت دوسری تمام اقلیتوں کی ہے۔
ان حالات میں ایک ایسا انسان جو مذہب کو بہرحال ایک آفاقی اخلاقی قدر کے طور پر اپنی زندگی میں اہم ترین مانتا ہے، اس بات پر مجبور ہے کہ روایتی مذہبی طبقات کی بجائے ان طبقات کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جن کے نزدیک مذہب کو جدید قومی ریاست کے ایک نظریاتی عضو کے طور پر ماننے سے صرف لاینحل سماجی مسائل ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ فرد کی جان و مال کے لئے بھی خطرہ بنتے ہیں۔ ایسے میں سماج میں موجود روایتی مذہبی طبقات کا اگر مگر کرتے ہوئے ساری ذمہ داری ریاست کے قانونی ڈھانچے پر ڈال دینا محض پتلی گلی سے نکل لینے کی ایک بچگانہ حرکت ہے جو اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب اس کو ایک دلیل کے طور پر استعمال کرنا فضول ہے۔
اگر ریاستی حکم کے ذریعے کسی طبقے کو غیر مسلم قرار دلوانا، سماجی مذہبی تحریکوں کے ذریعے ممکن ہے تو پھر سماج میں ایسی مذہبی تحریکیں کہاں ہیں جو دیگر مذاہب اور طبقات کے خلاف پھیلنے والی نفرت کے آگے بند باندھیں؟
ایسا بند باندھنا چونکہ جدید ریاست کی سماجی و سیاسی جہت سے تعلق رکھتا ہے اور چونکہ ایسی مذہبی تحریکوں کا مستقبل قریب تو کیا مستقبل بعید میں بھی اس معاشرے میں پیدا ہونا ناممکن نظر آتا ہے، اس لئے مذہب، اگر کسی ایسی آفاقی قدر کا دعوے دار ہے جو کسی معاشرتی نظریے کی بنیاد ہے تو یہ محض بے معنی لفاظی ہے۔ اسے ایک ایسا آدرش ماننا بھی ناممکن ہے جس کی طرف پیش قدمی کے لئے کسی ممکنہ راستے کے خدوخال پر بھی اصرار کیا جا سکے۔
اگر کوئی اس استدلال سے اختلاف رکھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ ہمیں مذہب کا وہ عملی سماجی بیانیہ دکھائے جس کے ذریعے اپنے آپ کو سنی یا شیعہ مسلمان کہنے والا شخص خود کو احمدی مسلمان کہنے والے شخص، اپنے آپ کو ہندو، سکھ یا عیسائی کہنے والے شخص کے ساتھ، کسی شعوری یا غیر شعوری جبر کے بغیر میل جول قائم کر سکے۔ اس سے تعلقات قائم کر سکے، دوستی کر سکے، گہری دوستی کر سکے، محبت کر سکے۔
اور یہ سب کچھ ایسے کر سکے کہ اس پر اٹھنے والی آواز کا جواب دینے کے لئے، اس کی طرف بڑھنے والے ہاتھ روکنے کے لئے معاشرے سے ایک مذہبی تحریک آگے آئے۔
اگر ایسی مذہبی تحریک چلانا ممکن نہیں تو پھر اس سارے کھوکھلے نظریاتی ڈھانچے کو زمین بوس کر دینا ہی فرد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرت کے لئے بہتر ہے۔ یہ نظریاتی ڈھانچہ اپنے مقابل کھڑے نظریاتی ڈھانچوں پر پھبتیاں کسنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟
(بشکریہ dunyapakistan.com لاہور)