تیسری عالمی جنگ کے آثار اور امکانات
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 22 / نومبر / 2015
- 5577
پیرس حملوں کے بعد دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے تمام رکن ملکوں سے کہا ہے کہ شدت پسند گروہ داعش سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی جدوجہد کا حصہ بنیں۔ فرانس نے 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دہشت گرد گروہ کے مراکز پر حملوں کے علاوہ اب باقاعدہ جنگ کے لئے فرانسیسی طیارہ بردار جہاز بھی علاقے میں روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے روس، دولت اسلامیہ اور شام میں سرگرم متعدد عسکری گروہوں کے خلاف بمباری کا آغاز کر چکا ہے۔ تاہم یکم نومبر کو اس کا مسافر بردار طیارہ مصر کے علاقے سینائی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ طیارہ بھی دولت اسلامیہ کی دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا۔ اس حادثہ میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے شہریوں کی ہلاکت کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ بڑی طاقتوں کے لیڈر بھی یہ بات جانتے ہیں کہ انتقام کی باتیں عوام کی تشفی کی حد تک تو درست اور ضرورت ہو سکتی ہیں لیکن عملی طور پر ایک ایسے گروہ سے انتقام لینا آسان نہیں ہے جو کسی خاص علاقہ تک محدود نہ ہو اور نہ ہی جس کے پاس باقاعدہ فوج ہو۔ یہ گروہ اپنے گمراہ جنگجوﺅں کی مدد سے تباہی پھیلانے اور ہلاکتوں کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بھی سمجھتا ہو۔ سینائی میں روسی جہاز کو گرانے اور پیرس مں چھ مقامات پر حملے کر کے انسانوں کو ہلاک کرنے کے سانحات سے بھی یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ یہ گروہ دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرح محض چھپ کر وار کرنے اور روپوش ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کسی ایک واقعہ میں ملوث ملزموں کو تلاش کر کے تو سزا دی جا سکتی ہے لیکن اس عمل کے پیچھے کارفرما عوامل کا سراغ لگائے بغیر اس قسم کی تباہ کن تحریک کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔
داعش نے عراق میں امریکی فوج کشی کے بعد سنی احتجاجی تحریک سے قوت حاصل کی اور پھر جب شام کے بشار الاسد کی حکومت کو ظالم اور شیعہ حکومت قرار دے کر ختم کرنے کے لئے عرب ملکوں نے اپنے خزانوں کے منہ کھولے تو اس گروہ سے وابستہ لوگوں نے بھی ان وسائل سے استفادہ کیا۔ تاہم ان کے عزائم عرب حکومتوں کے ارادوں سے مختلف تھے۔ عرب ممالک دمشق سے بشار الاسد کی نام نہاد شیعہ حکومت کو ہٹا کر ایسی حکومت قائم کرنے کی خواہش رکھتے تھے جو تہران کی مخالف ہو اور اس علاقے میں تسلط اور اثر و رسوخ کے لئے عربوں کا بھرپور ساتھ دے۔ اس طرح یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ شام پر ” قبضہ“ کے بعد لبنان میں شیعہ عسکری گروہ حزب اللہ کو بھی لگام دی جا سکے گی۔ اسی لئے اس منصوبہ کو امریکہ و مغربی ممالک اور اسرائیل کی بھی تائید و حمایت حاصل ہو گئی تھی۔ کیونکہ یہ سب ملک بھی حزب اللہ کو ایران کی توسیعی قوت اور اسرائیل کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ 2006 میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست تصادم میں اس عسکری گروہ نے اپنی صلاحیت اور قوت کا لوہا منوایا تھا۔
اس بات میں شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ قابل تحسین نہیں تھا۔ انہوں نے بھی اپنے والد حافظ الاسد کی طرح طاقت کے زور پر شام پر تسلط برقرار رکھا تھا۔ مخالفین کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر خاموش کروایا جاتا۔ جیلیں سیاسی مخالفین سے بھری رہتیں اور ذرا سی مزاحمت پر ریاستی ادارے سخت ردعمل ظاہر کرتے۔ اس کے علاوہ بشار الاسد علوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جو شام میں ایک چھوٹی سے اقلیت ہے جبکہ ملک کی اکثریت سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عقیدہ یا مسلک کی بنیاد پر لوگوں کو تعصب یا ظلم و ستم کا نشانہ بناتے تھے۔ بلکہ بشار الاسد بھی اپنے والد حافظ الاسد اور عراق کے لیڈر صدام حسین کی طرح وسیع المشرب اور سیکولر تھے۔ انہوں نے خواتین کو آزادی دی ہوئی تھی اور مذہبی انتہا پسندی کا نام و نشان شام میں نہیں تھا۔ البتہ دسمبر 2010 میں ”عرب بہار“ کے نام سے مختلف ملکوں میں آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد کا آغاز ہؤا تو شام میں بھی لوگوں نے بشار الاسد کی جابرانہ حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھا۔
بیرونی مداخلت سے جلد ہی یہ عوامی احتجاج عسکری مزاحمت میں تبدیل ہو گیا اور اس نے ایسی خوفناک خانہ جنگی کی صورت اختیار کی کہ 25 ملین آبادی کے اس ملک کی نصف آبادی بے گھر ہو گئی۔ 5 ملین کے لگ بھگ لوگ دوسروں ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے کئی لاکھ اب یورپ کے مختلف ملکوں میں پناہ لینے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں۔ ان کی کسمپرسی پر چند ہفتے پہلے تک یورپی عوام میں جو گرمجوشی پائی جاتی تھی، وہ پیرس قتل عام کے بعد اگر نفرت میں نہیں تو شبہ اور بے یقینی میں ضرور تبدیل ہو چکی ہے۔ اسی طرح بشار الاسد نے سیکولر ہونے کے باوجود اپنی حکومت بچانے کے لئے فرقہ واریت کو گلے لگا لیا۔ ایک طرف اسے ایران کی تائید حاصل ہوئی تو دوسری طرف حزب اللہ کے جنگجو اس کی مدد کو پہنچے اور داخلی طور پر وفادار فوج کھڑی کرنے کے لئے اس نے اپنے عقیدہ اور مسلک کے لوگوں پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔
ان حالات میں گزشتہ برس داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے اسلامی خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ گروہ عراق کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے جہادی عناصر پر مشتمل تھا۔ اس نے سنی سلفی مسلک کو نافذ کرنے کا اعلان کیا اور دیگر عقائد کے علاوہ مسلمان مسالک کے خلاف بھی اعلان جنگ کیا۔ خاص طور سے شیعہ آبادی اس کے ظلم و ستم کا نشانہ بنی تھی۔ اس کی وجہ جتنی مسلکی یا دینی تھی، اتنی ہی سیاسی بھی تھی۔ یہ گروہ دراصل عراق میں نور المالکی کی شیعہ پرست پالیسیوں اور سنیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ امریکہ نے جوش انتقام اور سیاسی خواہشات کے طوفان میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کو تو ختم کر دیا لیکن وہ ملک میں کوئی متبادل اور متوازن سیاسی انتظام لانے میں ناکام رہا۔ اسی طرح صدام حسین کے زوال کے بعد اس کی فوج میں شامل افسروں اور جوانوں کو نئی فورس کا حصہ بنانے کی بجائے انہیں تتر بتر کر دیا گیا۔ ان کی سہولتیں ختم کر کے اور انہیں انتقام کا نشانہ بنا کر بغاوت اور جنگ کی کیفیت پیدا کر دی گئی۔ لہٰذا جب داعش کے جنگجو متحرک ہوئے تو اس گروہ کو ان سابقہ فوجیوں اور ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہو گئیں۔ عراق کے ناراض سنی قبائل نے بھی اس شدت پسند گروہ کا ساتھ دیا۔ کیونکہ بصورت دیگر وہ نور المالکی کی عصبیت سے لبریز پالیسیوں کا نشانہ بن رہے تھے۔ عراق میں ان الجھنوں کا حل تلاش کرنے سے پہلے ہی شام کی خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جو اس علاقے میں قیام امن کی خواہش اور امیدوں کے کفن میں آخری کیل ثابت ہؤا۔
شروع میں موجودہ دولت اسلامیہ جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعدد ناموں سے متحرک رہی تھی، عرب ملکوں سے آنے والی امداد اور اتحادی ممالک کی طرف سے ملنے والے اسلحہ کے زور پر شام میں پاﺅں جمانے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ اس دوران عرب ملکوں کی طرح اس کے مغربی اتحادیوں نے بھی اس مضبوط ہوتے ہوئے شدت پسندہ گروہ کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس وقت تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ گروہ بھی شام میں مصروف جنگ متعدد عسکری گروہوں میں سے ایک ہے۔ ان کے جذبے اور حربی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک بار دمشق پر قبضہ کر لیا جائے تو گروہ از خود تحلیل ہو جائیں گے یا انہیں فری سیرین آرمی کا حصہ بنا لیا جائے گا۔ مغربی منصوبہ بندوں نے اس موقع پر یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس سے پہلے عراق میں یہ عناصر شیعہ حکومت کے لئے شدید مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتے رہے تھے۔ امریکہ کی سربراہی میں ان عناصر سے نبرد آزما ہونے کے لئے کئی فوجی اور سیاسی منصوبے بنائے گئے تھے جو کبھی مکمل طور سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیونکہ نہ سابق عراق وزیراعظم نور المالکی نے اپنی فرقہ وارانہ پالیسیاں تبدیل کیں اور نہ ہی وہ ایک مستحکم عسکری قوت کھڑی کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ اس کے برعکس مختلف مسالک اور گروہوں نے زیادہ عسکری قوت اور اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔
مغرب اور عربوں کی چہیتی فری سیرین آرمی تو دمشق میں قبضہ نہ کر سکی اور نہ بشار الاسد اقتدار سے دستبردار ہونے پر راضی ہوئے لیکن اپنی قوت بڑھاتے ہوئے داعش نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے گزشتہ برس جون میں دولت اسلامیہ کے نام سے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا اور داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی اس نئی اسلامی خلافت کا پہلا خلیفہ مقرر ہؤا۔ اگرچہ یہ کامیابی دہشت گردی اور فرقہ پرستی کی کوکھ سے جنم لینے والی تحریک اور گروہ کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی لیکن اس کے بعد بھی البغدادی کی سرکردگی میں قائم دولت اسلامیہ نے نفرت ، خوں ریزی ، قتل و غارتگری اور نسل کشی کی پالیسیاں ترک نہ کیں۔ یہ گروہ اپنی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے یہ اعلان کرتا رہا کہ اس کے زیر نگیں علاقوں کو مسلمانوں کے لئے جنت نظیر بنا دیا گیا ہے اور یہ ” ریاست “ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر کا انتقام لے گی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس گروہ کی طرف سے کبھی فلسطین یا کشمیر کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کا اعلان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی گزشتہ برس غزہ پر اسرائیل کے شرمناک اور تباہ کن حملوں کے دوران دولت اسلامیہ کی قیادت نے غزہ کے مظلوموں کی مدد کرنے کی بات کی۔
دولت اسلامیہ نے اسلامی خلافت قائم کرنے کے باوجود ظلم و ستم کی نئی مثالیں قائم کیں۔ لوگوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔ عورتوں کو یرغمال بنا کر انہیں جبری آبرو ریزی کا نشانہ بنایا گیا اور غلاموں کی خرید و فروخت کو اسلامی شعار قرار دیتے ہوئے محکوم عورتوں کی منڈیاں لگائی جاتی رہیں، جہاں انہیں عام جنس کی طرح فروخت کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک میں یہ نظریہ بھی فروغ پانے لگا تھا کہ یہ گروہ پاﺅں جمانے کے بعد جب مملکت استوار کرنے کے کام میں مصروف ہو گا تو مظالم کا سلسلہ بھی تھم جائے گا اور شاید ان علاقوں میں ایک ایسی ریاست وجود میں آ جائے گی جسے بالآخر دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ داعش کی قیادت جس طرح اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہی ہے، اس نے اسی طرح اسلامی خلافت کو بھی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں سے وسائل بٹورنے ، جنگجو بھرتی کرنے اور اپنی دہشت گردی کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ یہ گروہ کبھی بھی کوئی ایسی مملکت قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا جہاں اسلامی نظام کے تحت معاملات چلائے جائیں یا اسے باقادہ ریاست کی شکل دیتے ہوئے اپنے زیر نگیں علاقوں میں مساوات ، عدل و انصاف کا بول بالا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وسیع علاقوں پر تصرف حاصل کرنے، مالی وسائل دستیاب ہونے، فوجی لحاظ سے محفوظ ہونے اور ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے کا موقع ملنے کے باوجود، اس مقصد کے لئے کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس داعش نے نئی خلافت کے لئے دنیا اور علاقے میں خیر سگالی کے جذبات پیدا کرنے کی بجائے نفرت اور دہشت کو عام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے پروپیگنڈا کا بنیادی مقصد بھی دنیا کے سامنے اپنی ایک ایسی تصویر پیش کرنا تھا جس سے خوف و ہراس پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گرفتار ہونے والے مغربی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو ہلاک کرنے کے ہولناک طریقے اختیار کئے جاتے اور پھر ان کی بڑھ چڑھ کر تشہیر کی جاتی۔ گزشتہ جون میں اسلامی خلافت قائم کرنے کے اعلان کے بعد سے داعش نے کبھی ذمہ دار گروہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ بلکہ کرد اور شیعہ آبادیوں کے علاوہ دیگر ہمسایہ ملکوں کو بھی دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی حکمت عملی کی وجہ سے اسلامی خلافت کا نعرہ جلد ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔ دنیا میں اس نئی ریاست کے حوالے سے جو امید پیدا ہوئی تھی، وہ جلد ہی دم توڑنے لگی۔
داعش کے جابرانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے ہی امریکہ کی سرکردگی میں 50 ملکوں کے اتحاد نے گزشتہ برس کے آخر سے ان علاقوں پر بمباری شروع کی اور اس گروہ کی قوت کو کم کرنے اور اس کے مظالم کو روکنے کا سلسلہ شروع ہؤا۔ اس کے جواب میں دولت اسلامیہ نے مزید ظلم اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب سمیت متعدد ملکوں میں خود کش حملے کروائے گئے اور اب فرانس میں قتل عام کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ گروہ صرف انتشار پیدا کر کے دنیا کو گروہوں میں تقسیم کروانے کا خواہشمند ہے تا کہ ایک بڑا تصادم جنم لے سکے جس میں یہ گروہ اور انہی خیالات کے حامل عناصر دنیا کے وسیع حصوں میں اثر و رسوخ حاصل کر سکیں۔
پیرس حملے اگر داعش کی صلاحیت اور مغربی ممالک میں اس کے رسوخ کی علامت ہیں تو ان سے اس کے باہمی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا قیاس بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اتحادی ممالک کے بعد اب روس کی مداخلت اور بشار الاسد حکومت کو مضبوط کرنے کے اعلان کی وجہ سے اس گروہ کو اپنا انجام قریب نظر آ رہا ہو۔ اور وہ خود ہی شام اور عراق کے علاقوں پر حکمرانی ختم کر کے کسی دوسرے ملک میں گروہ بندی کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں۔ روس کے بعد فرانس اور دیگر ممالک اب داعش کے خلاف جنگ کو تیز کریں گے۔ اس آڑ میں اس گروہ کی جانب سے مزید دہشت گرد حملے کر کے ایک ایسی صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے کہ اس کی اہم قیادت دوسرے علاقوں میں منتقل ہو سکے۔ یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ داعش لیبیا میں خود کو مستحکم کر رہی ہے۔ صومالیہ اس حوالے سے ایک زرخیز ملک ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ داعش اپنا اگلا پڑاﺅ یمن میں ڈالنے کی کوشش کرے گی۔
سعودی عرب، یمن میں حوثی قبائل کے خلاف مصروف جنگ ہے۔ داعش کے ہرکارے سنی عسکری گروہوں کی صورت میں سعودی جنگ کے دست و بازو بن کر خود کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ تاہم جونہی انہوں نے قوت اور وسائل حاصل کر لئے تو وہ شام و عراق کی طرح وہاں کے بعض علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ یا سعودی جنگ کا حصہ بن کر سعودی سرزمین میں داخل ہونے اور وہاں سرگرم ہونے کی کوشش کریں۔ سعودی عرب میں داعش کے لئے ہمدردی بھی موجود ہے، وہاں کا دینی مزاج بھی داعش کے نظریات کے مطابق ہے اور اس گروہ نے وہاں اپنے ٹھکانے بھی بنائے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور کویت میں دہشت گرد حملے سعودی باشندوں نے ہی کئے تھے۔ یہ صورتحال شام و عراق میں داعش کی موجودگی اور تباہ کاری سے زیادہ خطرناک ، مشکل اور قابو سے باہر ہو گی۔ ایسی صورت میں ایک وسیع ، طویل اور دشو ار جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ جو شاید تیسری عالمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔