دہشت گردی کا کھیل
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- بدھ 25 / نومبر / 2015
- 5292
گزشتہ دنوں روس کے صدر پوٹن نے ایران کا دورہ کیا اور آج ترکی نے شام کی سرحد کے قریب روس کا جنگی طیارہ مار گرایا۔ ترکی کے الزام کے مطابق روسی جنگی طیارہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے گرایا گیا ہے۔ روسی صدر پوٹن نے طیارہ گرانے کے عمل کو دہشت گردوں کے حامیوں کی جانب سے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بد تہذیبی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی نیٹو کا رکن اور امریکہ کا اتحادی ہے۔
روسی طیارے کا گرایا جانا مشرق وسطی اور خلیج فارس کے تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی منظر میں اہم تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ روسی صدر پوٹن اور ایرانی قیادت نے اس خطے میں قیام امن اور شام میں پرامن جمہوری تبدیلی پراتفاق کرتے ہوئے داعش کے علاوہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمہ کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔ روس اور ایران کا مشرق وسطی میں بڑھتا ہؤا کردار مغربی عالمی طاقتوں سے زیادہ سعودی عرب اور ترکی کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ سعودی عرب اس خطے میں ایران اور شام کو داعش سے بھی زیادہ خطرناک گردانتا ہے۔ جبکہ ترکی اس ابھرتے ہوئے نئے اتحاد کو خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے پشت پناہ امریکہ کی گذشتہ کئی دہایئوں سے جاری پالیسیوں نے مسلسل بیک فائر کیا ہے۔ امریکہ کے سٹریٹجک اور معاشی مفادات اور سعودی وہابی سلطنت کے توسیع پسندانہ عزائم نے اس خطے میں مسلسل جنگوں، خانہ جنگیوں، مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے تحفے دئیے ہیں۔ لاکھوں عوام ان کے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاکھوں کو کسمپرسی کے عالم میں گھربار چھوڑنے پر مجبورکر دیا گیا۔
دہشت گردی صرف مشرق وسطی، گلف ریاستوں، پاکستان اور افغانستان تک محدود نیہں رہی۔ اب دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند یورپ اور امریکہ کے گلی کوچوں میں بھی دندنا رہے ہیں۔ پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد یورپ کے شہریوں پر ٖخوف طاری ہے تو ان ملکوں میں آباد تقریبا پونے دو کروڑ مسلمان بھی نفرت، امتیازی سلوک اور خوف کی نئی لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔
روس کے مشرق وسطی میں نئے اور مؤثر کردار کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے روس کے اس نئے کردار کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ روس اور ایران کی مؤثر مدد کے بغیر شام کا پرامن سیاسی حل نکالنا اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس بدلتے ہوئے سیاسی منطرنامے میں سعودی وہابی سلطنت کو پریشانی کا لاحق ہونا لازمی امر ہے۔ کئی دہایئوں کے بعد اب ایران سیاسی تنہائی سے نکل رہا ہے۔ حالات کا رخ سعودی عرب کو سیاسی تنہائی کا شکار کر سکتا ہے۔ سلفی وہابی نظریات سے مسلح گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کی سیاسی اور مالی مدد کا منبع سعودی عرب کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ مسلم دنیا تک محدود دہشت گردی اب یورپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ کیا امریکہ اور یورپ اب بھی سعودی وہابی سلطنت کو یہ کھیل جاری رکھنے کی اجازت دیتے رہیں گے، جس کے خوف سے یورپ کے درودیوار لرز اٹھے ہیں۔