جہلم پرملائیت کا قبضہ

ایک مرتبہ پھر پاکستانی معاشرہ میں پھلنے پھولنے والی ملائیت نے وحشیانہ رقص کیا ہے اور اس مرتبہ یہ اعزاز جہلم کو ملا جہاں جمعہ کی شام 20نومبر کو نصف صدی سے قائم ایک چپ بورڈ کی فیکٹری جو احمدیہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شخص کی ملکیت تھی، نذر آتش کردی گئی۔ دینی رہنماؤں کے اکسانے پر ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کیا او ر فیکٹری کو آگ لگا ئی۔ جس منظم طریق سے ساری کاروائی کی گئی اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس واقعہ میں احمدیوں کو ایک بار پھر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس فیکٹری میں حسب معمول کام ہورہا تھا کہ مقامی مولویوں کی طرف سے گردونواح کی مساجد سے لاوڈسپیکرز کے ذریعے اعلان کرائے گئے کہ فیکٹری میں چپ بورڈ کی تیاری کے لئے قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ ان شرانگیز اعلانات کے نتیجہ میں لوگوں میں اشتعال پھیل گیا اور لوگوں نے مشتعل ہجوم کی شکل میں بغیر تحقیق کے فیکٹری پر حملہ کردیا۔ پولیس نے بروقت کاروائی سے فیکٹری میں موجود افراد کو بمشکل نکالا۔اس ساری کاروائی میں فیکٹری کے احاطے میں موجود آٹھ گاڑیاں بھی جلا دی گئیں تھیں۔

پاکستان کی سوسائٹی میں ہجوم کی طرف سے اس طرح کی دہشتگردی اور شر انگیزی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی بہت سے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں شرپسند مولویوں کی طرف سے جھوٹے شرانگیز اعلانات کے بعد لوگوں کو مشتعل کرکے ایسی مذموم کروائیاں کرائی گئیں۔گزشتہ سال27جولائی کو ماہ رمضان کے مہینہ میں گوجرانوالہ میں ایسے ہی ایک واقعہ میں تین احمدی خواتین کو زندہ جلادیا گیا ۔ بعد میں تحقیق سے لگایا جانے والا الزام جھوٹا ثابت ہؤا تھا۔ آج کل پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی بقاء اور اس کی سالمیت کے لئے ایک جنگ لڑی جارہی ہے۔ ان حالات میں یہ واقعہ ان لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے جو ملائیت اور ملا ازم کے لئے نرمی کا گوشہ رکھتے ہیں ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت کی سیاسی طاقت کے ذریعے پاکستان کو کمزور اور ایک ناکام ریاست بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ کوششیں بتدریج کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں۔

ماضی میں بھی اس قسم کے شرمناک اور شرانگیز واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ تاہم اکثر صورتوں میں مذہبی اقلیتوں پرلگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہوئے تھے۔ جولائی2010میں گوجرانوالہ میں مشتعل ہجوم نے ایک حافظ قرآن حافظ ساجد طارق کو جو پولیس کی تحویل میں تھا، کو سنگسار کر کے اس کی نعش کو آگ لگا کر جلا دیا۔ سڑکوں پرنعش کی بے حرمتی گئی ۔ اس واقعہ میں بھی لاؤڈسپیکرز کے ذریعے شرانگیز اعلانات کئے گئے تھے۔جولائی2009 میں گوجرہ میں ایک مشتعل ہجوم نے مسیحی کالونی پر حملہ کرکے اس کو نذرآتش کردیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں آٹھ مسیحی افراد زندہ جل گئے تھے۔ اسی طرح مارچ2013 لاہور میں بادامی باغ میں مسیحی کالونی کو ہجوم نے آگ لگا دی تھی جس میں125مکان جلا دئے گئے ۔ قصور میں شمس آباد میں احمدیوں کے گھروں پر مولویوں کے اشتعال دلانے پر ہجوم نے حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اوراحمدیوں کو ان کے گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔ انہیں علاقہ سے بیدخل کرا دیا تھا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ سیالکوٹ کے نواحی گاوں جنڈو ساہی میں جون2006میں رونما ہؤا تھا۔ ایک مشتعل ہجوم نے احمدیہ عبادت گاہ اور احمدی گھروں کو لوٹ کر جلادیا تھا ۔ حال ہی میں کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی میاں بیوی کو بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔

ان واقعات میں اشتعال انگیزیاں مشترک تھی۔ یہ کام کرنے کے لئے مساجد کے اماموں نے مسجد کے لاؤڈ سپیکرز کا ناجائز اور غلط استعمال کیا ۔ جس کے نتیجے میں ایسے شرمناک غیر قانونی واقعات رونما ہوئے ۔ پولیس کا کردار ان تمام واقعات میں بے بس اور بے اختیار ادارے کی ماندسامنے آیا ہے ۔ گزشتہ واقعات کی طرح یہاں بھی پولیس ناکام ہو گئی اور رینجرز کو بلانا پڑا۔مذہب کا استعمال ایک ہتھیارکے طور پر کیا گیا۔نیشنل ایکشن پلان اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے لیکن اگر کوئی اسین حرکتوں کو پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت سمجھتا ہے تو وہ ایک دیوانے کے خواب کی ماندہے ۔ جہلم کے اس واقعہ سے ان سازشوں کا پتہ چل رہا ہے جو مولوی اور مذہبی جماعتیں سالہاسال سے اسلام کے نام پر کر رہی ہیں۔ اسی کے باعث حکومتی رٹ کمزور تر ہو رہی ہے ۔قانون اور عدل کی آنکھوں پر تعصب کی عینک لگا دینے سے خود ریاست کے لئے مسائل پیدا ہونگے۔راول پنڈی کے کمشنر، فوج کے نمائندہ برگیڈئیر الیاس نے متاثرہ مقامات کا دورہ کیا اور صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ یہ امر باعث تعجب ہے کہ فیکٹری کو آگ لگا دینے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں بھی احمدیوں کی عبادت گاہ کو کس طرح جلا دیا گیا۔

جہلم کا یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اس کی مکمل تحقیق و تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ہوم سیکرٹری پنجاب، ایجنسیوں اور دیگر سرکاری اداروں کے نمائیندوں کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ کمشنر راولپنڈی کے ساتھ جہلم کی مذہبی جماعتوں کی میٹنگ کے بعد احمدیہ کمیونٹی کی جلا ئی جانے والی عباد تگاہ کو سیل کردیا ہے۔ اس پر مولویوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔